قرض ملنے کی امید نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
زید نے عمر کو مکان بنانے کے لیے بڑی رقم بطورِ قرض دی، بعض وجوہات کی وجہ سے مکان کی تعمیر کا کام ملتوی ہو گیا، پھر عمر نے وہ رقم زید کی اجازت سے مسجد کی تعمیر میں لگادی چونکہ عمر مسجد کا چیئرمین تھا لیکن بعد میں مسجد کی کمیٹی والوں نے اس کا اخراج کر دیا اور قرض ادا کرنے سے بھی ان کار کر دیا کہ عمر اپنی ذاتی رقم سے زید کا قرضہ ادا کر دے، اب بظاہر زید کے قرضہ کے وصول ہونے کی کوئی امید نہیں ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بڑی رقم پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ نیز بالفرض اگر وصول ہو جائے تو گزشتہ کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اس قرض کا حکم مالِ ضمار کی طرح ہے کہ ملک تو ہے لیکن قبضہ نہیں ہے اور بظاہر واپسی کی امید بھی نہیں ہے بنا بریں نہ تو فی الحال زکوٰۃ واجب ہے اور نہ واپسی کے بعد گزشتہ کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے ۔
البتہ اس پر یہ اشکال وارد ہو سکتا ہے کہ زید کے پاس ثبوت ہے اور کو رٹ میں جا کر مقدمہ دائر کر کے اپنا قرض وصول کرنے پر قادر ہے تو پھر مالِ ضمار کی طرح کیسے ہوا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ آج کل کو رٹ کا نظام عجیب و غریب ہے کہ کا روائی میں سال ہا سال گزر جاتے ہیں اور اخراجات بھی زیادہ ہو جاتے ہیں اس کے باوجود نتیجہ مشکل سے باہر آتا ہے، پھر ہر ایک کو رٹ میں جانا پسند بھی نہیں
كرتا ل
ہذا ثبوت اور بینہ کا اس زمانہ میں کوئی خاص اعتبار نہیں ہوگا ۔
ہاں جس جگہ ان چیزوں کی سہولت ہو اور حقدار کا حق بینہ کے ذریعہ بآسانی حاصل ہو جاتا ہو تو وہاں حکم مختلف ہو گا عام قرض کی طرح ہوگا کہ خمس پر قبضہ کرے تو زکوٰۃ ادا کرے یا کئی سالوں بعد وصول ہو تو گزشتہ کی بھی واجب ہو گی ۔ اور یہ حکم اُس زمانہ کے لیے تھا جس زمانہ میں اقرار کی وجہ سے دین وصول کرنا ممکن تھا، نیز علامہ شامی رحمه الله نے علامہ رحمتی سے نقل فرمایا ہے کہ اِ س زمانہ میں مدیون مقر مالدار ہوتا ہے پھر بھی دین وصول کرنا ممکن نہیں ہوتا بلکہ دین بمنزلہ عدم ہوتا ہے ۔
نیز بینہ کے عدمِ اعتبار کی ایک نظیر یہ بھی ہے کہ امام محمد رحمه الله سے منقول ہے کہ اگر مدیون بینہ کا انکار کر دے تو دائن پر اس دین کی زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی کیوں کہ ہر بینہ مقبول نہیں ہوتے اور ہر قاضی عادل بھی نہیں ہوتا ۔
بعض آثار سے پتا چلتا ہے کہ مالِ ضمار جس کے وصول ہونے کی امید نہ ہو اس مال میں زکوٰۃ نہیں ہے ۔
أخرج القاسم بن سلام الهروي في "الأموال" (۸۹۲) قال: حدثنا يزيد، عن هشام، عن الحسن، قال: "إذا حضر الشهر الذي وقت الرجل أن يؤدي فيه زكاته أدي كل مال له وكل ما ابتاع من التجارة، وكل دين إلا ما كان منه ضماراً لا يرجوه".
أخرج الإمام البيهقي في سننه الكبرى (٤/۱۵۰/۷۸۷٦) عن أيوب بن أبي تميمة السختياني: أن عمر بن عبد العزيز كتب في مال قبضه بعض الولاة ظلماً يأمر برده إلى أهله وتؤخذ زكاته لما مضى من السنين، ثم أعقب بعد ذلك بكتاب أن لا تؤخذ منه إلا زكاة واحدة فإنه كان ضماراً. قال أبو عبيد: يعني الغائب الذي لا يرجي.
فقہاء کے ہاں مالِ ضمار کی تعریف اور اس کا حکم:
قال في البحر الرائق: وهو في اللغة الغائب الذي لا يرجي فإذا رجي فليس بضمار
وفي الشرع: كل مال غير مقدور الانتفاع به مع قيام أصل الملك كذا في البدائع. (البحر الرائق: ۲/۲۰٦، ۲۰۷). (وكذا في البدائع: ۲/۹، سعيد).
قال في العناية: وقالوا: الضمار ما يكون عينه قائماً ولا ينتفع به
(العناية علي هامش فتح القدير: ۲/۱٦٤، دار الفكر).
قال في رد المحتار: (ولو له بينة في الأصح)
قال السرخسي رحمه الله: والصحيح جواب الكتاب أي الأصل إذ ليس كل قاض يعدل ولا كل بينة تقبل والجثو بين يدي القاضي ذل وكل أحد لا يختار ذلك
ومال الرحمتي إلى هذا وقال: بل في زماننا يقر المديون بالدين وبملاء ته ولا يقدر الدائن على تخليصه منه فهو بمنزلة العدم. (فتاوى الشامي: ۲/۳٤٤، سعيد وكذا في: ۲/۳٦۳). (وكذا في البحر الرائق: ۲/۲۰۷، سعيد).
وقال في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: فلو له بينة تجب لما مضى در، قال في تحفة الأخيار: وينبغي أن يجري هنا ما يأتي مصححاً عن محمد من أنه لا زكاة فيه لأن البينة قد لا تقبل فيه. (حاشية الطحطاوي، ص۷۱٦، ط: قديمي).
قال في مجمع الأنهر: بخلاف دين على مقر ملي أي غني أو معسر لأن الدين على المعسر ليس كالهالك لا مكان الوصول بواسطة التحصيل
أو جاحد عليه بينة هذا على قول أكثر المشايخ وعن محمد لا تجب الزكاة إذ ليس كل قاض يعدل ولا كل بينة تعدل وقال شمس الأئمة هو الصحيح كما في الخانية والتحفة. (مجمع الأنهر: ۱/۲۸۸، كتاب الزكاة، ط: دار الكتب العلمية).
امداد الفتاوی میں ہے:
اس میں اقوال مختلف ہیں، اور ہر جانب تصحیح بھی کی گئی ہے، جس کی تفصیل رد المحتار میں موجود ہے، بندہ کے نزدیک ان اقوال میں سے قولِ مختار یہ ہے کہ جس قرض کے وصول ہونے کی امید ضعیف ہو یا بالکل نہ ہو قبل وصول اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہو گی، اور وصول کے بعد جس قدر وصول ہو گا بعد حولانِ حول آئندہ صرف اسی قدر پر زکوٰۃ واجب ہو گی،
ومتمسكي فيه ما في رد المحتار بعد نقل عبارة النهر عن الخانية قوله، قلت: وقدمنا أول الزكاة اختلاف التصحيح فيه ومال الرحمتي إلى هذا
الخ. (
امداد الفتاوی: ۲/٦۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.