فوروڈایکسچینج کونٹرکٹ کا حکم:
Question
فوروڈ ایکسچینج کا معاملہ کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ مختصر تعارف حسبِ ذیل درج ہے: ۔
حاصل یہ ہے کہ فی الحال کرنسی کی مقررہ قیمت کے عوض مختلف ممالک کی کرنسی کا باہمی تبادلہ کرنا، جس میں ایک کرنسی مثلاً ڈالر کی ادائیگی مستقبل کی طے شدہ تاریخ پر ہو گی، اس معاملہ کو فوروڈ ایکسچینج (F.E.RATE) کہتے ہیں ۔
مستقبل کی طے شدہ تاریخ عام طور پر تین ماہ ہوتی ہے، اور کرنسی کی یہ مؤجل قیمت نقد سے مختلف ہوتی ہے یعنی کچھ اضافے کے ساتھ ہوتی ہے ۔
مثال کے طور پر ایک ساؤتھ افریقن کمپنی ایک امریکن کمپنی سے ایک لاکھ ڈالر کا سامان خریدتی ہے، جانبین سے عقد کا وعدہ ہوا کہ تین ماہ بعد مبیع سپرد کی جائے گی اور ثمن بھی یعنی ایک لاکھ ڈالر اسی وقت ادا کیا جائے گا، اب ان تین ماہ کے اندر ڈالر کی قیمت میں اضافہ کا قوی امکان ہے جس کی بنا پر ساؤتھ افریقن کمپنی کو نقصان کا اندیشہ ہے، بایں طور کہ اس کو ڈالر کے عوض مزید رینڈ خرچ کرنے ہوں گے، اس نقصان کے اندیشہ سے بچنے کے لیے ساؤتھ افریقن کمپنی کسی بینک وغیرہ کے ساتھ فوروڈ ایکسچینج کرتی ہے، جس میں رینڈ کے بدلے میں ڈالر آج کی مقررہ قیمت پر خریدتی ہے، رینڈ کی ادائیگی فی الحال ہو گی، البتہ ڈالر تین ماہ کے بعد حاصل ہوں گے، جب امریکن کمپنی کو ڈالر ادا کرنے کا وقت آ جائے ۔ شرعاً اس معاملہ کا کیا حکم ہے؟
Answer
اگر ایک کرنسی کو دوسری کرنسی کے عوض آئندہ کے لیے فروخت کر دے تو اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں: ۔
(۱) پہلی صورت یہ ہے کہ اگر ڈالر کو رینڈ کے عوض مستقبل کے لیے خرید آ جائے اور سب رینڈ بھی دے دیے تاکہ تین ماہ کے بعد فلاں تاریخ کو ڈالر مل جائیں اس معاملہ کو سلم میں داخل کر سکتے ہیں، اگر سلم کی شرائط موجود ہوں تو بطورِ سلم یہ معاملہ صحیح اور درست ہے ۔
شرائط سلم کو اس جملہ
"مصّ جنا مرأة"
یا
"امرأة مصت جنا"
میں جمع کیا گیا ہے: یعنی (۱) میم سے مراد مقدارِ مسلم فیہ، (۲) ص: صفت کا معلوم ہونا، (۳) جیم: جنس کا معلوم ہونا، (٤) ن: نوع کا معلوم ہونا، (۵) الف: اجل کا معلوم ہونا، (٦) میم، راء: مقدارِ رأس المال، (۷) تاء: تسمیۃ المکان کی طرف اشارہ ہے ۔
میرے خیال میں کرنسیاں فلوسِ نافقہ کے حکم میں ہیں، یعنی رواجی کرنسی ہیں، حقیقی ثمن نہیں، کیوں کہ ثمن حقیقی ذہب و فضہ ہیں ۔
سلم کے لیے رأس المال پر قبضہ ضروری ہے قبضہ کے لیے تخلیہ اور قبضہ حکمی بھی کافی ہو جائے گا، نیز کسی کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنا بھی کافی ہوگا ۔
اگر عقدِ سلم نہ کرے تو پھر بھی گنجائش ہے کہ ایک کرنسی فی الحال دے اور دوسری کرنسی بعد میں لے ۔
عالمگیری میں ہے:
ويجوز السلم في الفلوس عدداً في ظاهر الرواية كذا في الينابيع وهو الصحيح هكذا في النهاية. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۸۳، فصل في بيان ما يجوز السلم).
فتح القدیر میں ہے:
وكذا في الفلوس عدداً أي يجوز السلم في الفلوس عدداً هكذا ذكره محمد رحمه الله في الجامع الصغير من غير ذكر خلاف فكان هذا ظاهر الرواية عنه. (فتح القدير: ۷/۷۵، دار الفكر).
(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ رب السلم کچھ نہ دے یہ صورت ناجائز ہے، یہ بیع الدین بالدین ہے، نیز سلم میں رأس المال کی سپردگی لازم ہے ۔
قال في الهداية: ولا يصح السلم حتى يقبض رأس المال قبل أن يفارقه فيه أما إذا كان من النقود فلأنه افتراق عن دين بدين وقد نهي النبي ﷺ عن الكالئ بالكالئ. (الهداية: ۳/۹٦).
(۳) تیسری صورت یہ ہے کہ کچھ رأس المال دے اور کچھ حصہ نہ دے تو جتنا رأس المال دیا اتنے حصہ میں جائز ہو جائے گا، باقی میں ناجائز رہے گا، لیکن اگر (۲) اور (۳) صورت میں وعدہ کرے عقد نہ کرے تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے، جب وعدہ بصورتِ تعلیق ہو تو واجب الوفاء ہوتا ہے، مثلاً یہ کہ دے کہ اگر فلان تاریخ کو میں ڈالر دے دوں تو آپ اتنے بھاؤ میں پونڈز فروخت کریں گے ۔
قواعد الفقہ میں ہے:
المواعيد في صورة التعليق تكون لا زمة مثل أن يقول بع هذا الشيء من فلان بكذا فإن لم يعطك الثمن فأنا أعطيه. (شرح المجلة، للأتاسي، ۱/۲۲۸، شرح القواعد الفقهية، ۲٦۳).
ملا علی قاری رحمہ الله شرح النقایہ میں تحریر فرماتے ہیں:
المواعيد قد تكون لا زمة، قال رسول الله ﷺ: العدة دين فيجعل هذا الميعاد لا زماً لحاجة الناس إليه. (شرح النقاية: ۳/۲۵۳، قبيل فصل الإقالة، بيروت).
نیز یہ ہنڈی کی ایک قسم ہے جس میں تاجیل کی گنجائش ہے کیوں کہ یہ ثمن عرفی ہے ہاں ثمن حقیقی میں تاجیل کی گنجائش نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.