عقد تام ہونے کے لیے سرکاری کاغذات کا حکم:
Question
ایک سال پہلے کسی نے اپنی زمین دوسرے کے ہاتھ فروخت کر دی، ایک سال گزرنے کے بعد اب تک زمین سرکاری کاغذات میں مشتری کے نام پر منتقل نہیں ہوئی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ قانوناً یہ زمین ابھی تک بائع کی سمجھی جائے گی، شرعاً اس زمین کا مالک کون ہے؟ نیز سال کے اخراجات بجلی پانی وغیرہ کس پر لازم ہوں گے؟
Answer
شریعتِ مطہرہ میں طرفین کی رضامندی سے ایجاب و قبول ہو جانے پر عقد بیع تام ہو جاتا ہے اور مشتری قبضہ کر لینے سے مبیع کے تمام ما لہ و ما علیہا کا ذمہ دار بن جاتا ہے، سرکاری کاغذات میں جس کا نام درج ہو اس کا اعتبار نہیں ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
البيع ينعقد بالإيجاب والقبول
وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع. (الهداية: ۳/۲۰).
بدائع الصنائع میں ہے:
المبيع إنما يدخل في ضمان المشتري بالقبض
لان المبيع خرج عن ضمان البائع بقبض المشتري فتقرر عليه الثمن. (بدائع الصنائع: ۵/۲٤۰، ۲٤۱، سعيد).
شرح المجلہ میں ہے:
الغرم بالغنم أي من ينال نفع شيء يتحمل ضرره. (شرح المجلة للبناني، ۱/۵۸، المادة: ۸۷).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما تفسير التسليم والقبض هو التخلية والتخلي وهو أن يخلي البائع بين المبيع وبين المشتري برفع الحائل بينهما على وجه يتمكن المشتري من التصرف فيه فيجعل البائع مسلماً للمبيع والمشتري قابضاً له
ولهذا يدخل المبيع في ضمان المشتري بالتخلية نفسها بلا خلاف. (بدائع الصنائع: ۵/۲٤٤، سعيد).
امداد المفتین میں ہے:
کاغذات سرکاری میں کسی کا نام درج ہو جانے سے شرعاً اس کی ملک ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ مالک اپنی رضاء سے اس کو مالک نہ بنائے اور قبضہ نہ کرائے۔ (امداد المفتین: ۲/۸۹۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.