بغیر قبضہ کے ہبہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #290Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

ایک شخص کا انتقال ۲۰۰٦ ؁ء میں ہوا تھا، اس نے ایک وصیت نامہ میں لکھا تھا کہ میرے مرنے کے بعد میرا ترکہ میرے ورثاء میں شریعت کے مطابق تقسیم کر دیا جائے، اس شخص کے انتقال کے نو مہینے بعد اس کے ایک لڑکے یحیی نے ترکہ میں سے ایک زمین کا دعوی کیا کہ والد نے اس کو اپنی حیات میں بتاریخ ۲/مارچ ۲۰۰٤٤ ء میں یہ زمین ہبہ کی تھی، اور دعوے کے ثبوت کے لیے ایک تحریر پیش کی جس میں ہبہ کی تصریح موجود ہے اور اس تحریر پر یحیی کے لڑکے محمد اور ایک غیر مسلم افریقی عورت کے دستخط موجود ہیں، ان کے علاوہ کوئی اور گواہ نہیں، نیز یحیی صاحب نے اس زمین پر قبضہ بھی نہیں کیا تھا، اور نہ وہ زمین اپنے نام پر رجسٹر کروائی تھی، مزید براں دیگر ورثاء کو اس کے متعلق کچھ علم بھی نہیں، کیا صورتِ مسئولہ میں یہ زمین یحیی صاحب کی سمجھی جائے گی یا اس زمین میں سب ورثاء شریک ہوں گے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ہبہ تام نہیں ہوا، وجہ یہ ہے کہ ہبہ تام ہونے کے لیے قبضہ ضروری ہے، اور قبضہ متحقق نہیں ہوا، دوسری وجہ یہ ہے کہ تحریر ی معاہدہ پر جن گواہوں کے دستخط ہیں ان کی گواہی بھی قابل قبول نہیں، کیوں کہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں قابل قبول نہیں، اسی طرح غیر مسلم کی گواہی مسلمان کے خلاف مقبول نہیں، بنا بریں متروکہ زمین یحیی صاحب کی ملکیت میں داخل نہیں ہوئی اس وجہ سے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ سہامِ شرعی تقسیم ہو گی ۔ در مختار میں ہے:

وشرائط صحتها في الموهوب أن يكون مقبوضاً غير مشاع مميزاً غير مشغول

وتتم الهبة بالقبض الكامل. (الدر المختار: ۵/٦۸۸، ٦۹۰، كتاب الهبة، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

منها (شرائط الهبة) أن يكون الموهوب مقبوضاً حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۷٤).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولا شهادة الولد لوالديه وأجداده وجداته من قبلهما وإن علو. (الفتاوى الهندية: ۳/٤٦۹ كتاب الشهادات، الفصل الثالث فيمن لا تقبل شهادته للتهمة).

در مختار میں ہے:

فيشترط الإسلام لو المدعي عليه مسلماً. (الدر المختار: ۵/٤٦۲، كتاب الشهادات، سعيد).

فتاوی عثمانی میں ہے:
شرعاً ہبہ کے لیے تحریری ہبہ نامہ مرتب کرنا ضروری نہیں، یعنی زبانی بھی ہو سکتا ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ جس شخص کو ہبہ کیا گیا ہے وہ ہبہ شدہ چیز پر قبضہ کر لے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/٤٤۳، کتاب الہبہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.