نوٹ سے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم:
Question
نوٹ سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے یا نہیں؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تک نوٹ کو سونا، چاندی سے نہ تبدیل کریں اس وقت تک زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، کیا یہ صحیح ہے؟
Answer
سابقہ زمانہ میں علماء کے درمیان کچھ اختلاف تھا مثلاً حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله، حضرت مفتی محمد شفیع رحمه الله اور بہت سے علماء کی رائے یہ تھی کہ یہ محض وثیقہ ہے اور اس کی حیثیت قرض کی سند کی ہے ۔
لیکن موجود ہ زمانہ میں تقریباً اتفاق ہو چکا ہے کہ اب اس نے بذاتِ خود مالیت کی حیثیت اختیار کر لی ہے یعنی نوٹ خود مال اور ثمن ہے نہ کہ محض سند اور وثیقہ، لہذا اس پر زکوٰۃ بھی لازم ہے اگر بقدرِ نصاب ہو تو اس سے زکوٰۃ کی ادائیگی بھی درست ہے فقیر کو مالک بناتے ہی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی ۔
دورِ جدید کے محقق وہبہ زحیلی فرماتے ہیں:
والحق وجوب الزكاة فيها (الأوراق النقدية) لأنها أصبحت هي أثمان الأشياء، وامتنع التعامل بالذهب. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۲/۷۷۲، زكاة الأوراق النقدية، دار الفكر).
پش اور سے شائع ہونے والا ماہ نامہ "العصر" میں بھی اس قسم کا مضمون چھپا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
نوٹ بذاتِ خود ثمنِ عرفی بن گئے ہیں، لہذا نوٹوں کے ذریعے زکوٰۃ ادا کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہے، بلکہ فی الفور ادا متصور ہو گی اور یہی قول قوی ہے ۔
نیز مرقوم ہے:
عصرِ حاضر میں کاغذی نوٹوں کا ثمنِ عرفی بن جانا بدیہی حقیقت بن گیا ہے کہ انسانی معاشرے میں ا نہیں کے ذریعہ تبادلہ اور قوتِ خرید کا حاصل تسلیم کر لیا ہے، ورنہ تو ذاتی حیثیت کاغذی پر زوں سے زیادہ نہیں رکھتا ۔ (ماہنامہ "العصرــ" جامعہ عثمانیہ پش اور ، ص: ۳۰ ۔ ۳۱، ستمبر۲۰۰۷ء شعبان ۱٤۲۸هـ) ۔
مزید ملاحظہ ہو: جدید فقہی مسائل: ۱/۲۲٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.