پانچ رینڈ کے سکوں کو کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #148Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۸): بیع صرف کا بیان

Question

چونکہ ہمارا پرانا صدرِ مملکت (نیلسن منڈیلا) ۹۰ سال کا ہو چکا ہے تو رِ زرؤ (Reserve) بینک والوں نے ۵ رینڈ کے سکے نکالے جن پر اس کی تصویر بنائی، اس سکے کو صرف ایک خاص مقدار میں نکالے ہیں، اگر اس کو جنوبی افریقہ کی بینکوں سے لیا جائے تو اس کی قیمت پانچ رینڈ ہی ہے، لیکن بیرونِ ملک میں اس کے بدلے میں ایک ہزار رینڈ بھی مل سکتے ہیں، کیوں کہ اس پر اس کی تصویر ہے اور وہ مشہور ہے اور لوگ ایسی چیزوں کو جمع کرتے ہیں، تو کیا میں ان سکوں کو یہاں سے خرید کر بیچ سکتا ہوں؟ کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر اس کو رینڈ کے علاوہ دوسری کرنسی کے عوض کمی بیشی کے ساتھ فروخت کیا جائے تو بالکل جائز اور درست ہے، اور اگر زیادہ رینڈ کے بدلے میں بیچ دے تو علماء کا اختلاف ہے، بعض مفتی حضرات کے نزدیک جائز ہے، کیوں کہ اس کو ثمن حقیقی کی حیثیت حاصل نہیں ہے ۔ لہذا امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر عمل کرتے ہوے اس کی گنجائش ہے ۔ ہدایہ میں ہے:

ويجوز بيع الفلس بالفلسين بأعيانهما عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله وقال محمد رحمه الله لا يجوز

ولهما أن الثمنية في حقهما تثبت باصطلاحهما إذ لا ولاية للغير عليهما فتبطل باصطلاحهما وإذا بطلت الثمنية تتعين بالتعيين. (الهداية:، باب الربا، ۳/۸۱).

فقہی مقالات میں ہے:
امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر عمل ان فلوس میں متصور ہو سکتا ہے جو بذاتِ خود بحیثیتِ مادہ کے مقصود ہوں جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ مختلف ممالک کے سکے اور کرنسی نوٹ اپنے پاس جمع کرتے ہیں، اس جمع کرنے سے ان کا مقصد تبادلہ یا بیع یا اس کے ذریعہ منافع حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف تاریخی یادگار کے طور پر جمع کرتے ہیں تاکہ آئندہ زمانے میں جب یہ کرنسی بند ہو جائے تو یہ کرنسی ان کے پاس یادگار کے طور ہر باقی رہے بظاہر اس قسم کی کرنسی میں ان دونوں حضرات کے قول پر عمل کرتے ہوے کمی زیادتی کے ساتھ تبادلہ کو جائز کہنے کی گنجائش نکل سکتی ہے ۔ (فقہی مقالات: ۱/۳۷) ۔
اور اگر بحیثیتِ ثمن بھی خرید لے جیسے پرانے نوٹ کے بدلے نئے نوٹ کم کبھی کبھی ملتے ہیں تو یہ بھی بعض مفتی حضرات کے نزدیک جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو نظام الفتاوی میں ہے:
نوٹ نہ کیلی ہے اور نہ وزنی بلکہ عددی ہے، اس لیے کمی بیشی کے ساتھ بدلنا جائز ہے ۔ (نظام الفتاوی، کتاب المعاملات، ۱/۲۹۹) ۔
فتاوی فریدیہ میں ہے:
سوال: اگر کوئی شخص ایک ہزار کا نوٹ دس روپے کے نوٹ پر فروخت کرے تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب: چونکہ یہ دونوں نوٹ کاغذ کے ہیں نہ چاندی کے ہیں نہ سونے کے، تو یہ تبادلہ شرعاً ناجائز اور ربا نہیں ہے، چونکہ ان کی ذاتی قیمت معمولی ہے اور اعتباری اور سرکاری قیمت غیر معمولی ہے پس یہ تبادلہ ممنوع عرفی ہوگا نہ کہ ممنوع شرعی، اسی طرح ڈالر، ویزہ، ٹکٹ اور کاغذی کرنسی کے تبادلے تفاضل سے ممنوع عرفی ہوں گے نہ کہ ممنوع شرعی ۔ (فتاوی فریدیہ: ۲/٦۷۷) ۔
اس مسئلہ کی تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی ہے، وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.