رینڈ کے قرض میں ڈالر کی ادائیگی کا حکم:
Question
ایک شخص نے دوسرے شخص کو ایک لاکھ رینڈ کا قرض ایک سال کی مہلت پر دیا، پھر اگر وہ مقروض سے یہ کہ دے کہ ایک سال کے بعد آپ مجھے رینڈ کی جگہ ۱۵ ہزار ڈالر دو گے، تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ دائن کا مدیون سے یہ کہنا کہ ایک لاکھ رینڈ قرض کے عوض ایک سال بعد ۱۵ ہزار ڈالر واپس کر دے، اور ایک لاکھ رینڈ اسی مجلس میں ادا بھی کر دیے تو یہ معاملہ جائز اور درست ہے ۔ اس میں ربا وغیرہ کا کوئی تحقق نہ ہوگا کیونکہ کرنسی ثمن خلقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہے، نیز مختلف ممالک کی کرنسی مختلف الجنس کہلاتی ہے، لہذا تقابض فی المجلس ضروری نہیں نسیئۃً بھی جائز ہے، ہاں ایک کرنسی پر قبضہ ضروری ہے تاکہ بیع الکالی بالکالی لازم نہ آئے ۔
ملاحظہ ہو فقہی مقالات میں ہے:
تاجروں اور عام لوگوں میں اس کا رواج ہے کہ وہ ایک ملک کی کرنسی دوسرے شخص کو اس شرط پر دے دیتے ہیں کہ تم اس کے بدلے میں اتنی مدت کے بعد فلاں ملک کی کرنسی فلاں جگہ پر دینا، امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک یہ معاملہ جائز ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک اثمان کی بیع میں بیع کے وقت ثمن کا عقد کرنے والے کی ملکیت میں ہونا شرط نہیں لہذا جب جنسین مختلف ہوں تو ادھار کرنا جائز ہے، چنانچہ شمس الائمہ سرخسی رحمه الله لکھتے ہیں:
وإذا اشتري الرجل فلوساً بدراهم ونقد الثمن ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز لأن الفلوس الرائجة ثمن كالنقود، وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد كما لا يشترط ذلك في الدراهم والدنانير. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱٤/۲٤، باب البيع بالفلوس، إدارة القرآن).
(ماخوذ از فقہی مقالات: ۱/٤۲) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
دو ملکوں کی کرنسی چونکہ مختلف الاجناس میں داخل ہیں اسی وجہ سے ان کے نام کی اکائیاں وغیرہ مختلف ہوتی ہیں، جب دونوں کی جنس مختلف ہے تو ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے کمی زیادتی کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے اور اس کا کاروبار کرنا بھی جائز ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ مجلس عقد میں دونوں فریقوں میں سے کسی ایک فریق کا متبادل کرنسی پر قبضہ ہو جائے، اگر کسی ایک فریق کا بھی مجلس عقد میں متبادل کرنسی پر قبضہ نہ ہوا بلکہ معاملہ کر کے دونوں فریق بعد میں ادائیگی کے وعدہ پر جدا ہو گئے تو یہ جائز نہیں، کیوں کہ اس میں افتراق دین بدین لازم آتا ہے جو کہ حدیث کی رو سے ممنوع ہے:
قال العلامة برهان الدين المرغيناني: وإذا عدم الوصفان الجنس والمعني المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة والأصل فيه الإباحة وإذا وجدا حرم التفاضل والنساء لوجود العلة وإذا وجد أحدهما وعدم الآخر حل التفاضل وحرم النساء. (الهداية: ۳/۷۹، باب الربا، دار الفكر). (
جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۳۹) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
قرض کے جواز کے لیے مثلی ہونا شرط ہے، جن چیزوں کے مثل نہ ہو ان کو قرض کے طور پر دینا بھی جائز نہیں، کیوں کہ قرض میں جو چیز لی گئی ہے اس کی مثل واپس کرنا شرعاً لازم ہے ۔
قال العلامة الصابوني: ونص الفقهاء على أن قرض المكيل والموزون جائز، كاستقراض الحب والشعير، والتمر والزبيب وكالاستقراض السمن والزيت، وكل ما يكال ويوزن، وأما مالا مثل له فلا يجوز إقراضه كاللآلي، والجوهرات، وهذا مذهب أبي حنيفة وأجاز الشافعية والحنابلة إقراض مالا مثله له إذا كان معروف القيمة، فيجب رد القيمة. (فقه المعاملات)
حاصل یہ ہے کہ مکیلی اور موزونی چیز کی مثل موجود ہوتے ہوے ان کو قرض دینا جائز ہے اور جو چیزیں غیر مثلی ہیں، جن کو ذوات القیم کہا جاتا ہے ان کو قرض کے طور پر دینا جائز نہیں، البتہ دراہم و دنانیر اور دیگر کرنسی کو قرض کے طور پر دینا بھی جائز ہے کیوں کہ ہر ملک کی کرنسی اس ملک کے اندر ذوات الامثال ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۸۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.