سودی کمپنی کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص ایک کمپنی کے ذریعہ مشین منگواتا ہے، جب تک کمپنی کو رقم ادا نہیں کی جاتی اس وقت تک کمپنی مشین کا کرایہ وصول کرتی ہے، لیکن کمپنی بینک کے ساتھ سودی کاروبار کرتی ہے یعنی بینک سے سود پر رقم لیتی ہے اور اس سے مشینیں وغیرہ خریدتی ہے اور پھر اس رقم پر سود ادا کرتی ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کمپنی سے مشین خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ خریدار کوئی سود ادا نہیں کرتے بلکہ یہ صرف کمپنی کا اپنا ذاتی معاملہ ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر زید نے مشین ایک لاکھ رینڈ میں مثلاً کمپنی کی وساطت سے خریدی اور کمپنی نے ایک لاکھ ادا کیا اور اب کمپنی اقساط میں ایک لاکھ بیس ہزار وصول کرے گی تو یہ سود ہے، اگر چہ اس کا نام کرایہ رکھے اور اگر کمپنی نے مشین ایک لاکھ میں خریدی اور زید کو ایک لاکھ بیس ہزار مؤجل میں مثلاً فروخت کی تو یہ مرابحہ ہے اور یہ جائز ہے ۔
اور اگر مشین کمپنی کی رہے گی اور زید اس کو متعین کرایہ ہر ماہ دیتا رہے گا اور کچھ مدت مقررہ کے بعد زید مشین واپس کر دے یا کمپنی زید کو کم قیمت پر بیچ دے یا ہبہ کر دے تو اس کی بھی گنجائش ہے ۔
رہا کمپنی کے سودی کاروبار کا معاملہ تو یہ اس کا اپنا فعل ہے اس سے خریداری متاثر نہ ہو گی، کیوں کہ غیر مسلم کمپنی غیر مسلم ممالک میں سودی رقم سے مشین خریدتی ہے اور ہم ان کو اسلامی احکام پر مجبور نہیں کر سکتے، کیوں کہ وہاں اسلامی حکومت نہیں ہے، پھر اس میں مسلمان براہِ راست سود کے لین دین میں ملوث نہیں ہے، اور مسلمان کا سود سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے تو ایسی کمپنی کے ساتھ معاملہ کرنے کی گنجائش ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.