بیع مؤجل میں تعجیل ثمن پر رعایت دینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #30Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

ایک دکان میں کپڑے کا کاروبار ہوتا ہے جس میں کپڑوں کو مؤجل فروخت کرتے ہیں لیکن اجل کی تصریح نہیں ہوتی، مشتری کو ایک رسید دی جاتی ہے جس میں مرقوم ہوتا ہے کہ اگر آپ ایک ماہ میں ادا کر دیں گے تو آپ کو اتنی رعایت اور دو ماہ میں ادا کر دیں گے تو اتنی رعایت ہو گی، یہ معاملہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟

Answer

(۱) اس معاملہ میں ثمن کے ساتھ آخری تاریخ لکھنا ضروری ہے یعنی یہ ثمن ہے اور مثلاً تین ماہ تک ادا کر دے ۔
شرح مجلہ میں ہے:

يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط، لأن جهالته تفضي إلى النزاع فالبائع يطالب في مدة قريبة، والمشتري يأباها، فيفسد البيع (بحر). (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، ۲/۱٦۷).

(۲) درمیان میں ادائیگی کے لیے جو رعایتیں دی گئی ہیں وہ بطورِ وعدہ ہوں کہ ہم ان شاء اللہ تعالی وعدہ کرتے ہیں کہ ایک ماہ کی ادائیگی پر اتنی رعایت اور دو ماہ کی ادائیگی پر اتنی رعایت دیں گے، اور چونکہ رسید پر مشتری کے دستخط نہیں ہوتے، لہذا یہ ایک جانب سے وعدہ ہے صلح نہیں ہے ۔
صلح کی تعریف یہ ہے:

"عقد يرفع النزاع". (الدر المختار: ۸/۲۱٦، سعيد).

یہاں عقد نہیں پایا گیا اس لیے کہ مشتری نے کچھ نہیں کہا اور نہ لکھا بلکہ ایک جانب سے وعدہ ہے ۔
(۳) اگر اس کو صلح قرار دیں تو مؤجل سے معجل کے ساتھ صلح کرنا اور دین میں کمی کرنے کو شرح کافی للاسبیجابی میں جائز لکھا ہے ۔

وذكر في شرح الكافي للاسبيجابي: جواز هذا الصلح مطلقاً على قياس قول أبي يوسف رحمه الله لأنه إحسان من المديون في القضاء بالتعجيل وإحسان من صاحب الدين في الاقتضاء بحط بعض حقه. (تكملة رد المحتار، لمحمد علاء الدين الشامي، ۸/۲۵۳، فصل في دعوي الدين).

یعنی شرح الکافی میں اس صلح کو امام ابو یوسف رحمه الله کے قول کے مطابق جائز کہا ہے کیوں کہ مدیون نے جلدی دینے کا احسان کیا اور دائن نے وصولی میں اپنا بعض حق معاف کر کے احسان کیا ۔
شرح عقود رسم المفتی میں مذکور ہے کہ قضا والے معاملات میں امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر فتوی ہونا چاہیے ہونا چاہیے، کیوں کہ قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے معاملات کا تجربہ رکھتے تھے ۔ (شرح عقود رسم المفتی، ص ۲۹) ۔
نیز دین ادا کرتے اور وصول کرتے وقت احسان کرنے کی فضیلت حدیث شریف میں وارد ہوئی ہے، ملاحظہ ہو، مشکوۃ شریف میں ہے:
قال: وخياركم من إذا كان عليه الدين أحسن القضاء وإن كان له أجمل في الطلب. (مشكاة المصابيح: ۲/٤۳۷، باب الامر بالمعروف).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.