ہبہ میں قبضہ عرفی کافی ہے:

5 min readFatwa Vol 5 #296Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

میرے والد نے مجھے ایک بلڈنگ ہبہ کی کاغذات میں میرے نام کر دی گئی، اس بلڈنگ میں دو مکان اور چار دکانیں ہیں، اور ان میں کرایہ دار آباد ہیں، والد کی زندگی میں ان کا کرایہ میں وصول کرتا ہوں، ٹیکس وغیرہ کا معاملہ بھی میرے ذمہ ہے، گویا میں متصرف ہوں صورتِ بالا میں میرا قبضہ ہبہ کی تکمیل کے لیے کافی ہے یا کرایہ داروں کو نکال کر ظاہری قبضہ ضروری ہے، یہ ظاہر ہے کہ کرایہ داروں کو حسبِ معاہدہ نکالنے کی کوئی صورت نہیں ہے؟

Answer

ہر چیز کا قبضہ اس چیز کے مناسب ہوتا ہے کار کا قبضہ یہ ہے کہ چابی مشتری کے حوالہ کر دے، اس صورت میں کاغذات موہوب لہ کے حوالے کرنے سے قبضہ ہو جائے گا، اور والد کی وفات کے بعد دوسرے وارث اس بلڈنگ میں اپنا حق وراثت نہیں مانگ سکتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو رد المحتار میں ہے:

وحاصله أن التخلية قبض حكماً لو مع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع،

قال أجمعوا على أن التخلية في البيع الجائز تكون قبضاً

الخ. (رد المحتار: ٤/۵٦۲، ۵٦۳، مطلب في شروط التخلية، سعيد. وكذا في الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/٤۹۹. والفتاوى الهندية: ۳/۱۹).

جدید فقہی مباحث میں ہے:
قرآن و سنت میں قبضہ کی کو کئی خاص حقیقت نہیں بتائی گئی ہے، بلکہ احادیث میں قبضہ کی مختلف کیفیات کا ذکر ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه کی ایک روایت میں مقام خریداری سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، حضرت زید بن ثابت رضي الله عنه سے روایت ہے کہ تجار خرید کردہ مال کو اپنے کجاوے میں منتقل کر لیں، حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه کی روایت میں ناپ تول کو قبضہ قرار دیا گیا ہے، اسی لیے فقہاء کا اتفاق ہے کہ اس بابت لوگوں کا عرف ہی معیار ہے، جس چیز کے بارے میں جس درجہ کے عمل دخل کو لوگوں کے عرف میں قبضہ تصور کیا جائے وہی اس کے حق میں شرعاً بھی قبضہ مانا جائے گا ۔
علامہ کاسانی رحمه الله فرماتے ہیں:

ولا يشترط القبض بالبراجم، لأن معني القبض هو التمكين والتخلي وارتفاع الموانع عرفاً وعادة حقيقة. (بدائع الصنائع: ۵/۱٤۸، سعيد. جديد فقهي مباحث: ۱۵/۱۲).

اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
امام ابو حنیفہ رحمه الله کا مسلک یہ ہے کہ حسی قبضہ ضروری نہیں بلکہ تخلیہ کافی ہے، تخلیہ کے معنی یہ ہیں کہ مشتری کو اس بات پر قدرت دے دی جائے کہ وہ جب چاہے آ کر مبیع پر قبضہ کر لے جب قبضہ کرنے میں کوئی مانع باقی نہیں رہے تو سمجھیں گے کہ تخلیہ ہو گیا، مثلاً کوئی بکس ہے، اس کے اندر کئی چیزیں رکھی ہوئی ہیں، اس کی چابی اس کے حوالہ کر دی، تو جب چابی حوالے کر دی اب چاہے وہ اٹھائے یا نہ اٹھائے، قبضہ متحقق ہو گیا، امام بخاری رحمه الله نے یہاں امام ابو حنیفہ رحمه الله کا مسلک اختیار کیا ہے اور حضرت جابر رضي الله عنه کا واقعہ موصولاً روایت کیا ہے کہ حضرت جابر رضي الله عنه سے حضور ﷺ نے اونٹ خریدا اور پھر حضرت جابر رضي الله عنه نے اسی اونٹ پر مدینہ منورہ تک سفر کیا، حضرت جابر رضي الله عنه اس سے نہیں اترے لیکن تخلیہ متحقق ہو گیا تھا، امام بخاری رحمه الله یہ کہتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ تخلیہ سے قبضہ ہو گیا ۔ (اسلام اور معاشی مسائل، ۲/۹۸، ۱۰۰) ۔
عطر ہدایہ میں ہے:
قبضہ یعنی دوسرے کی اجازت سے کسی چیز میں تصرف پر قدرت کا حاصل ہونا، اب اگر یہ قدرت مالک کی اجازت سے ہے یا شرعی حق کی وجہ سے تو اس کو قبضہ جائز کہا جاتا ہے ۔ (عطر ہدایہ، ص۸۸) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: و جدید معاملات کے شرعی احکام، ۱/٤۰، ٤۲ ۔ و قاموس الفقہ، ٤/٤٦٦، ٤٦۷) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ قبضہ کی حقیقت عرف پر مبنی ہے، نیز اشیاء کے اعتبار سے بھی فر ق ہوگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں بلڈنگ کا کرایہ وصول کرنا اور اس کا ٹیکس وغیرہ ادا کرنا یعنی ادا کرنا یعنی اس میں مکمل تصرف کا اختیار ہونا یہ قبضہ کے مترادف ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.