مختلف ممالک کی کرنسی کے تبادلہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #142Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۸): بیع صرف کا بیان

Question

اگر کسی کو ۵۰۰ رینڈ دیے اور کہا کہ تین ماہ بعد اس کے عوض میں مجھے اتنے ڈالر دینا پڑے گا، تو یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ کرنسی ثمن حقیقی نہیں ہے بلکہ ثمن عرفی ہے، نیز مختلف ممالک کی کرنسی مختلف الجنس کہلاتی ہے، لہذا تقابض فی المجلس ضروری نہیں نسیئۃً بھی جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو فقہی مقالات میں ہے:
تاجروں اور عام لوگوں میں اس کا رواج ہے کہ وہ ایک ملک کی کرنسی دوسرے شخص کو اس شرط پر دے دیتے ہیں کہ تم اس کے بدلے میں اتنی مدت کے بعد فلاں ملک کی کرنسی فلاں جگہ پر دینا، امام ابو حنیفہ رحمہ الله کے نزدیک یہ معاملہ جائز ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک اثمان کی بیع میں بیع کے وقت ثمن کا عقد کرنے والے کی ملکیت میں ہونا شرط نہیں لہذا جب جنسین مختلف ہوں تو ادھار کرنا جائز ہے، چنانچہ شمس الائمہ سرخسی رحمہ الله لکھتے ہیں:

وإذا اشتري الرجل فلوساً بدراهم ونقد الثمن ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز لأن الفلوس الرائجة كالنقود، وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد كما لا يشترط ذلك في الدراهم والدنانير. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱٤/۲٤، باب البيع بالفلوس، إدارة القرآن).

جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
دو ملکوں کی کرنسی چونکہ مختلف الاجناس میں داخل ہیں اسی وجہ سے ان کے نام کی اکائیاں وغیرہ مختلف ہوتی ہیں، جب دونوں کی جنس مختلف ہے تو ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے کمی زیادتی کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے اور اس کا کاروبار کرنا بھی جائز ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ مجلس عقد میں دونوں فریقوں میں سے کسی ایک فریق کا متبادل کرنسی پر قبضہ ہو جائے، اگر کسی ایک فریق کا بھی مجلس عقد میں متبادل کرنسی پر قبضہ نہ ہوا بلکہ معاملہ کر کے دونوں فریق بعد میں ادائیگی کے وعدہ پر جدا ہو گئے تو یہ جائز نہیں، کیوں کہ اس میں افتراق دین بدین لازم آتا ہے جو کہ حدیث کی رو سے ممنوع ہے:

قال العلامة برهان الدين المرغيناني: وإذا عدم الوصفان الجنس والمعني المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة والأصل فيه الإباحة وإذا وجد حرم التفاضل والنساء لوجود العلة وإذا وجد أحدهما وعدم الآخر حل التفاضل وحرم النساء. (الهداية: ۳/۷۹، باب الربا، دار الفكر). (
جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۳۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.