بینک میں جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #61Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

بینک میں جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ لازم ہے یا نہیں؟

Answer

بینک میں جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ لازم ہے اس لئے کہ مالک نے اپنے اختیار سے جمع کرائی ہے اور یہ رقم اس کی ملک میں ہے، لہذا سال گزرنے پر زکوٰۃ لازم ہے ۔
ملاحظہ ہو جدید فقہی مسائل میں ہے:
بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھی جائے یا فکس ڈپازٹ کی جائے ہر دو صورت میں جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ واجب ہو گی، زکوٰۃ واجب ہونے کے لئے ملکیت اور قبضہ ضروری ہوتا ہے، بنک میں جمع رقم پر ملکیت تو جمع کرنے والے کی ظاہر ہی ہے، قبضہ بظاہر اس کا نہیں ہے مگر چونکہ اس نے اپنے ارادہ و اختیار سے بینک میں رقم جمع کی ہے، لہذا بینک قبضہ میں اصل مالک کا نائب ہے، اس طرح بالواسطہ جمع کنندہ کا قبضہ بھی ثابت و محقق ہے، اس لئے فقہاء نے از راہ امانت رکھے گئے مال میں زکوٰۃ واجب قرار دی ہے کیوں کہ امین کا قبضہ اصل مالک کا قبضہ ہے، لہذا ہر ایسی جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ واجب ہو گی جس کو مالک نے اپنے اختیار و مرضی سے جمع کیا ہو ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۱٦، نعیمیہ) ۔
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی دار العلوم: ٦/۱۳٤، و امداد الاحکام: ۲/۲۵، و فتاوی رحیمیہ: ۲/۱٤ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.