بغیر قبضہ کے صرف زبانی ہبہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #282Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

ایک باپ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ میں نے تجھ کو یہ گھر دے دیا لیکن گھر بیٹی کے نام پر رجسٹر نہیں کیا والدین اس گھر میں رہتے تھے اور گھر کا سارا خرچہ برداشت کرتے تھے، بیٹی اور والدین سب سمجھتے تھے کہ یہ گھر بیٹی کا ہے، اب والدین کے مرنے کے بعد دوسرے ورثاء اس گھر میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں اور بیٹی دعوی کر رہی ہے کہ والدین نے اس کو یہ گھر ہبہ کر دیا، برائے مہربانی بتلا دیجیے کہ گھر کا صحیح مالک کون ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ باپ نے بیٹی کو صرف زبانی طور پر گھر ہبہ کیا تھا اور باپ نے بیٹی کو اپنی زندگی میں مالکانہ قبضہ نہیں دیا تھا، لہذا ہبہ صحیح نہیں ہوا اور گھر تمام ورثاء کے درمیان حسبِ سہام شرعی تقسیم ہوگا۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

منها (شرائط الهبة) أن يكون الموهوب مقبوضاً حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۷٤).

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
ہبہ تام اور صحیح ہونے کے لیے قبضہ کامل شرط ہے، در مختار میں ہے:
شرائط صحتها في الموهوب أن يكون مقبوضاً غير مشاع مميزاً غير مشغول

وتتم الهبة بالقبض الكامل. (الدر المختار: ۵/٦۸۸).

لہذا جب کہ مرحوم تا حین وفات جائداد پر خود ہی قابض و متصرف رہا ہے اور اس کی زندگی میں لڑکا اور لڑکی کا مالکانہ قبضہ اور تصرف ثابت نہیں ہے تو یہ ہبہ معتبر نہیں ہے، جملہ ورثاء وارث ہیں وہ اپنے حصے لے سکتے ہیں فتاوی مہدویہ میں ہے:

إذا مات الواهب قبل قبض الموهوب له الهبة بطلت وتكون ميراثاً من الواهب كما في متروكاته. (٤/۵۷۳).
(ماخوذ از فتاوی رحیمیہ: ۳/177) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.