ہبۃ المشاع من الشریک کا حکم:
Question
کاغذات میں بیوی اور شوہر کی مشترکہ دکان ہے، شوہر نے بہت سارے لوگوں کے سامنے کہا کہ میں نے یہ دکان بیوی کو دے دی اور قبضہ بیوی کا ہے شوہر بھی دکان پر جاتا ہے لیکن باہر کا کام زیادہ کرتا ہے تو بیوی اس دکان کی مالکہ بن گئی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شوہر کا یہ کہنا کہ میں نے یہ دکان بیوی کو دے دی ہبہ ہے اور قبضہ تو پہلے سے بیوی ہی کا تھا لہذا ہبہ تام ہو گیا اور بیوی دکان کی مالکہ بن گئی، کاغذات میں جس کا نام ہو شرعی ہبہ اس سے متاثر نہ ہوگا۔ پھر چونکہ دکان اکثر غیر منقسم چیز کی طرح ہے لہذا بغیر تقسیم کے اس کا ہبہ درست ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضيخان میں ہے:
وفيما لا يقسم كالعبد والدابة والثوب والحمام يجوز هبة المشاع من الشريك وغيره في قولهم جميعاً. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۳/۲٦۷، كتاب الهبة).
وفي الفتاوى الهندية: وهبة المشاع فيما لا يحتمل القسمة تجوز من الشريك ومن الأجنبي كذا في الفصول العمادية. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۷۸، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة ومالا يجوز).
(وكذا في فتاوى الشامي: ۵/٦۹۲، سعيد. وبدائع الصنائع: ٦/۱۱۹، سعيد).
فتاوی عثمانی میں ہے:
محض کاغذی طور پر جائیداد کے واہب کے نام ہونے سے ہبہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ (فتاوی عثمانی: ۳/٤۵۹)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.