اپنی حیاتی میں بیوی کو مکان ہبہ کرنے کی ایک صورت:
Question
۱ ۔ ایک آدمی اپنی زندگی میں اپنا مکان اپنی بیوی کو ہبہ کرنا چاہتا ہے لیکن اس میں منقولی اشیاء و سامان موجود ہیں، ان کو ہبہ سے مستثنی کرنا چاہتا ہے تو شریعت میں اس کی کیا صورت ہو گی؟ ۲ ۔ اور اگر قابل تقسیم زمین میں سے ہبہ کرنا چاہتا ہے اور تقسیم نہیں کرنا چاہتا ہے تو اس کی کیا صورت ہو گی؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ہبہ کے تام ہونے کی آسان صورت یہ ہے کہ شوہر بیوی کو مکان معمولی قیمت میں بیچ دے اور سامان کا استثناء کر دے، پھر وہ قیمت معاف کر دے، اِس طرح مکان بیوی کا ہو جائے گا اور سامان شوہر ہی کا رہے گا ۔
۲ ۔ اس کی آسان صورت بھی یہی ہے کہ آدھی زمین موہوب لہ کے ہاتھ معمولی قیمت میں فروخت کر دے پھر قیمت معاف کر دے ۔ نیز آئندہ انکار کے سدِ باب کے لیے مکان یا زمین موہوب لہ کے نام پر کرا دینا بہتر ہے ۔
دوسری صورت ودیعت کی ہے، کہ سامان بیوی کو بطورِ ودیعت دے کر تخلیہ کر دے، پھر مکان ہبہ کر دے اور بیوی کو قبضہ دے دے تو ہبہ تام ہو جائے گا ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں مذکور ہے:
ولو وهب داراً فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلمها مع المتاع لم تصح والحيلة فيه أن يودع المتاع أولاً عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فتصح الهبة فيها. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۸۰).
(وكذا في فتاوى الشامي: ۸/٤۳۹، سعيد،
و فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٦۰۱)
.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.