بینک کے ذریعہ سے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم:
Question
پاکستان میں لوگ بینکوں میں روپے رکھتے ہیں، حکومت کا قانون یہ ہے کہ حکومت اس رقم سے زکوٰۃ کاٹتی ہے، رقم جمع کرنے والوں کو یہ قانون معلوم ہے، بلکہ غالباً بینک کے کاغذات میں یہ قانون موجود ہے، اس کٹوتی سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے یا نہیں؟
بعض حضرات کہتے ہیں کہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، اور مندرجۂ ذیل اشکالات کرتے ہیں:
(۱) بینک مقروض ہے، اس نے زکوٰۃ اپنی رقم سے نکالی، یعنی رقم بینک کی ملکیت میں ہے مالک کی ملک میں نہیں؟
(۲) در حقیقت بینک نے سود کی رقم سے ایک حصہ کاٹا، مثلاً سود کی شرح ساڑھے سات فیصد ہے تو اس کی جگہ ۵ فیصد رقم مالک کو دی تو کٹوتی سود سے ہوئی، نہ کہ زکوٰۃ سے؟
لہذا اس مسئلہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟
Answer
(۱) اس مسئلہ میں ہدایہ کی ایک عبارت سے روشنی ملتی ہے کہ: اگر کسی شخص کا دوسرے پر ہزار رینڈ کا قرضہ ہے اور قرض خواہ نے مقروض سے کہا کہ اس ایک ہزار سے ایک غلام غیر معین خرید لو، پس مقروض نے غلام خرید لیا پھر قرض خواہ کے قبضہ کرنے سے پہلے ہی مقروض کے پاس مر گیا تو یہ مقروض کے مال میں سے ہلاک ہوا، اور اگر قرض خواہ نے قبضہ کر لیا پھر مرا تو یہ قرض خواہ کی ملک میں ہلاک ہوا، اور یہ مسئلہ امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک ہے، اور صاحبین کے نزدیک دونوں صورتوں میں قرض خواہ کی ملک میں ہلاک ہوگا، (یعنی مقروض قرض خواہ کی طرف سے وکیل بالقبض ہوگا اور وکیل کا قبضہ مؤکل کا قبضہ ہے) ۔ پھر اس کے چند سطور بعد صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: برخلاف اس کے کہ اگر قرض خواہ مقروض کو صدقہ کرنے کا حکم کرے (یعنی صدقہ قرض خواہ کے مال میں سے ادا ہوگا) اس لیے کہ یہاں اس نے مال اللہ تعالی کے لیے صدقہ کیا اور اللہ تعالی معلوم ہے ۔
اسی مسئلہ پر قیاس کرتے ہوے صورتِ مسئولہ میں بینک میں رقم جمع کراتے وقت گویا مالک نے برض اور غبت یہ کہہ دیا کہ تم میری زکوٰۃ ادا کر دیا کرو پھر جب بینک اس طرح زکوٰۃ ادا کر دے تو صحیح ہے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، فقیر وکیل بالقبض ہوگا، جو اللہ تعالی کی طرف سے نائب بن کر قبضہ کرے گا پھر اپنے لیے قبضہ کرے گا، گویا کہ فقیر اصل مالک سے وصول کر رہا ہے، تو بینک کا زکوٰۃ ادا کرنا اصل ادا کرنا اصل مالک کے زکوٰۃ ادا کرنے کی طرح ہے ۔
ہدایہ کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
ومن له على آخر ألف درهم فأمره أن يشتري بها عبد اً بغير عينه فاشتراه، فمات في يده قبل أن يقبضه الآمر مات من مال المشتري، وإن قبضه الآمر فله ولهذا عند أبي حنيفة رحمه الله، وقالا: هو لا زم للآمر إذا قبضه المأمور
.. بخلاف ما إذا أمره بالتصدق، لأنه جعل المال لله تعالى وهو معلوم. (الهداية: ۳/۱۸٦، ۱۸۷).
نیز یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے کہ جس پر مجلس تحقیق مسائل حاضرہ کراچی نے بحث کی تھی اور یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ بینک کا زکوٰۃ کاٹنا صحیح ہے ۔
نیز اس اشکال کا جواب احسن الفتاوی میں بھی بالتفصیل مذکور ہے، ملاحظہ ہو احسن الفتاوی: ٤/۳۱٤ ۔ ۳۲٤ ۔ لیکن اس مسئلہ کو مذکورہ بالا مسئلہ کی روشنی میں دیکھنے سے کوئی اشکال باقی نہیں رہتا ۔
(۲) دوسرا اشکال یہ تھا کہ بینک نے در حقیقت سود کی رقم سے ایک حصہ کاٹا، لہذا سود کی رقم سے ادائیگی ہوئی نہ کہ زکوٰۃ سے؟
اس کا جواب یہ کہ بینک میں رقم رکھی جاتی ہے وہ اکثر سودی رقم نہیں ہوتی، ہاں بینک کی طرف سے سود کی جو اضافی رقم حلال رقم کے ساتھ مل جائے اور کل رقم سے زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو زکوٰۃ حلال مال کی طرف منسوب ہو گی، اور سود کی رقم واجب التصدق سمجھی جائے گی ۔ نیز آدمی پر لازم ہے کہ کل سودی رقم بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دے ۔
مثلاً ایک آدمی نے ۰۰۰، ۱۰۰، ایک لاکھ بینک میں جمع کرائے، اس پر ۰۰۰، ۱۰، دس ہزار سود آیا بینک نے اس پوری رقم میں سے چالیسواں حصہ یعنی ۲۷۵۰ دو ہزار سات سو پچاس زکوٰۃ نکالی، تو ڈھائی ہزار ایک لاکھ کی زکوٰۃ ہے اور ۲۵۰ ڈھائی سو زکوٰۃ نہیں، بلکہ سودی رقم صدقہ کی، ہاں آدمی پر لازم ہے کہ بقیہ ۹۷۵۰ کو بھی صدقہ کر دے، اور سود کا مصرف بھی فقراء ہیں، اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ (مستفاد از فتاوی حقانیہ: ٤/۹۸) ۔
یاد رہے مذکورہ بالا تفصیل اس وقت ہے جب کہ بینک نے اس شخص کی زکوٰۃ اس پر سود آنے کے بعد نکالی ۔
اور اگر زکوٰۃ نکالنے کے بعد سود آیا مثلاً ایک لاکھ کی زکوٰۃ ۲۵۰۰ نکال کر زکوٰۃ فنڈ میں بینک نے رکھ دی، پھر ۲۵۰۰، پر سود آیا، تو یہ زیادتی فقراء کے حق میں ہی ہو گی، نہ کہ مالک کے حق میں ۔
ونظيره إبل الزكاة والأضحىة إذ ولدت. (
مستفاد از فتاوی فریدیہ: ۳
/
۳۸۰) ۔
در مختار میں ہے:
ولدت الأضحية قبل الذبح يذبح الولد معها، وعند بعضهم يتصدق به بلا ذبح. (الدر المختار: ۵/۳۲۳، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.