خلافِ جنس کرنسی کے تبادلہ کا حکم:
Question
کسی جگہ رقم بھیجنے کے دو طریقے ہیں: (۱) ایک یہ کہ یہاں ساؤتھ افریقہ میں کسی بینک یا کسی شخص کو ایک ہزار ڈالر یا ۸ ہزار رینڈ دے دیں اور اس کے بدلے دو تین دن کے بعد کراچی یا دہلی میں متعین طے شدہ روپے وصول کیے جائیں ۔ اس طریقہ میں بظاہر یہ خرابی لازم آتی ہے کہ ثمن کو ثمن کے بدلے میں فروخت کرنے میں مجلس عقد میں جانبین سے قبضہ ہونا چاہیے ہونا چاہیے، جو یہاں مفقود ہے؟
(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ کراچی سے لاہور بینک وغیرہ کے ذریعہ ۵۰ ہزار روپے ارسال کرتے ہیں بعینہٖ یہ رقم نہیں پہونچتی بلکہ اتنی رقم بذریعہ بینک وہاں مرسل الیہ کو ادا کی جاتی ہے اس کے بارے میں بعض لوگوں کو شبہ ہے کہ یہ بعینہٖ سفتجہ ہے جس کو کتب فقہ میں ممنوع لکھا ہے اس کو ہنڈی یا بل آف ایکسچینج کہتے ہیں، دونوں صورتوں کا شرعاً کیا حکم ہے؟
Answer
(۱) پہلی صورت میں چونکہ ڈالر وغیرہ کے عوض روپے ملتے ہیں اور دو ملکوں کی کرنسی مختلف جنس کے حکم میں ہے اس لیے کمی بیشی کے ساتھ بیع کرنا جائز ہے نیز چونکہ یہ ثمن عرفی ہے ثمن حقیقی نہیں اس لیے اس میں مجلس میں تقابض بھی ضروری نہیں، ہاں ایک جانب سے قبضہ ضروری ہے تاکہ بیع الکالی بالکالی سے بچ جائے ثمن عرفی ثمن حقیقی کے حکم میں نہ ہونے کا فتوی تفصیلاً گزر چکا ہے ۔
(۲) دوسری صورت بظاہر سفتجہ ہے، اس میں کچھ تفصیل ہے سفتجہ سُفتَن سے ہے جو سوراخ کر کے پرونے کے معنی میں ہے، چونکہ پرانے زمانہ میں دراہم دنانیر کو چوروں سے بچانے کے لیے لاٹھی وغیرہ میں سوراخ کر کے پروتے یعنی ڈالتے تھے اور پھر پہنچاتے تھے، اس لیے اس کو سفتجہ کہتے ہیں، سفتجہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی کسی کو ہزار درہم بطورِ قرض دے دے اور یہ شرط لگا دے کہ میں فلاں شہر میں آپ سے یا آپ کے وکیل سے ایک ہزار درہم وصول کروں گا، فقہاء نے اس کو ممنوع و مکروہ کہا ہے کیوں کہ یہ
"كل قرض جر نفعاً فهو ربا"
کے حکم میں ہے، اس قرض کی وجہ سے مقرض نے رقم کے لیے راستے کی سلامتی حاصل کر لی اس لیے یہ ممنوع ہے، لیکن اس میں دو شرطیں ہیں، ایک یہ کہ قرض ہو اگر بطورِ امانت دے دیں تو پھر کوئی حرج نہیں، اور اگر امانت ہلاک ہوئی تو صاحبِ امانت کی چیز ہلاک ہو گئی ۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ قرض کے عقد میں شرط لگا دے کہ قرض اس شرط کے ساتھ دیتا ہوں کہ آپ فلاں شہر میں کسی کو لکھ دے کہ وہ مجھے یہ رقم وہاں دیگا، اگر بغیر شرط کے دے دیا اور مستقرض نے دوسرے شہر والے کو لکھا تو مکروہ نہیں ۔
شیخ اسعد صاغرجی لکھتے ہیں:
فشرط الكراهة أو عدم الجواز شيئان: الأول أن يدفع المال في بلده قرضاً لمن يكتب له، فلو دفعه أمانة لم يكره ولم يفسد. والثاني: أن يشترط عليه في عقد القرض أن يكتب له به إلى البلدة الأخرى فلو لم يشترط لم يكره، عن عطاء بن أبي رباح أن عبد الله بن الزبير رضي الله عنه كان يأخذ من قوم بمكة دراهم، ثم يكتب بها إلى مصعب بن الزبير رضي الله عنه بالعراق فيأخذونها منه، فسئل ابن عباس رضي الله عنه عن ذلك، فلم ير به بأساً، فقيل له: إن اخذوا أفضل من دراهمهم، قال: لا بأس إن اخذوا بوزن دراهمهم، وروي في ذلك عن علي رضي الله عنه.
فإن صح ذلك عنه، وعن ابن عباس رضي الله عنه فإنما أرادا والله أعلم إذا كان ذلك بغير شرط. "السنن الكبرى للبيهقي": (۵/۳۵۲، دار المعرفة، بيروت). (الفقه الحنفي وأدلته "فقه المعاملات، القسم الاول، حكم السفتجة، ص ۱۳٤).
فتح القدیر میں ہے:
والقرض بهذا الشرط فاسد ولو لم يكن مشروطاً جاز وصورة الشرط ما في الواقعات رجل أقرض رجلاً مالاً على أن يكتب له به إلى بلد كذا فإنه لا يجوز، وإن أقرضه بغير شرط وكتب جاز. (فتح القدير: ۷/۲۵۱، كتاب الحوالة، دار الفكر).
لیکن اگر بینک یا کسی شخص کو دراہم بطورِ قرض دے دے اور بھیجنے کی اجرت دے اور پھر عقد میں شرط لگا دے کہ فلاں شہر میں لوں گا، تو پھر بھی جائز ہے کیوں کہ راستے کے امن کا جو فائدہ حاصل ہوا (بلکہ یہاں مقصود امن الطریق نہیں صرف رقم کا پہنچانا ہے) وہ قرض کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے عوض اجرت ادا کی گئی اور بینک وکیل بالاجرت بن گیا، عام طور پر منی آرڈر یا بینک کو اس کے بھیجنے کی فیس ادا کی جاتی ہے، تو اس معاملہ میں کوئی حرج نہیں، مولانا فتح محمد لکھنوی رحمہ الله نے شرح وقایہ کے حاشیہ میں اس کو جائز فرمایا ہے ۔ تکملہ عمدۃ الرعایۃ: ۲/۱۱۹، پر اس کی تفصیل موجود ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.