بینک میں پیسہ جمع رکھنے کا حکم:
Question
بعض لوگ رفاہِ عام اور خیراتی کام کرتے ہیں، لیکن رقم کم ہونے کی وجہ سے بینک میں رکھ کر سود حاصل کرتے ہیں تاکہ پیسہ زیادہ ہو جائے، اور کبھی ایک بینک سے دوسرے بینک میں منتقل کرتے ہیں زیادہ سود حاصل کرنے کے لیے، کیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟
Answer
رفاہِ عام اور خیراتی کام کرنا بہت اچھا ہے، مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچانے کام زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے، لیکن سود لینے کی غرض سے بینک میں پیسہ رکھنا ناجائز اور حرام ہے ایک مستحب کام کے لیے حرام کا ارتکاب کرنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے، پھر ایک بینک سے نکال کر زیادہ سود حاصل کرنے کے لیے دوسرے بینک میں رکھنا تو اور زیادہ برا ہے، جو سود لیا ہے وہ ثواب کی نیت کے بغیر فقراء پر صدقہ کر دیں، اور آئندہ کے لیے ایسا نہ کریں اور توبہ کر لیں، ہاں بغرضِ حفاظت پیسہ بینک میں رکھنے کی گنجائش ہے ۔ تاہم احتیاط اولی ہے ۔
ملاحظہ ہو نظام الفتاوی میں ہے:
حفاظت کی غرض سے بینک میں رقم جمع کرنا درست ہے، پھر جو رقم بینک سے سود کے نام سے ملے اس کو مستحقین پر اور قرضہ میں دبے ہوے اور پریشان حال مسلمانوں پر خرچ کر دے ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱/۱۸۸) ۔
نیز مرقوم ہے:
پہلی بات تو یہ ہے کہ حفاظت کی غرض سے یا کسی مجبوری کی وجہ سے اگر بینک میں روپیہ جمع کرنا پڑے تو ایسے شعبہ یا کھاتا میں جمع کرنے کی کوشش کرے جس میں سود کا حساب ہی نہ لگایا جاتا ہو ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱/۱۹۰) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: ایک کمیٹی جو عام مسلمانوں کی خدمت کرتی ہے اس نے کچھ رقم بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کی ہے جس میں سود نہیں ملتا مگر اب کمیٹی کے ممبران چاہتے ہیں کہ یہ رقم "سیونگ اکاؤنٹ" میں جمع کی جائے تاکہ اس کا سود ملے اور اسے مصیبت زدہ مسلمانوں پر خرچ کریں، کیا کمیٹی کا یہ اقدام از روئے شرع شریف درست ہوگا؟ اور سود میں ملی ہوئی رقم مسلمانوں پر خرچ کرنا درست ہوگا؟
الجواب: بینک میں حفاظت یا قانونی دشواریوں کی وجہ سے رقم رکھی جا سکتی ہے، سود حاصل کرنے کی نیت سے رقم رکھنا درست نہیں ہے، اگر چہ یہ نیت ہو کہ سود کی رقم محتاجوں کودے دی جائے گی، ۔ سود حاصل کرنے اور اسے غرباء پر خرچ کرنے کے ارادہ سے بینک میں رقم رکھنا جائز نہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۹/۲۷۰) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (کتاب الفتاوی: ۵/۳۳۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.