والد کا بیٹے کو دکان ہبہ کرنے کا حکم:
Question
ایک والد نے اپنے بیٹے کو ایک دکان ہبہ کی باپ تصرف نہیں کرتا ہے، صرف بیٹا تصرف کرتا ہے، لیکن والد روزانہ دکان پر آ کر بیٹھتا ہے، حساب کتاب وغیرہ سب امور بیٹا ہی انجام دیتا ہے، شرعاً بیٹے کا قبضہ ہو گیا یا نہیں؟ اور اگر والد بھی تصرف کرتا ہے تو پھر کیا حکم ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر باپ نے بیٹے کو دکان ہبہ کر کے قبضہ بھی دے دیا تو دکان بیٹے کی ملکیت میں آ گئی، اگر چہ قبضہ کے بعد باپ کبھی کبھی یا ہمیشہ بیٹھتا ہو، اور اگر باپ نے ہبہ کر لیا لیکن دکان اپنے قبضے میں رکھی تو بیٹے کی ملکیت نہیں آئی دکان بدستور باپ کی ملکیت میں رہے گی۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وشرائط صحتها في الموهوب أن يكون مقبوضاً غير مشاع مميزاً غير مشغول. وفي الشامية: وتصح الهبة بـ "كوهبت"، وفيه دلالة على أن القبول ليس بركن كما أشار إليه في الخلاصة وغيرها، وذكر الكرماني أن الإيجاب في الهبة عقد تام، وفي المبسوط أن القبض كالقبول في البيع. (فتاوى الشامي مع الدر المختار: ۵/٦۸۸، كتاب الهبة، سعيد).
(وكذا في تبيين الحقائق: ۵/۹۲، ملتان).
وفي رد المحتار: وفي شرح المجمع لا بن ملك عن المحيط لوكان أمره بالقبض حين وهب لا يتقيد بالمجلس ويجوز قبضه بعده. (فتاوى الشامي: ۵/٦۸۸، كتاب الهبة، سعيد).
نیز مذکور ہے:
وفي خزانة الفتاوى: إذا دفع لا بنه مالاً فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري، قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئاً وقبضه ولم يتلفظ واحد منهما بشيء. (فتاوى الشامي: ۵/٦۸۸، كتاب الهبة، سعيد).
وفي الفتاوى الهندية: رجل دفع إلى ابنه في صحته مالاً يتصرف فيه ففعل وكثر ذلك فمات الأب إن أعطاه هبة فالكل له وإن دفع إليه لأن يعمل فيه للأب فهو ميراث كذا في جواهر الفتاوى. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۹۲).
خلاصہ یہ ہے کہ اگر مکمل تصرفات بیٹے کے ہاتھ میں ہے تو بیٹے کا قبضہ سمجھا جائے گا اور ہبہ تام ہو جائے گا، اور اگر باپ نے تمام تصرفات اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں تو قبضہ متحقق نہ ہونے کی وجہ سے ہبہ تام نہیں ہوگا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.