دائن کے لا پتا ہونے پر قرض کی رقم کا حکم:
Question
ایک شخص نے دوسرے سے قرض لیا، بڑی رقم تھی، اب واپس کرنا چاہتا ہے لیکن دائن کا کچھ پتا نہیں ہے اور کسی بھی طریقے سے رابطہ ممکن نہیں ہے تو اب اس رقم کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ کیا کسی خیر کے ادارے میں دینا درست ہے یا نہیں؟ کہاں تک انتظار کرنا چاہیے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ دائن کی تلاش و جستجو کرنے کے بعد بھی جب کوئی سراغ نہ ملے تو اس کے شرعی ورثاء کو دے دی جائے، لیکن بسیار انتظار کے بعد ورثاء کا بھی کچھ پتا نہ چلے تو کسی معتمد خیر کے ادارے میں دی جا سکتی ہے، ہاں غرباء، فقراء پر تقسیم کر دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا، لیکن یہ بات یاد رہے کہ اگر دائن آگیا اور صدقہ منظور کر لیا تو فبہا ورنہ پوری رقم اس کو واپس کرنی ہو گی اور مدیون کو صدقہ کا ثواب مل جائے گا ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں مذکور ہے:
عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس من عليه ذلك، من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله
هذا مذهب أصحابنا. وفي رد المحتار: قوله جهل أربابها، يشمل ورثتهم فلو علمهم لزمه الدفع إليهم لأن الدين صار حقهم
وإن لم يجد المديون ولا وارثه صاحب الدين ولا وارثه فتصدق أو وارثه عن صاحب الدين بري في الآخرة. قوله كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها، يشمل ما إذا كانت لقطة علم حكمها، وإن كانت غيرها فالظاهر وجوب التصدق بأعيانها أيضاً، قوله سقط عنه المطالبة، كأنه والله تعالى أعلم لأنه بمنزلة المال الضائع والفقراء مصرفه عند جهل أربابه، وبالتوبة يسقط أثم الإقدام على الظلم. (فتاوى الشامي: ٤/۲۸۳، سعيد). وكذا في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: ۲/۵۳۱، ط: بيروت).
فتاوی دینیہ میں مرقوم ہے:
جن لوگوں کا قرض باقی ہے ان لوگوں کا انتقال ہو چکا ہے تو ان کے ورثاء کو ڈھونڈ کر اور تحقیق کر کے یہ رقم ان تک پہنچانا ضروری ہے، اس لیے کہ اس رقم پر اب ان کا حق ہے، تلاش بسیار کے بعد بھی اگر ان کے ورثاء کا علم نہ ہو تو وہ رقم مرحوم کی طرف سے مسجد میں یا غربا میں صدقہ کر دیا تو یہ کافی ہو جائے گا، البتہ اس کے بعد اگر ورثاء کا علم ہو تو دوبارہ ورثاء کو ادا کرنا ضروری ہو گا ۔ (فتاوی دینیہ: ٤/٤۹۲، مکتبہ راندیر) ۔
اشرف الاحکام میں مرقوم ہے؛ لقطہ کا حکم یہ ہے کہ جب مالک کا پتا چلنا متعذر ہو تو کسی کارِ خیر میں دے دیا جائے چنانچہ میں مدرسہ میں دے دیتا ہوں۔ (اشرف الاحکام، ص ۱۹۷، بحوالہ حسن العزیز: ۳/٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (احسن الفتاوی: ٦/۳۹۰، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٤۲۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.