کمی بیشی کے ساتھ مروجہ کرنسی کے تبادلہ کا حکم:

17 min readFatwa Vol 5 #137Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۸): بیع صرف کا بیان

Question

اگر پرانی کرنسی کو نئی کرنسی کے عوض تفاوت کے ساتھ فروخت کیا جائے تو کیا حکم ہے؟ بعض مفتی حضرات اس کو ناجائز کہتے ہیں، کیوں کہ یہ بیع الفلس بالفلسین ہے، اور قطع نظر ثمنیت کے وہ قیمتی دھات ہے، لیکن کاغذ کے نوٹ کی بلا ثمنیت کوئی قیمت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بے کار چیز ہے، لہذا نوٹ کو روپے پیسوں پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، اس سلسلہ میں آپ کے دار الافتاء کی کیا تحقیق ہے؟
بينوا بالتفصيل توجروا بأجر جزيل.

Answer

شریعتِ مقدسہ میں اصل اور خلقی ثمن دراہم و دنانیر ہیں، فلوس نافقہ یعنی مروجہ کرنسی ثمن عرفی ہے، ثمن خلقی نہیں، البتہ ثمن خلقی کے مشابہ ہے، اس وجہ سے ثمن خلقی کے تمام احکام جاری نہ ہوں گے، کیوں کہ ثمن خلقی اور ثمن عرفی کے مابین بڑا تفاوت ہے، ثمن خلقی کی ثمنیت ہمیشہ کے لیے ہے، اور ثمن عرفی کی ثمنیت حکومت کے ثمن قرار دینے تک ہے اگر ثمنیت کے بطلان کا اعلان کر دے تو ثمنیت ختم ہو جائے گی، بنا بریں مروجہ کرنسی کا باہمی تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ ہو تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے ۔
ملاحظہ ہو صاحب بحر فرماتے ہیں:

إن الأموال ثلاثة: ثمن بكل حال وهو النقدان، صحبه الباء أولا،

وثمن بالاصطلاح وهو سلعة في الأصل كالفلوس فإن كانت رائجة فهي ثمن وإلا فسلعة. (البحر الرائق: ٦/۲۰۳، كتاب الصرف، كوئته. وكذا في تبيين الحقائق: ٤/۹۰، ملتان. والمحيط البرهاني: ۷/۱۷۱).

پھر مروجہ کرنسی کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ ہو تو اس کی تین صورتیں ہیں ۔
(۱) جانبین سے غیر معین ہو، کسی ایک جانب بھی تعیین نہ کی ہو تو، یہ معاملہ بالاتفاق ناجائز اور حرام ہے، بیع الکالی بالکالی کی وجہ سے ۔
(۲) ایک جانب تعیین کر دی جائے، اور دوسری جانب غیر معین ہو تو اگر غیر معین مؤجل ہو تو تب بھی بالاتفاق ناجائز ہے، لیکن اگر غیر معین غیر مؤجل ہو اور مجلس عقد میں قبضہ نہ کیا جائے تو اس کے جواز میں اختلاف ہے، بعض علماء کے نزدیک جائز ہے اور بعض کے نزدیک ناجائز ہے ۔
(۳) جانبین سے فلوس معین ہوں، تو اس مسئلہ میں علماء کا مشہور اختلاف ہے، حضراتِ شیخین رحمه الله کے نزدیک جائز ہے اور امام محمد رحمه الله کے نزدیک ناجائز ہے ۔ کیوں کہ امام محمد رحمه الله ثمن خلقی اور ثمن عرفی کے مابین فرق کے قائل نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں محیط برہانی میں ہے:

وإذا باع فلساً بفلسين حالة الرواج، فهذه المسألة على ثلاثة أوجه: أحدها: أن يبيع فلساً بغير عينه بفلسين بغير أعيانهما وفي هذا الوجه، البيع فاسد لوجهين: أحدهما أن هذا بيع الدين بالدين. والثاني: أن الجنس بانفراده محرم للنساء عندنا.
الوجه الثاني: إذا باع فلساً بعينه بفلسين بأعيانهما وفي هذ الوجه البيع جائز في قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله، وقال محمد رحمه الله: لا يجوز

والوجه الثالث: إذا كان أحد البدلين عيناً والآخر ديناً وفي هذا الوجه إن كان ما في الذمة مؤجلاً لا يجوز البيع لما ذكرنا أن الجنس بانفراده يحرم النساء عندنا، وإن كان ما في الذمة غير مؤجل لا شك أن على قول محمد رحمه الله لا يجوز، لأن عنده لو باع فلساً بعينه بفلسين بأعيانهما لا يجوز فإذا كان أحد البدلين بغير عينه أولى.
وأما على قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله: فقد اختلف المشايخ، بعضهم قالوا: يجوز، لأن الفلوس عندهما تصير بمنزلة العرض حال مقابلته لجنسه، قالوا: لو باع فلساً بعينه، بفلسين بأعيانهما يجوز فإذا صار الفلس المعين على مذهبهما بمنزلة العرض كان بمنزلة ما لو باع عرضاً بعينه بفلسين في الذمة. ومنهم من قال: لا يجوز، لأن الفلس عندهما إنما تتعين بالتعيين حال تعيين أحد البدلين، فلا يجوز، وهذا لأن الفلوس الرائجة لها حكم العرض من وجه. (المحيط البرهاني: ۷/۲۷۰).
وفي البحر: وليس مرادهم خصوص بيع الفلس بالفلسين بل بيان حل التفاضل حتى لو باع فلساً بمائة على التعيين جاز عندهما. (البحر الرائق: ٦/۱۳۲، باب الربا، كوئته).
وفي الفتاوى الهندية: ولو باع فلساً بعينه بفلسين بغير أعيانهما أو على العكس لا يجوز مالم يقبض ما كان ديناً في المجلس. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۰۳).
وفي البحر: لو قبض ما كان ديناً في المجلس جاز. (البحر الرائق: ٦/۱۳۱، كوئته).
وفي فتح القدير: وأصله (الخلاف مبني علي) أن الفلس لا يتعين بالتعيين مادام رائجاً عند محمد رحمه الله وعندهما يتعين. (فتح القدير: ۷/۲۱، دار الفكر).

صاحبِ ہدایہ، محقق ابن ہمام رحمه الله، اور علامہ ابو بکر کاسانی رحمه الله نے شیخین رحمه الله کے قول کو مختار قرار دیا ہے ۔ اور شمس الائمہ حلوانی رحمه الله نے فرمایا اس مسئلہ میں فتوی شیخین رحمه الله کے قول پر ہے ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

وتأخير دليلهما بحسب عادة المصنف رحمه الله ظاهر في اختياره قولهما. (فتح القدير: ۷/۱۵۸، كتاب الصرف، دار الفكر).

عالمگیری میں ہے:

قال الشيخ الإمام الأجل شمس الأئمة الحلواني رحمه الله: كل جواب في الفلوس فهو الجواب في الدراهم البخارية أعني بها الغطارف، وكذلك الجواب في الرصاص والستوق، قالوا: ويجب أن يكون في العدالي كذلك كذا في الذخيرة؛ حتى لو باع واحداً منهما باثنين يجوز بعد أن يكون يداً بيدٍ، هذا هو المختار للفتوى كذا في الغياثية. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۰۳).

اس معاملہ کے جواز کا دوسرا پہلو: ۔
ثمنیت سے قطع نظر اس معاملہ کو ایک دوسری جانب سے دیکھا جائے تب بھی اس میں عدم جواز کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، اس طور پر کہ فلوس کا باہمی تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ کرنے میں اگر چہ دونوں جانب جنس متحد ہے، لیکن قدر (کیل و وزن) موجود نہیں اور ربا متحقق ہونے کے لیے قدر مع الجنس کا ہونا ضروری ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ فلوس کی بیع عددیات میں شمار ہوتی ہے، اور عددی چیز میں ہم جنس کا تبادلہ تفاوت کے ساتھ جائز ہے، بشرطیکہ مجلس عقد میں بدلین موجود اور معین ہوں ۔
ملاحظہ فرمائیں محیط برہانی میں ہے:

وإن قلنا: إن الثمنية لا تبطل إلا أن ربا النقد إنما يجري بالجنس والقدر وهو الكيل أو الوزن وههنا إن وجد الجنس لم يوجد القدر، أما الكيل فظاهر وأما الوزن، فلأن الناس تعارفوا بيع الفلوس عدداً لا وزناً ولهذا، قلنا: إذا باع فلساً بعينه وأحدهما أثقل من الآخر وزناً أنه يجوز، ولو كان موزوناً لكان لا يجوز كما إذا باع درهماً بدرهم أثقل من الآخر وزناً وههنا لما جاز علمنا أن الوزن ساقط الاعتبار في الفلوس فلم يوجد إلا الجنس فلا يجري الربا. (المحيط البرهاني: ۷/۲۷۰).
وفي البدائع: ويجوز بيع العدديات المتقاربة من غير المطعومات بجنسها متفاضلاً عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله بعد أن يكون يداً بيدٍ كبيع الفلس بالفلسين بأعيانهما. (بدائع الصنائع: ۵/۱۸۵، سعيد).
وفي فتح القدير: قوله ويجوز بيع البيضة بالبيضتين

إن ذلك كله مشروط بكونه يداً بيدٍ أو هي من مسائل الجامع الصغير، صورتها فيه: محمد عن يعقوب عن أبي حنيفة رحمه الله في بيع بيضة ببيضتين وجوزة بجوزتين وفلس بفلسين وتمرة بتمرتين يداً بيدٍ جائز إذا كان بعينه وليس كلاهما ولا أحدهما ديناً. (فتح القدير: ۷/۲۰، دار الفكر).
وفي العناية: بيع العددي المتقارب بجنسه متفاضلاً جائز إن كانا موجودين لانعدام المعيار، وإن كان أحدهما نسيئة لا يجوز لأن الجنس بانفراده يحرم النساء. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ۷/۲۰، دار الفكر).

فتاوی شامی میں ہے:

ثم اعلم أن ذكر النساء للاحتراز عن التأجيل، لأن القبض في المجلس لا يشترط إلا في الصرف وهو بيع الأثمان بعضها ببعض أما ما عداه فإنما يشترط فيه التعيين دون التقابض. (فتاوى الشامي: ۵/۱۷۲، باب الربا، سعيد).

مسئلہ بالا پر چند اشکالات اور جوابات:
اشکال (۱): بعض مفتی حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نوٹ کو سکوں پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ سکوں کی ثمنیت ختم ہو جانے پر بھی قیمتی دھات ہیں، جب کہ نوٹ کی کوئی حیثیت نہیں؟
الجواب (۱): اس کا جواب یہ ہے کہ کاغذی نوٹ بھی فی نفسہ مال متقوم ہیں، ثمنیت کے بغیر بھی مختلف مواقع مثلاً جلانے، زیب و زینت، گلے میں ہار ڈالنے اور ری سائیکل (recycle) کر کے دوبارہ استعمال کرنے کے کام آتے ہیں ۔ بلکہ کبھی پرانے نوٹ زیادہ قیمتی ہوتے ہیں، کیوں کہ لوگ اس کو بطورِ نمائش رکھتے ہیں، یا حکومت زیادہ قیمت پر واپس لے لیتی ہے ۔
مزید ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مباحث: ۲/۸۱) ۔
(۲) دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ثمنیت کے باب میں اس قسم کا فرق مضر نہیں، وجہ یہ ہے کہ فقہاء نے جو فلوس کی تعریف بیان فرمائی ہے، وہ نوٹ کو بھی شامل ہے صرف معدنی سکوں کے ساتھ خاص نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں شیخ احمد زرقا شرح القواعد الفقہیہ میں تحریر فرماتے ہیں:

والذي يظهر أن الورق النقدي

الرائج في بلادنا الآن ونظيره الرائج في البلاد الأخرى، هو معتبر من الفلوس النافقة، وما قيل فيها من الأحكام السابقة، يقال فيه لأن الفلوس النافقة هي ما كان متخذاً من غير النقدين الذهب والفضة،

والورق المذكور من هذا القبيل، ومن يدعي تخصيص الفلوس النافقة بالمتخذ من المعادن فعليه البيان. (شرح القواعد الفقهية، للشيخ أحمد الزرقا، ص ۱۷٤).

بلکہ حضرت امام مالک رحمه الله کی تصریح کے مطابق فلوس چمڑے کے بھی ہو سکتے ہیں:

لو أن الناس أجازوا بينهم الجلود حتى تكون لها سكة وعين لكرهتها أن تباع بالذهب والورق نظرة. (المدونة الكبرى: ۳/۹۰، التأخير في صرف الفلوس، دار الفكر).
وفي المصباح المنير: الفلس الذي يتعامل به. (المصباح المنير: ۲/٤۸۱، بيروت).

مزید ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مباحث
۲
/
۱۳۳
) ۔
کرنسی نوٹ کاغذی پرزے ہونے کے باوجود فلوس ہی کے حکم میں ہیں اور ان کا باہمی تبادلہ تفاضل کے ساتھ جائز ہے، فتح القدیر میں اس کی تصریح موجود ہے:

لو باع كاغذة بألف يجوز ولا يكره. (فتح القدير: ۷/۲۱۲، كتاب الكفالة، دار الفكر. وكذا في رد المحتار: ۵/۳۲٦، سعيد).

لہذا جو حضرات کہتے ہیں کہ بغیر ثمنیت کے اس کی کوئی حیثیت نہیں، یہ بات درست نہیں ۔
دوسرا اشکال اور جواب:
اشکال (۲): بعض حضرات نے صاحبِ ہدایہ کی درج ذیل عبارت سے استدلال کرتے ہوئے منع کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

ومشايخنا لم يفتوا بجواز ذلك في العدالي والغطارفة لا نها أعز الأموال في ديارنا فلو أبيح التفاضل فيه ينفتح باب الربا. (الهداية: ۳/۱۰۹).

یعنی نوٹوں کو عدالی اور غطارفہ پر قیاس کرتے ہوئے منع کیا ہے، اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: عدالی اور غطارفہ کی ممانعت کی اصل وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں ان میں چاندی پائی جاتی تھی جو کہ ثمن خلقی ہے، اور وہ بھی اوپر کی سطح پر ہونے کی وجہ سے لوگ چاندی جیسا معاملہ کرتے تھے، نیز دوسری قیمتی دھات کی ملاوٹ کی وجہ سے چاندی کی قیمت سے زیادہ اس میں تفاوت نہیں ہوتا تھا ۔
ملاحظہ ہو محیط برہانی میں ہے:

أن الفضة وإن كان أقل فهي قائمة للحال حقيقة، فإنها تري وتشاهد، فإن اللون لون الفضة ومتى أذيبت تخلص الفضة وتخرج بيضاً خالصة

فكانت الفضة قائمة باعتبار الحال والمأل

فلأن الفضة يجعل في الصفر لترويج الصفر بالفضة ولهذا سموه دراهم، ولهذا جعلوا الفضة ظاهراً والصفر باطناً فكانت الفضة معتبرة وإن كان أقل من الصفر. (المحيط البرهاني: ۷/۲۷٦).

اسی وجہ سے فقہاء نے اس کو بیع صرف میں شمار کر کے بدلین پر تقابض کو ضروری قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو، فتح القدیر میں ہے:

ولكنه مع هذا صرف حتى يشترط القبض قبل الافتراق

لوجود الفضة من الجانبين. (فتح القدير: ۷/۱۵۲، كتاب الصرف، دار الفكر).

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله نے بھی شیخین کے مذہب کو راجح قرار دیتے ہوئے پیسوں کے تبادلہ کو کمی بیشی کے ساتھ جائز قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی رشیدیہ میں ہے:
معلوم ہوا کہ فلوس عددی ہیں، اگر اپنی مثل سے مبادلہ کیا جاوے تو درست ہے کیوں کہ اتحادِ جنس ہے، مگر کیل و وزن نہیں تو تفاضل سب درست ہے مگر نسیۂ حرام ہے، اور یہ مذہب شیخین رحمه الله کا ہے اور یہ قوی ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص۵۳۷، مکتبہ رحمانیہ) ۔
مجموعۃ الفتاوی میں ہے:
استفسار: چہ فی فرمایند علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین دریں مسئلہ کہ نوٹ (یعنی کاغذ زر) کہ در نیو لارائج است خرید و فروخت انہا برکم وزیادت جائز است یا نہ،
بينوا توجروا
؟

الجواب هو الملهم للصواب:
خرید و فروخت نوٹ مذکور برکمی یا زیادتی جائز ست چراکہ حکام اور ا مال قرار دادہ است و ہر شے کہ دراصطلاح قوم مال قرار دادہ شود اگر چہ فی اصلہ دراں ثمنیت و مالیت ثابت نہ باشد لیکن فقط از قرار دادن قوم دراں ثمنیت و مالیت ثابت می شود ۔
قال في الهداية: ويجوز بيع الفلس بالفلسين

الخ.
پس ہر گاہ در نوٹ مذکور کہ کاغذست مالیت ثابت شدہ خرید و فروخت آن ہم بکمی وبیشی جائز ست دررد المحتار در باب بیع العینہ آمدہ:
حتى لو باع كاغذة بألف يجوز ولا يكره، انتهى، والله أعلم وعلمه أتم،
العبد المجیب محمد ریاست علی عفی عنہ، الجواب صواب محمد ارشاد حسین احمد، الجواب صحیح محمد اعجاز حسین، البتہ بیع و شراء مذکور جائز ست فقط العبد محمد عبد القادر عفی عنہ، الجواب صحیح کتبہ حامد حسین عفی عنہ، الجواب صواب محمد حسین، بلا شبہہ نوٹ در اصطلاح مال قرار دادہ می شود پس بیع و شراء مذکور جائز ست فقط العبد ابو القاسم محمد مزمل عفی عنہ، حکم کردن مجیب نسبت صحت بیع مذکور صحیح و درست ست العبد محمد عنایت اللہ عفی عنہ، الجواب ہو الجواب محمد نظر علی، الجواب صواب محمد عبد الجلیل بن محمد عبد الحق خان ۔ (
مجموعة الفتاوى على هامش خلاصة الفتاوى: ۳/۱۲، كتاب البيوع).

نیز مفتی نظام الدین اعظمی رحمه الله اور مفتی فرید صاحب نے بھی جائز قرار دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۲/۳۷٤ ۔ و فتاوی فریدیہ: ۲/٦۷۷) ۔
حاصل کلام: نوٹ کو یداً بیدٍ تفاضل کے ساتھ فروخت کرنا بہت شاذ و نادر ہے، کبھی عید کے موقعہ پر لوگ نئے نوٹ پرانے نوٹوں کے بدلے میں لیتے ہیں، عام حالات میں اس پر عمل درآمد نہیں، باقی بینک والا سود کہ روپیے یا رینڈ جمع کراتے ہیں، پھر مدت گزرنے کے ساتھ اس پر زیادتی ہوتی ہے، وہ سود ہے اور قطعاً حرام ہے، اس کو ربا قرآنی کہتے ہیں:

﴿وإن تبتم فلكم رؤس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون﴾. (سورة البقرة، الآية: ۲۷۹).

خلاصہ یہ ہے کہ اجل کے بڑھنے سے قرض کی رقم کا بڑھنا بالکل ناجائز ہے ۔
دوسرے بعض علماء مثلاً مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله، مولانا عبد الحی رحمه الله، مفتی تقی صاحب وغیرہ کی رائے یہ کہ تفاضل کے ساتھ فروخت کرنا ناجائز ہے ۔
اور یہ رائے مبنی بر احتیاط ہے، ورنہ مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں تفاوت کے ساتھ فروخت کرنے کی گنجائش بہرحال ہونی چاہیے ۔
کرنسی کے تبادلہ میں اسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ:
عصر حاضر میں نوٹوں کے ذریعہ تبادلہ میں مکمل طور پر زر خلقی سونا چاندی کی جگہ لے لی ہے اور باہمی لین دین نوٹوں کے ذریعہ انجام پاتا ہے اس لیے کرنسی نوٹ بھی احکام میں ثمن حقیقی کے مشابہ ہے، لہذا ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ اس ملک کی کرنسی سے کمی بیشی کے ساتھ نہ نقد جائز ہے نہ ادھار ۔ (اہم فقہی فیصلے، ص۲٤، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.