بذریعہ انٹرنیٹ تجارت کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #42Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

اگر کوئی شخص بذریعہ انٹرنیٹ کاروبار کرتا ہو اور ثمن اس کے نام پر درج ہو گیا تو یہ قبضہ تسلیم کیا جائے گا یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ جب ثمن بائع کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گیا اور بائع کو بذریعہ SMS اطلاع مل گئی تو یہ قبضہ شمار ہو گا، کیوں کہ قبضہ بالبراجم شرط نہیں ہے تخلیہ بھی کافی ہے اس لیے کہ قبضہ کہتے ہیں دوسرے کی اجازت سے کسی چیز میں تصرف پر قدرت کا حاصل ہونا ۔
ملاحظہ فرمائیں رد المحتار میں ہے:

إن التخلية قبض حكماً لومع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع، ففي نحو حنطة في بيت مثلاً فدفع المفتاح إذا أمكنه الفتح بلا كلفة قبض، وفي نحو دار فالقدرة على إغلاقها قبض أي بأن تكون في البلد فيما يظهر، وفي نحو بقر في مرعي فكونه بحيث يري ويشار إليه قبض وفي نحو ثوب، فكونه بحيث لو مد يده تصل إليه قبض وفي نحو فرس أو طير في بيت إمكان أخذه منه بلامعين قبض. (رد المحتار، ٤/۵٦۲، مطلب في شروط التخلية، سعيد).
بدائع الصنائع
میں ہے:

وأما تفسير التسليم والقبض فالتسليم والقبض عندنا هو التخلية والتخلي وهو أن يخلي البائع بين المبيع وبين المشتري برفع الحائل بينهما على وجه يتمكن المشتري من التصرف فيه فيجعل البائع مسلماً للمبيع، والمشتري قابضاً له، وكذا تسليم الثمن من المشتري إلى البائع. (بدائع الصنائع: ۵/۲٤٤، في حكم البيع، كتاب البيوع، سعيد).
البحر الرائق
میں ہے:

ولو وهب لرجل ثياباً في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضاً وإن كان الصندوق مفتوحاً كان قبضاً لأنه يمكنه القبض كذا في المحيط. (البحر الرائق: ۷/۲۸٦، كتاب الهبة، كوئته. وكذا في محيط البرهاني: ۷/۱٦۹، الفصل الثاني فيما يجوز في الهبة ومالا يجوز).
وفي الدر المختار: والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثياباً في صندوق مقفل

الخ. (الدر المختار: ۵/٦۹۰، كتاب الهبة، سعيد).

معاییر شرعیہ نامی کتاب جس کو ستائیس محققینِ اربابِ فتوی نے مرتب کیا ہے اس میں مرقوم ہے:

إن كيفية قبض الأشياء تختلف بحسب حالها واختلاف الأعراف فيما يكون قبضاً لها، فكما يكون القبض حسياً في حالة الأخذ باليد أو النقل أو التحويل إلى حوزة القابض أو وكيله يتحقق أيضاً اعتباراً وحكماً بالتخلية مع التمكين من التصرف، ولو لم يوجد القبض حسياً، فقبض العقار يكون بالتخلية وتمكين اليد من التصرف، فإن لم يتمكن المشتري من المبيع فلا تعتبر التخلية قبضاً، أما المنقول فقبضه بحسب طبيعته. (المعايير الشرعية، ص ۱۲۲).

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کسی کے کھاتے میں رقم کا اس طرح منتقل کر دینا کہ وہ اس میں تجارت کر سکتا ہو قبضہ حکمی ہے ۔
عطر ہدایہ میں ہے:
قبضہ: یعنی دوسرے کی اجازت سے کسی چیز میں تصرف پر قدرت کا حاصل ہونا ۔ اب اگر یہ قدرت مالک کی اجازت سے ہے یا شرعی حق کی وجہ سے تو اس کو قبضہ جائز کہا جاتا ہے ۔ (عطر ہدایہ: ص۸۸) ۔
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
امام ابو حنیفہ رحمه الله کا مسلک یہ ہے کہ حسی قبضہ ضروری نہیں بلکہ تخلیہ کافی ہے، تخلیہ کے معنی یہ ہیں کہ مشتری کو اس بات پر قدرت دے دی جائے کہ وہ جب چاہے آ کر مبیع پر قبضہ کر لے جب قبضہ کرنے میں کوئی مانع باقی نہیں رہے تو سمجھیں گے کہ تخلیہ ہو گیا، مثلاً کوئی بکس ہے، اس کے اندر کئی چیزیں رکھی ہوئی ہیں، اس کی چابی اس کے حوالہ کر دی، تو جب چابی حوالے کر دی اب چاہے وہ اٹھائے یا نہ اٹھائے، قبضہ متحقق ہو گیا، امام بخاری رحمه الله نے یہاں امام ابو حنیفہ رحمه الله کا مسلک اختیار کیا ہے اور حضرت جابر رضي الله عنه کا واقعہ موصولاً روایت کیا ہے کہ حضرت جابر رضي الله عنه سے حضور ﷺ نے اونٹ خریدا اور پھر حضرت جابر رضي الله عنه نے اسی اونٹ پر مدینہ منورہ تک سفر کیا، حضرت جابر رضي الله عنه اس سے نہیں اترے لیکن تخلیہ متحقق ہو گیا تھا، امام بخاری رحمه الله یہ کہتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ تخلیہ سے قبضہ ہو گیا ۔ (اسلام اور معاشی مسائل، ۲/۹۹، ۱۰۰) ۔
اہم فقہی فیصلے میں ہے:
الف: ۔ انٹرنیٹ پر بھی اگر بیک وقت عاقدین موجود ہوں اور ایجاب کے بعد فوراً دوسرے کی طرف سے قبول ظاہر ہو جائے تو بیع منعقدہ ہو جائے گی، اور ان صورتوں میں عاقدین کو متحد المجلس تصور کیا جائے گا ۔
ب: ۔ اگر انٹرنیٹ پر ایک شخص نے بیع کی پیشکش کی، اور دوسرا شخص اس وقت انٹرنیٹ پر موجود نہیں تھا، بعد کو اس نے اس پیشکش کرنے والے کا پیغام حاصل کیا، یہ صورت تحریر و کتابت کے ذریعہ بیع کی ہو گی، اور جس وقت دوسرا شخص اس پیشکش کو پڑھے اسی وقت اس کی جانب سے قبولیت کا اظہار ضروری ہو گا ۔ (اہم فقہی فیصلے، ص ۱۵۸، جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عقود و معاملات کا شرعی حکم) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (کتاب الفتاوی: ۵/۲۰۱ ۔ و نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے، ص۹۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.