بغیر قبضہ کے صدقہ وہبہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #273Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

ایک شخص نے اپنے گھر میں ایک صندوقچہ (چھوٹا سا بکس) رکھا ہے اور اس میں للہ کی رقم جمع کرتا رہتا ہے، اس رقم سے اپنی واجب یا نفل قربانی کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ نفلی صدقہ اور ہبہ بغیر قبضہ کے تام نہیں ہوتے، لہذا جب تک قبضہ نہیں دیا اس کو اپنے استعمال میں لانا درست ہے، لہذا اس رقم سے واجب یا نفل قربانی کرنا بھی جائز ہوگا ۔
ملاحظہ ہو شرح مجلہ میں ہے:

اعلم أن التمليك بلفظ الصدقة كالتمليك بلفظ الهبة من حيث أنها لا تصح إلا بالقبض. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، ۳/۳۹۸).
تبيين الحقائق
میں ہے:

والصدقة كالهبة لا تصح إلا بالقبض ولا في مشاع يحتمل القسمة لأنه تبرع كالهبة ويلزم فيها ما يلزم في الهبة فامتنعت بدون القبض كالهبة. (تبيين الحقائق: ۵/۱۰٤).

عالمگیری میں ہے:

الصدقة بمنزلة الهبة في المشاع وغير المشاع وحاجتها إلى القبض. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۰٦).
وللاستزادة انظر: (شرح العناية على الهداية: ۹/۵٦. والبحر الرائق: ۷/۲۹۷، كوئته. وفتح باب العناية: ۳/۳۱۹. والاختيار لتعليل المختار: ۳/٦٦).

ہاں اگر یہ صندوقچہ مسجد یا کسی مدرسہ کا ہے اور کسی آدمی نے اس میں صدقہ، للہ کی رقم ڈالی تو عرف میں یہ مسجد یا مدرسہ کو سپرد کر دینے کے مترادف ہے، کیوں کہ صندوقچہ کا قبضہ مسجد کے متولی کے قبضہ کی طرح ہے، لہذا یہ رقم واہب کی ملکیت سے نکل گئی اب رجوع کرنا صحیح نہیں ہے، بایں وجہ ایسے صندوقچہ سے اپنی نفل یا واجب قربانی کرنا درست نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح مجلہ میں ہے:

ويظهر لي من مجموع هذه النقول أن الهبة كما تنعقد بالألفاظ الدالة على التمليك مجاناً لغة أو عرفاً، تنعقد أيضاً بالفعل بطريق التعاطي، لكن مع قرينة لفظية أو حالية، ومنها العرف والعادة، تعين أن ذلك الفعل أريد به التمليك. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: ۳/۳٤۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.