ہبۃ المشغول کے جواز کی تدبیر:

3 min readFatwa Vol 5 #298Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

زید کے پاس ایک بڑا مکان ہے جو بارہ کمروں پر مشتمل ہے وہ مکان سامان سے بھرا ہوا ہے اس میں بڑا کتب خانہ، فریزر، فرج، کئی بھاری مشینیں، آلاتِ ورزش، چار پائی، قالین، مطبخ کا سامان وغیرہ موجود ہیں، اس آدمی کے تین بیٹے ہیں، دو کے پاس اپنا مکان ہے ایک کے پاس مکان نہیں اور وہ والد کے ساتھ رہتا ہے اور والد کی خدمت کرتا ہے اور عالمِ دین ہے، زید چاہتا ہے کہ یہ مکان اس عالم بیٹے کو ہبہ کر دوں، لیکن زید سامان نہیں دینا چاہتا، کیوں کہ مرنے کے بعد سامان سب ورثہ میں تقسیم ہونے کو زید بہتر خیال کرتا ہے، اور زندگی میں استعمال کرنا چاہتا ہے، زید خود عالمِ دین ہے، اس کو معلوم ہے کہ مکان ہبہ کرنے کے لیے قبضہ دینا ضروری ہے اور قبضہ کے لیے مکان کو خالی کرنا ضروری ہے، لیکن مکان کو خالی کرنا کارے دارد ہے، اب زید کے لیے کون سی تدبیر ہے کہ مکان بھی ہبہ ہو جائے اور خالی کرنے کی مشقت سے بھی بچ جائے زید ہدایہ پڑھاتا رہتا ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ مکان کو خالی کرنا پڑے گا؟

Answer

زید صحیح فرماتے ہیں کہ قبضہ دینے کے لیے مکان کو خالی کرنا پڑے گا لیکن فقہاء نے اس کی آسان تدبیر تحریر فرمائی ہے کہ جس سے معاملہ آسان ہو جاتا ہے ۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ مکان کا پورا سامان موہوب لہ کے پاس بطورِ ودیعت رکھے اور اس کو قبضہ دے دے جس کے لیے تخلیہ کافی ہے اس کے بعد اس کو مکان ہبہ کر دے اور قبضہ بھی دے دے یعنی مکان کی چابی دے دے اور خود نکل جائے ۔ پھر سامانِ ودیعت جب چاہیں واپس لے سکتے ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں درر الحکام شرحِ مجلۃ الاحکام میں شیخ علی حیدر فرماتے ہیں:

الحيلة في هبة المشغول هي أن يودع المال الشاغل للموهوب له ويسلم إليه أولاً ثم تسلم الدار إليه وفي هذا تكون الهبة والتسليم صحيحين. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام: ۲/۳۹٦، بيروت).
الجوهرة النيرة
میں ہے:

ولو وهب داراً فيها متاع للواهب وسلم الدار إليه وسلمها مع المتاع لم يصح لأن الدار مشغولة بالمتاع والفراغ شرط لصحة التسليم والحيلة فيه أن يودع المتاع أولاً عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فيصح لا نها مشغولة بمتاع هو في يده. (الجوهرة النيرة: ۲/۱۱، كتاب الهبة، مكتبه إمدادية، ملتان).
وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: (۳/۳۹۵، كوئته)، وغمز عيون البصائر شرح الأشباه والنظائر: (۲/۳٤۲، نقلاً عن الجوهرة).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.