دائن کا اپنا دین غیر مدیون کو ہبہ کرنے کا حکم:
Question
زید کا عمر پر پانچ ہزار رینڈ کا قرضہ تھا بکر کے ساتھ زید دائن کی دوستی تھی دائن نے مدیون عمر سے کہا کہ وہ قرضہ مجھے نہ دیں بلکہ بکر کو دے دے، میں نے اس کو ہبہ کیا ہے اور بکر کو کہا تم لے لو، چنانچہ عمر نے بکر کو دے دیا، پھر بکر کے ساتھ زید دائن کے تعلقات خراب ہو گئے اور اب وہ کہتا ہے کہ پانچ ہزار مجھے واپس کر دیں بکر نے وہ رقم خرچ کر لی ہے، چونکہ زید اور عمر دونوں عالم ہیں اس لیے زید نے دلیل میں فقہ کا جزئیہ
"تمليك الدين من غير المديون لا يصح"
پیش کیا اب عمر کیا کرے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جب دائن نے مدیون سے کہا کہ میرا دین بکر کو دے دے اور عمر نے بکر کو دے دیا تو یہ ہبہ مکمل ہو گیا اور زید کا دین بھی ادا ہو گیا اب زید عمر سے مطالبہ نہیں کر سکتا، اور تملیک الدین من غیر المدیون میں جب دائن خود غیر مدیون کو اجازت دے دے تو صحیح ہے اور ہبہ مکمل ہو جاتا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:
أجيب بأن هبة الدين من غير المديون إنما لا تجوز إذا لم يأذن للغير في قبضه فأما إذا وهب الدين من آخر وأذن له في قبضه جاز استحساناً. (فتح القدير، كتاب الكفالة، ۷/۱۹۰، دار الفكر).
عنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
إن تمليك الدين من غير من عليه الدين يصح استحساناً إذا وهبه وأذن له في القبض فقبضه، وهذا لأن ذلك إنما لا يصح لأنه تمليك ما لا يقدر على تسليمه، وإذا أذن له بالقبض صار كأنه أخرجه من الكفالة ووكله بالقبض فقبضه ثم وهبه إياه وحينئذٍ يكون تمليك الدين ممن عليه الدين وهو جائز. (العناية في شرح الهداية على هامش فتح القدير: ۷/۱۹۰، دار الفكر).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما هبة الدين لغير من عليه الدين فجائز أيضاً إذا أذن له بالقبض وقبضه استحساناً والقياس أن لا يجوز وإن أذن بالقبض
وجه الاستحسان أن ما في الذمة مقدور التسليم والقبض ألا ترى أن المديون يجبر على تسليمه إلا أن قبضه بقبض العين فإذا قبض العين قام قبضها مقام قبض عين ما في الذمة إلا أنه لا بد من الإذن بالقبض صريحاً ولا يكتفي فيه بالقبض بحضرة الواهب بخلاف هبة العين. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ٦/۱۱۹، فصل في شرائط الهبة، سعيد).
مبسوطِ سرخسی میں ہے:
هبة الدين من غير من عليه الدين جائز ة، فإذا سلطه عليه فهو مسلط عليه في الجملة أو يجعل ذلك نقلاً للدين منه، بمقتضي الهبة منه فيصير هبة الدين ممن عليه الدين لوأمكن ذلك لأن له ولاية نقل الدين إليه قصداً بإحالة الدين عليه فيثبت ذلك بمقتضي تصرفهما تصحيحاً له. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۲۰/۹۲).
محیط برہانی میں ہے:
أن الواهب لما أمره بالقبض فقد جعله نائباً عن نفسه في القبض فيقع قبض الموهوب للواهب أولاً ثم لنفسه أو أن عمل الهبة ما بعد القبض وبعد القبض هو مال محل للتمليك. (المحيط البرهاني: ۷/۱۷٤).
وللاستزادة انظر: (المحيط البرهاني: ٦/۹۲، و۷/۱۷٤، كتاب الهبة والصدقة. ورد المحتار: ۵/۷۰۸، سعيد. وشرح المجلة: ۳/۳٦۰. والفتاوى الهندية: ٤/۳۸٤. والبحر الرائق: ۷/۲۸٤. وتبيين الحقائق: ۳/۱۱، ملتان).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.