مدیون کا دائن کو ثالث کے حوالہ کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #249Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب: قرض اور دیون کے احکام

Question

بکر خالد کا مقروض ہے اور خالد کے ذمہ عمر کا قرضہ ہے۔ خالد نے عمر سے کہا مجھ سے قرضہ نہ لو بلکہ بکر سے لو وہ میرا مقروض ہے۔ بکر نے منظور کر لیا۔ اب عمر کہتا ہے کہ میں تو خالد سے اپنا قرضہ وصول کروں گا اور خالد دینے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تم نے بکر سے وصول کرنے کو قبول کر لیا تھا۔ اب خالد کا انکار صحیح ہے یا نہیں؟ حاصل یہ ہے کہ مدیون اگر اپنا دین اپنے مدیون کے حوالے کر دے تو کیا دائن مدیون سے لے سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

جب مدیون اپنے دائن کو کسی ثالث کو حوالہ کر دے اور ثالث اس کو قبول بھی کر لے تو اب دائن اپنے مدیون سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ لہذا بصورتِ مسئولہ عمر اپنے مدیون المدیون بکر جو ثالث ہے اس سے وصول کرے گا، خالد سے مطالبہ نہیں کرے گا الا یہ کہ رقم ڈوب جائے تو پھر مدیون سے مطالبہ کر سکتا ہے مثلاً ثالث مر جائے اور کچھ مال و اسباب موجود نہ ہوں یا حوالہ سے انکار کر دے اور حوالہ پر گواہ بھی موجود نہ ہو۔ ملاحظہ فرمائیں صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:

قال وإذا تمت الحوالة بالقبول بري المحيل من الدين قال في الفتح هذا قول طائفة من المشايخ وهو الصحيح من المذهب

ولا يراجع المحتال على المحيل إلا أن يتوى حقه والتوى عند أبي حنيفة رحمه الله أحد الأمرين إما أن يجحد الحوالة ويحلف ولا بينة له عليه أو يموت مفلساً لأن العجز عن الوصول يتحقق بكل منهما وهو التوي في الحقيقة. (الهداية مع فتح القدير: ٦/۳٤۷). -

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.