کاغذات پر قبضہ سے ہبہ کی تکمیل کا حکم:
Question
کسی زمین یا دکان کے ہبہ کی تکمیل کے لیے ان کے کاغذات کا قبضہ کافی ہے یا اس کو خالی کر کے موہوب لہ کے ہاتھ میں دینا ضروری ہے؟
Answer
جائیداد کے ہبہ کی تکمیل کے لیے کاغذات پر قبضہ کافی ہے، یعنی کاغذات پر قبضہ کر لینے سے ہبہ تام ہو جائے گا۔ ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
وفي العقار ما يناسبه فقبض مفتاح الدار قبض لها. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۳۹۵).
شرح مجلہ میں ہے:
إعطاء مفتاح العقار الذي له قفل للمشتري يكون تسليماً إذا تهيأ له فتحه من غير تكلفة، كما في البحر ومثله في الهندية والتاتارخانية وغيرهما، والظاهر أن المراد بتهيؤه فتحه من غير تكلف، أن يكون المفتاح مفتاح ذلك العقار، وهو معنى ما في الخانية ونصها: ولو باع الدار وسلم المفتاح فقبض المفتاح ولم يذهب إلى الدار يكون قابضاً. (شرح المجلة، لمحمد الأتاسي، ۲/۱۹۹، المادة: ۲۷۱).
جدید فقہی مباحث میں ہے:
شیئرز سرٹیفیکٹ حاصل ہونے کے بعد خریدار کا اس پر قبضہ متحقق ہو جاتا ہے۔ (جدید فقہی مباحث: ۱٦/۱۹)۔
نیز مذکور ہے:
عرف میں شیئرز کا قبضہ اسی وقت سمجھا جاتا ہے جب کہ سرٹیفیکٹ ہاتھ میں آ جائے، نیز ہر چیز کے قبضہ کا طریقہ عرف ہی سے متعین ہوتا ہے، نیز عرف میں اکثر لوگ بغیر کاغذی ثبوت کے قبضہ کا اعتبار نہیں کرتے ہیں۔ (جدید فقہی مباحث: ۱٦/۱۲٦)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.