مودَع المدیون سے قرض وصول کرنے کا حکم:
Question
زید کے ذمے عمر کا قرضہ ہے زید باوجود استطاعت کے ادا نہیں کر رہا ہے۔ زید مدیون کی دکان میں ایک ملازم اور زید کا بیٹا ہے کیا اس ملازم یا بیٹے کو یہ حق حاصل ہے کہ زید کی دکان سے قرض کی مقدار یا اس سے کم کوئی چیز یا رقم عمر قرض خواہ کو دے دے؟ بینوا توجروا۔
Answer
عمر زید سے یا زید کے مودَع سے خود دین کی مقدار یا اس سے کم وصول کر سکتا ہے لیکن زید کے ملازم اور بیٹے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اصل مالک یعنی مدیون کے مال میں سے دائن یا مقرض کو دے دے۔
ملاحظہ ہو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
كما إذا كانت له ألف درهم وديعة عند إنسان وعليه ألف لغيره فلغريمه أن يأخذه إذا ظفر به وليس للمودَع أن يدفعه إليه. (الهداية: ۳/۲۷٦، كتاب الوديعة). -
شرح مجلہ میں ہے:
وأما إذا كان مطلوب الدائن من جنس الوديعة فللدائن المرقوم عند ظفره أن يأخذ من المستودع مقداراً كافياً لمطلوبه، وإن كان إعطاء المستودع غير جائز، ولا يلزم المستودع الضمان في هذه الحالة. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام: ۲/۲۷۰). -
ان عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب مدیون سے مال وصول نہیں ہو سکتا تو اس کے مودَع سے وصول کر سکتا ہے لیکن مدیون کے مودَع کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بقدرِ دین دائن کو دے دے، یاد رہے کہ دکان میں بیٹا یا معاون ہو گا یا اجیر ہو گا اور اجیر خاص مودَع کی طرح ہے،
كما هو المصرح في كتاب الإجارة. (الهداية: ۳/۳۱۰، تحت باب ضمان الأجير). -
یہ بات تو معلوم ہو گئی کہ مودَع کے لیے دینا جائز نہیں ہے لیکن اگر مودَع نے دے دیا تو تاوان آئے گا یا نہیں اس بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے، علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مودَع ضامن ہو گا، اور صاحبِ فتاوی ولوالجیہ کی عبارت سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے۔ اور علامہ بدر الدین صاحبِ جامع الفصولين نے دو قول نقل کیے ہیں، اور فتاوی ہندیہ میں عدمِ ضمان والے قول کو مختار کہا گیا ہے، اور شارح مجلہ نے بھی یہی نقل کیا ہے۔
ملاحظہ ہو علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولو قضي المودَع بها دين المودِع ضمن على الصحيح. (الأشباه والنظائر: ۲/٤۰۷، الفن الثاني الفوائد). -
فتاوی ولوالجیہ میں ہے:
رجل له عند رجل ألف درهم وديعة، ولرجل على المودِع ألف درهم دين، فقضي المودَع دينه، مما عنده من الوديعة بغير إذن المودِع، فهو بالخيار إن شاء ضمن المودَع، وأخذ وديعته، وسلم الألف للآخذ، وليس للمودَع أن يرجع به على أحد لأنه نه متبرع بقضاء دينه عنه، وإن شاء أجاز القضاء، ولا شيء له على المودَع. (الفتاوى الولوالجية: ٤/۹۳، الفصل الخامس في المسائل المتفرقة). -
وفي جامع الفصولين: والمودَع لو قضي دين ربها والدين من جنس الوديعة قيل ضمن وقيل لا. (جامع الفصولين: ۲/۱۵۲). -
(وكذا في مجمع الضمانات: ۱/۲۱۹، الفصل الثاني في من يضمن المودع بالدفع إليه). -
وفي الفتاوي الهندية: المودَع إذا قضي دين المودِع من مال الوديعة يضمن وإن كان من جنس الوديعة قيل: لا يضمن وهو المختار عند البعض كذا في خزانة المفتين. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۵۸). -
(وكذا في شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: ۳/۲۷۳، المادة: ۷۹۳. ودرر الحكام شرح مجلة الأحكام لعلي حيدر: ۲/۲۷۱). -
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.