ہبۃ المشاع کا حکم:
Question
زید نے بہ ہوش و حواس اپنے چار بھائیوں کو اپنی زمین ہبہ کر دی اور زمین ان بھائیوں کے قبضہ میں ہے لیکن زمین کو تقسیم کر کے الگ الگ نہیں دی، زید کا انتقال ہو گیا اب زید کی بہنیں اس زمین میں وراثت کا مطالبہ کر رہی ہے، کیا ان کا مطالبہ درست ہے یا نہیں؟
Answer
عام فقہاء یہ تحریر فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک ہبہ مشاع درست نہیں الا یہ کہ تقسیم کر کے دے دے، ہبہ مشاع کا مطلب مجموعہ کا ایک حصہ ہبہ کرنا ہے، فقہ کی عام کتابوں میں یہ مسئلہ بصراحت مذکور ہے اس کے حوالہ کی ضرورت نہیں، لیکن آج کل یہ مسئلہ قابل غور ہے کہ ہبہ مشاع کا عام رواج ہو چکا ہے اور اسلامی قانون کے علاوہ دوسرے قوانین میں یہ ہبہ درست اور تام سمجھا جاتا ہے، بنا بریں فقہاء نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ عرف عام جب نص فقہاء کے خلاف ہو تو عرفِ عام و عرفِ خاص کو ترجیح ہو گی تو بندہ کے خیال میں یہ ہبہ نافذ ہونا چاہیے ہونا چاہیے، ہاں قبضہ دینا ضروری ہے، قبضہ ائمہ ثلاثہ امام ابو حنیفہ رحمه الله، امام شافعی رحمه الله و امام احمد رحمه الله کے نزدیک ضروری ہے، ہبہ مشاع میں قبضہ تو ہوگا لیکن قبضہ ناقص ہوگا قبضہ تام نہیں ہوگا ۔
فقہ کی عام کتابوں میں یہ تحریر ہے کہ شریک اجیر نہیں بن سکتا یعنی دو بھائی کسی کاروبار میں شریک ہیں اور ایک بھائی کے لیے اس کے حصہ کے منافع کے ساتھ تنخواہ مقرر کریں تو یہ جائز نہیں ہے، لیکن حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمه الله نے لمبی تحقیق کے بعد آخر میں لکھا ہے کہ: نص مذہب کو تعامل خاص سے بھی ترک کیا جاتا ہے اور کمپنی کے شرکاء کو اجیر رکھنے کا تعامل عام ہے، لہذا اس بطریق اولی نص مذہب متروک ہو گی ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۳۲۸) ۔
اس سے پہلے تحریر فرماتے ہیں:
ترکِ نص شرعی کے لیے تعامل عام شرط ہے مگر ترکِ نص مذہب کے لیے تعامل خاص بھی کافی ہے ۔ (حوالہ بالا) ۔
چند شواہد ملاحظہ فرمائیں:
٭ "
سرحتك"
کے جملہ کو پرانے فقہاء نے کتابت میں شمار کر کے طلاقِ بائن شمار کیا ہے، لیکن بعد والے فقہاء نے اس کو عرف کی وجہ سے صریح شمار کیا ہے اور بغیر نیت کے طلاق رجعی کا فتوی صادر فرمایا ہے ۔
٭ امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک صرف سلطان کی طرف سے اکراہ شمار کیا جاتا ہے، لیکن امام محمد رحمه الله نے غیر سلطان کی طرف سے اکراہ کو بھی اکراہ شمار کیا ہے ۔
٭ کتابوں کو کرایہ پر دینے لینے کو عام فقہاء نے ناجائز فرمایا ہے، لیکن بعض فقہاء نے عرف کی وجہ سے جواز کا فتوی دیا ہے ۔
كما مر في موضعه.
٭ نیز تضمین الساعی و تضمین اجیر مشترک کا فتوی بھی عرف ہی کی وجہ سے صادر فرمایا گیا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ نص حدیث عرفِ عام اور عرفِ خاص کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے ہیں، ہاں عرفِ عام کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ سکتے ہیں، مثلاً قفیز الطحان کی روایت عرفِ عام کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے لیکن اس پر قیاس شدہ دوسرے مسائل مثلاً کمیشن ایجنٹ جو فیصد پر کام کرتا ہو، عرفِ عام کی وجہ سے یہ جائز ہے، کیوں کہ ضرورت کے علاوہ اس پر عرفِ عام بھی ہے، اسی وجہ سے مشائخ بلخ رحمه الله نے فیصد کے اعتبار سے اجرت کو جائز کہا ہے، یعنی وہ کپڑا سی لے اور نصف یا ربع لے تو اس کو عرفِ عام سمجھ کر جائز کہا، اگر چہ علامہ شامی رحمه الله کو اس کے عرفِ عام ہونے میں تامل ہے، (موجود ہ زمانے میں اس کا اتنا رواج ہو گیا ہے کہ اب اس کے عرفِ عام ہونے میں کوئی شک نہیں ۔)
لیکن نص مذہب یا ظاہر الروایہ کو عرفِ عام جو تمام بلاد میں ہو اور عرفِ خاص جو خاص بلاد میں ہو دونوں کی وجہ سے چھوڑ سکتے ہیں ۔
یہ مسئلہ شرح عقود رسم المفتی اور علامہ شامی رحمه الله کا رسالہ نشر العرف اور عرف پر دوسری کتابوں میں موجود ہے، لہذا اگر ہبہ مشاع میں قبضہ دے کر بغیر تقسیم کے دینے کا عرفِ عام ہو اور آج کل یہ عرف ہے اور قانون بھی ہے تو اس ہبہ کو تسلیم کرنا چاہیے غالباً اسی وجہ سے علامہ انور شاہ کشمیری رحمه الله نے فیض الباری شرح صحیح بخاری (۳/۳۷۰) میں فرمایا ہے:
ثم اعلم أن هبة المشاع لا تتم في أصل المذهب وإن تحقق القبض أيضاً وأفتي المتأخرون بجوازها وبه أفتي وذلك لا ني أتردد في نفس مسألة الشيوع فلست أشدد فيها كالحنفية ولا أوسع فيها كالبخاري بل هي أمر بين الأمرين كما علمت، فإن مرضي الشرع وهو رفع الإبهام والتمييز، والشيوع يخل به، فلا يكون هدراً، كما أهدره البخاري، ولا ضرورياً، كما فهمه الحنفية، بحيث قالوا ببطلان الهبة؛ وبالجملة إذا كان حال الشيوع عندي ما سمعت، فلم أشدد في الحكم ووافقت المتأخرين في جواز هبة المشاع عند القبض. (فيض الباري: ۳/۳۷۵، كتاب الهبة).
قدیم فقہاء میں سے جلیل القدر و رفیع الشان فقیہ علامہ شمس الائمہ سرخسی رحمه الله نے مبسوط میں تحریر فرمایا ہے:
وبالإجماع هبة المشاع فيما لا يحتمل القسمة تتم بالقبض وكذلك عندي فيما يحتمل القسمة جائز. (المبسوط للإمام السرخسي: ۲۱/٦۹، ط: إدارة القرآن).
علامہ سرخسی رحمه الله نے یہ عبارت کتاب الہبہ کے بعد کتاب الرہن میں لکھی ہے ۔
ہاں یہ ضروری ہے کہ نزاع نہ ہو اور اگر نزاع پیدا کرے کہ کون سا حصہ کون لے تو پھر صحیح نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو فیض الباری میں ہے:
والذي أراه أن النهي عنه لكونه مفضياً إلى النزاع، وكل أمر يكون النهي عنه كذلك لا يشدد فيه الشارع بنفسه، بل ربما يغمض عنه أيضاً، فلا ينبغي التشدد فيه، ويدل عليه ما أخرجه البخاري
وفيه فقال رسول الله ﷺ لما كثرت عنده الخصومة في ذلك: فإما لا، فلا تبتاعوا حتى يبدو صلاح الثمر، كالمشورة يشيرها، لكثرة خصومتهم. (فيض الباري: ۳/۳۷۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.