لے بائے (lay buy) کا حکم:
Question
موجودہ دور میں مروجہ بيوعات میں سے ایک مشہور بیع "لے بائے" ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً مشتری کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے جس کی قیمت ۵۰۰ رینڈ ہے لیکن فی الحال مشتری کے پاس ۵۰۰ رینڈ نہیں ہیں، تو مشتری صرف ۱۰۰ رینڈ ادا کرتا ہے اور ٤۰۰ رینڈ قسط وار طے ہوتے ہیں، یا جب اس کے پاس ٤۰۰ رینڈ ہوں تو ادا کر کے اپنی چیز وصول کر لے، فی الحال مبیع بائع کے قبضہ میں رہے گی، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسا عقد جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ثمن کی وصول یابی کے لیے مبیع روکنا بیع بالتقسیط میں جائز نہیں ہے، اس لیے کہ بیع بالتقسیط بیع مؤجل ہے اور بائع کو ثمن کے استیفاء کے لیے حبس مبیع کا حق صرف نقد بیع میں حاصل ہوتا ہے، ادھار میں یہ حق بائع کو نہیں ملتا ۔
ملاحظہ ہو شرح مجلہ میں ہے:
البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح. أي والتأجيل لازم، فليس للبائع حبس المبيع حتى يقبضه ولا المطالبة به قبل حلول الأجل
وفيه (البحر) عن المحيط: وإذا رضي البائع بالتأجيل فقد أسقط حقه في حبس المبيع فلو حل الأجل قبل قبضه فللمشتري قبضه قبل نقد الثمن. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، ۲/۱٦٦).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
قال أصحابنا رحمه الله للبائع حق يحبس المبيع لاستيفاء الثمن إذا كان حالاً، كذا في المحيط، وإن كان مؤجلاً فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده كذا في المبسوط، ولو كان بعض الثمن حالاً وبعضه مؤجلاً فله حبسه حتى يستوفي الحال ولو بقي من الثمن شيء قليل (في البيع المعجل) كان له حبس جميع المبيع كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۵، الباب الرابع، كتاب البيوع).
ہاں ثمن کے عوض میں مبیع کو روکنے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مشتری پہلے مبیع پر قبضہ کر لے پھر بطورِ رہن بائع کے پاس رکھ دے، اکثر فقہاء کے نزدیک یہ صورت جائز ہے، چنانچہ امام محمد رحمه الله الجامع الصغیر میں فرماتے ہیں:
ومن اشتري ثوباً بدرهم، فقال للبائع: أمسك هذا الثوب حتى أعطيك الثمن فالثوب رهن. (الجامع الصغير، كتاب الرهن، ص ٤۸۸. وكذا في الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٦/۵۵).
کفایہ شرح الہدایہ میں ہے:
قال: لأن الثوب لما اشتراه وقبضه كان هو وسائر الأعيان المملوكة سواء في صحة الرهن. (الكفاية على هامش فتح القدير: ۹/۹۹، رشيدية).
در مختار میں ہے:
ولو كان ذلك الشيء الذي قال له المشتري: أمسك هو المبيع الذي اشتراه بعينه لو بعد قبضه، لأنه حينئذٍ يصلح أن يكون رهناً بثمنه ولو قبله لا يكون رهناً، لأنه محبوس بالثمن، وقال في رد المحتار: قوله لأنه حينئذٍ يصلح، أي لتعين ملكه فيه، حتى لو هلك يهلك على المشتري ولا ينفسخ العقد. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۹۷، كتاب الرهن).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (جدید فقہی مسائل: ٤/۲٦۵ ۔ ۲٦۸ ۔ و فقہی مقالات: ۱/۸۸ ۔ ۹۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.