بینک کے ساتھ معاملات کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے بینک کے ساتھ کچھ سرمایہ کاری کے معاملات کیے تھے بینک کے قانون کی وجہ سے بینک نے اس شخص پر سود عائد کیا، تو کیا یہ سود دین کے حکم میں ہوگا؟ اور زکوۃ کے مسئلہ میں سود منہا کیا جائے گا یا نہیں؟
Answer
شریعتِ مطہرہ نے ربا کے معاملات کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے اسی طرح ربا والے بینک کے ساتھ سود کا لین دین بھی ناجائز اور حرام ہے، اس سے اجتناب کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم اور ضروری ہے، قرآن و احادیث میں سودی لین دین کرنے والوں پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ۔ لہذا ایسے معاملہ سے دل کی گہرائی سے توبہ کرنا چاہیے ۔
تاہم ضرورت اور مجبوری یا غلطی کی وجہ سے یا فسق و فجور کی وجہ سے ایسا سودی معاملہ کرنے کی صورت میں بینک کی طرف سے سود لازم ہوا ہے تو فقہاء کی عبارات کے پیش نظر کہ نوائب جو ظلماً وصول کیے جاتے ہیں ان کو دین میں شمار کیا ہے اس وجہ سے مذکورہ بالا سودی قرضوں کو دین میں شمار کر سکتے ہیں، لیکن چونکہ بینک کے دیون اکثر قسطوار ہوتے ہیں لہذا زکوۃ کے مسئلہ میں کل دین منہا نہیں کیا جائے گا بلکہ فقط اسی سال کی قسطیں منہا کر کے پورے مال کی زکوۃ ادا کی جائے گی، اس مسئلہ کی مزید تفصیل جلد سوم ابو اب الزکوۃ کے تحت گزر چکی ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وكذا النوائب ولو بغير حق كجنايات زماننا فإنها في المطالبة كالديون بل فوقها، حتى لو أخذت من الأكار فله الرجوع على مالك الأرض وعليه الفتوى. وفي الشامية: وإن أريد بها ما ليس بحق كالجنايات المؤظفة على الناس في زماننا ببلاد فارس على الخياط والصباغ وغيرهم للسلطان في كل يوم أو شهر فإنها ظلم فاختلف المشايخ في صحة الكفالة بها فقيل تصح إذ العبرة في صحة الكفالة وجود المطالبة إما بحق أو باطل. (فتاوى الشامي: ۵/ ۳۳۰، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وأما النوائب فإن أريد بها ما ليس بحق
فإنها ظلم اختلف المشايخ في صحة الكفالة بها كذا في فتح القدير، والفتوى على الصحة كذا في شرح الوقاية وممن يميل إلى الصحة الشيخ الإمام البزدوي كذا في الهداية وقال النسفي وشمس الأئمة وقاضيخان مثل قول فخر الإسلام لا نها في حق توجه المطالبة فوق سائر الديون. (الفتاوى الهندية: ۳/۲۹۱).
وللاستزادة انظر: (شرح العناية على هامش فتح القدير: ۷/۲۲۲. وفتح القدير: ۷/۲۲۳، دار الفكر).
وفي رد المحتار: الدين ما وجب في الذمة بعقد أو استهلاك وما صار في ذمته ديناً باستقراضه فهو أعم من القرض كذا في الكفاية. (رد المحتار: ۵/۱۵۷، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.