سود میں سود کی ادائیگی کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #172Urdu
Vol. 5كتاب البيوعبابِ: سودی مصارف کا بیان

Question

خالد نے بینک سے ایک لاکھ رینڈ قرض لے کر اس کے عوض ایک گھر خریدا، بینک والوں نے کہا کہ ہمیں ایک لاکھ دس ہزار واپس کرنا، اب خالد وہ گھر زید کو بیچنا چاہتا ہے ایک لاکھ دس ہزار کے بدلے میں تاکہ وہ اپنا دین ادا کر دے، زید نے کہا کہ وہ ایک لاکھ رینڈ حلال مال سے ادا کرے گا اور دس ہزار سود کا مال دے گا کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

سود کا لین دین گناہِ کبیرہ ہے، قرآن و احادیث میں درد ناک وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لیے خالد کو توبہ کرنا چاہیے اور آئندہ کے لیے سودی قرض نہ لینے کا عزم کرنا چاہیے، پھر سود کی رقم کے بارے میں فقہاء نے لکھا ہے کہ یا تو اصل مالک کو واپس کر دے اگر مالک معلوم ہے، ورنہ فقراء پر بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دے ۔ اور سودی رقم سے سود ادا کرنے کا حکم یہ ہے کہ جس بینک سے سود لیا ہے اسی کو سود کی رقم کسی بھی عنوان سے واپس کر سکتا ہے، لیکن ایک بینک سے لینا اور دوسرے بینک کو واپس کرنا جائز نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو بذل المجہود میں ہے:

وأما إذا كان عند رجل مال خبيث فأما إذا ملكه بعقد فاسد أو حصل له بغير عقد ولا يمكنه أن يرد إلى مالكه ويريد ان يدفع مظلمته فليس له حيلة إلا أن يدفع إلى الفقراء. (بذل المجهود: ۱/۳۷).

البحر الرائق میں ہے:

قالوا: وعلي هذا لو مات رجل وكسبه من ثمن الباذق والظلم أو أخذ الرشوة تعود الورثة ولا يأخذون منه شيئاً وهو الأولي لهم ويردونه على أربابه إن عرفوهم وإلا يتصدقوا به لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد. (البحر الرائق: ۸/۲۰۱، فصل في البيع، كتاب الكراهية، كوئته).
وللاستزادة انظر: (تبيين الحقائق: ٦/۲۷، فصل في البيع، ملتان. والدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۸۵، فصل في البيع، سعيد).

نظام الفتاوی میں ہے:
ہر حرام مال کا شرعی حکم یہ ہے کہ جہاں سے ملا ہو وہاں واپس کر سکے تو کر دے، پس اس قاعدۂ شرعی کے تحت جو رقم سود کے نام پر جہاں سے ملی تھی وہی پہنچا دی جائے اس لیے یہ صورت شرعاً گنجائش رکھے گی، اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو سود کی رقم کا حکم شرعی یہ ہے کہ اس کے وبال سے بچنے کی نیت سے غرباء و مساکین کو بطورِ صدقہ دے دے ۔ (نظام الفتاوی: ۱/۱۹۱) ۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
البتہ اگر ماضی میں غلطی سے سودی اکاؤنٹ میں پیسے رکھوا دیے گئے ہیں اور سودی قرض لے لیا گیا تو اس طرح تصفیہ کر سکتے ہیں کہ ایک اکاؤنٹ سے لے کر دوسرے میں دے دیں، بشرطیکہ لیا ہوا سود دیے ہوئے سود سے زائد نہ ہو، برابر ہو جائے، لیکن آئندہ کے لیے یہ سلسلہ بالکل بند کر دیں۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۲۸۰) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
اگر کوئی شخص سودی قرض لینے پر مجبور ہو جائے اور قرض لے لے پھر اس کے پاس بینک سے حاصل ہونے والی سود کی ایک رقم موجود ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہی رقم بطورِ سود ادا کر دے، اس لیے کہ سود دینا بھی گناہ ہے کیوں کہ اس طرح وہ اللہ کے عطا کیے ہوئے مال حلال کو حرام راہ میں خرچ کرتا ہے، اب اگر کوئی شخص سود ہی کی رقم اس راہ میں دے دیتا ہے تو ایک مال حلال کو بے حرمتی سے بچاتا ہے، امید ہے کہ اس پر اس کا مواخذہ نہ ہوگا، مولانا تھانوی رحمہ اللہ کا رجحان بھی اسی طرف ہے ۔ (جدید فقہی مسائل، جلد اول، ص ۲۵٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.