عقدِ بیع میں طے شدہ ثمن سے زیادہ مطالبہ کا حکم:
Question
ایک شخص نے گاڑی خریدنے کے متعلق فون پر عقد کیا، دور دراز کا سفر کر کے جب گاڑی لینے کے لیے گیا تو بائع نے طے شدہ قیمت سے دس ہزار رینڈ زیادہ طلب کیے، اب کیا حکم ہے؟ کیا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور مشتری کی رضامندی مفقود ہونے پر بیع کا کیا حکم ہے؟
Answer
عقد مکمل ہو جانے کے بعد مشتری اس گاڑی کا مالک بن گیا، اب بائع مشتری سے طے شدہ قیمت ہی وصول کرنے کا شرعاً حقدار ہے، اس سے زیادہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، ہاں مشتری اپنی رضامندی سے زیادہ دے دے تو ٹھیک ہے ۔ نیز بیع میں طرفین کی رضامندی ضروری ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله (۹۲٦ھ۹۷۰ھ) فرماتے ہیں:
إذا كان الإيجاب من المشتري فقبل البائع بأنقص من الثمن أو كان من البائع فقبل المشتري بأزيد انعقد، فإن قبل البائع الزيادة في المجلس جازت كما في التاتارخانية
وأما شرائط اللزوم بعد الانعقاد والنفاذ فخلوه من الخيارات الأربعة المشهورة ويزاد خيار الكمية وخيار الغبن إذا كان فيه غرور
. (البحر الرائق: ۵/۲۵۸، ۲٦۱، كتاب البيوع، كوئته).
ہدایہ میں ہے:
و
إذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية. (الهداية: ۳/۲۰).
ہاں اگر عقد مکمل نہیں ہوا تھا ابھی تک عاقدین آپس میں طے کر رہے تھے اور بائع زیادہ ثمن کا مطالبہ کرتا ہے تو مشتری کو خریدنے اور نہ خریدنے کا اختیار ہے اس لیے کہ بیع میں رضامندی ضروری ہے اور یہاں مشتری راضی نہیں ہے ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم﴾. (سورة النساء، الآية: ۲۹).
کنز الدقائق میں ہے:
(البيع) هو مبادلة المال بالمال بالتراضي ويلزم بإيجاب وقبول. (كنز الدقائق: ۲۲۷، إمدادية).
کسی شخص کو دھوکا دینا آنحضور ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے اس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے ۔
آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
ترمذی شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ مر على صبرة من طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللاً، فقال: يا صاحب الطعام ما هذا؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله! قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: "من غش فليس منا". قال المحشي: أي ليس من أخلاقنا ولا على سنتنا، قال أبو عيسى: والعمل على هذا عند أهل العلم وقالوا: الغش حرام. (ترمذي شريف مع الحاشية: ۱/۲٤۵، باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.