مرابحہ میں فی ماہ نفع کے تعین کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #110Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (٤): مرابحه اور بينك سے متعلق احكام كا بيان

Question

زید نے عمر سے ایک مشین ایک ہزار میں خریدی، عمر نے اس طرح فروخت کی کہ اصل قیمت ایک ہزار رینڈ ہے، البتہ زید قسطوں میں ثمن ادا کرے گا اس لیے فی مہینہ دو سو رینڈ نفع لے گا، مثلاً جنوری سے مئی کے آخر تک پانچ ماہ کی اقساط کے مطابق اس کی قیمت دو ہزار بن گئی، پس دو ہزار مؤجل میں مشین فروخت کی، ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر مشتری دو ماہ کے بعد پوری قیمت ادا کر دے تو اس کی قیمت چودہ سو ہو جائے گی، کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ عقد در حقیقت عقدِ مرابحہ ہے اور بیع مرابحہ میں یہ جائز ہے کہ فی مہینہ دو سو رینڈ نفع لیا جائے، لہذا اگر پانچ ماہ کے بعد ادائیگی ہوئی تو دو ہزار قیمت بن جائے گی، اور اگر دو ماہ کے بعد ادا کر دیا یا مشتری کا انتقال ہو گیا تو چودہ سو رینڈ بن گئے ۔
ملاحظہ ہو اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
اگر بیع مرابحہ ہو جس میں بائع مدت کے مقابلہ میں ثمن میں جو زیادتی کر رہا ہے، اس کو صراحۃً بیان کر دے، اس کے بارے میں متأخرین احناف کا فتوی یہ ہے کہ اس صورت میں اگر مدیون مدتِ مقررہ سے پہلے اپنا دین ادا کر دے، یا مدتِ مقررہ آنے سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے، تو اس صورت میں بائع صرف اتنا ثمن وصول کرے گا جتنا سابقہ ایام کے مقابل میں ہوگا، اور مقررہ مدت تک جتنے ایام باقی ہیں، اس کے مقابل کا ثمن چھوڑنا ہوگا، شاید متأخرین حنفیہ کے اس فتوے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اگر چہ مدت مستقل طور پر قابل عوض ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی، لیکن ضمناً و تبعاً اس کے مقابلے میں کچھ ثمن مقرر کرنا جائز ہے، جیسے گائے کے حمل کی بیع مستقلاً تو جائز نہیں، لیکن اس حمل کی وجہ سے اس گائے کی قیمت میں اضافہ کرنا جائز ہے، چنانچہ کئی چیزوں کی بیع مستقلاً تو جائز نہیں ہوتی، لیکن بعض اوقات تبعاً اس کا عوض لینا جائز ہوتا ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل، ۳/۱۱۸، ۱۲۰، ملخصاً) ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

قضي المديون الدين المؤجل قبل حلول الأجل أو مات فحل بموته فأخذ من تركته لا يأخذ من المرابحة التي جرت بينهما إلا بقدر ما مضي من الأيام، وهو جواب المتأخرين، قنية، وبه أفتي المرحوم أبو السعود آفندي مفتي الروم، وعلله بالرفق للجانبين. وفي الشامية: قوله لا يأخذ من المرابحة، صورته اشتري شيئاً بعشرة نقداً وباعه لا خر بعشرين إلى أجل هو عشرة أشهر، فإذا قضاه بعد تمام خمسة أو مات بعدها يأخذ خمسة ويترك خمسة، أقول: والظاهر أن مثله ما لو أقرضه وباعه سلعة بثمن معلوم وأجل ذلك، فيحسب له من ثمن السلعة بقدر ما مضى فقط تأمل. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٦/۷۵۷، قبيل كتاب الفرائض، سعيد).

شامی میں ہے:

(قوله وعلله) أي علله الحانوتي بالتباعد عن شبهة الربا لا نها في باب الربا ملحقة بالحقيقة، وجهه أن الربح في مقابلة الأجل، لأن الأجل وإن لم يكن مالاً، ولا يقابله شيء من الثمن لكن اعتبروه مالاً في المرابحة إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن، فلو أخذ كل الثمن قبل الحلول كان أخذه بلا عوض. (فتاوى الشامي: ٦/۷۵۷، قبيل كتاب الفرائض، سعيد).
وللاستزادة انظر: (فتح القدير: ٦/۱۳۳، باب المرابحة والتولية، دار الفكر. والرائق: ٦/۱٤٤، باب المرابحة والتولية، كوئته. والطحطاوي على الدر المختار: ٤/۳٦۳، كوئته).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.