بیع عینہ کا طریقہ اور اس کا حکم:

8 min readFatwa Vol 5 #122Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب ( ٦): بیع کی مختلف قسموں کا بیان

Question

عمر زید کے پاس گیا اور اس سے دس ہزار کا قرضہ طلب کیا، زید نے قرض دینے سے انکار کر دیا، ہاں یہ کہا کہ میرے پاس مشین ہے اس کی قیمت دس ہزار ہے، وہ تم ۱۳ ہزار میں خرید لو اور چھ ماہ کے بعد مجھے ثمن ادا کرنا، عمر نے مشین خرید لی اور بازار میں یا پھر واپس زید کو ۱۰ ہزار نقد میں فروخت کی شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ اور کیا بینکوں کا مرابحہ بیع عینہ کے قبیل سے ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ عقد بیع عینہ میں داخل ہے اور اس مسئلہ کی مختلف صورتیں ہیں ۔ (۱) زید عقد میں ہی شرط لگا دے کہ مشین واپس مجھے دس ہزار میں فروخت کرو گے، یہ صورت دو وجہ سے ناجائز ہے، (الف) شرط کی وجہ سے، (باء) "
شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن"
کی وجہ سے یعنی بائع نے زیادہ قیمت پر بیچا اور کم قیمت پر خریدا ثمن کی ادائیگی سے پہلے ۔
(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ بغیر شرط کے بیچ دے اور واپس فروخت کرنے کا وعدہ لے یا شرط بعد البیع لگا دے ۔ یہ صورت بھی ناجائز ہے، کیوں کہ اس میں بھی "
شراء ما باع باقل مما باع قبل نقد الثمن"
پایا گیا ۔ ہاں ثمن کی ادائیگی کے بعد جائز ہے ۔
(۳) تیسری صورت یہ ہے کہ زید عمر کو وہ چیز ۱۳ ہزار میں بیچ دے پھر عمر اس کو بکر کے ہاتھ فروخت کرے اور بکر اس کو پھر زید کے ہاتھ فروخت کرے اس صورت میں امام محمد رحمه الله اور امام ابو یوسف رحمه الله کا اختلاف ہے، امام محمد رحمه الله فرماتے ہیں:

"هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. (فتاوى الشامي، كتاب الكفالة، ۵/۳۲٦، مطلب بيع العينة، سعيد).
اور اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو قاضيخان رحمه الله فرماتے ہیں:

ثم أن المستقرض يبيعها من غيره بأقل مما اشتري ثم ذلك الغير يبيعها من المقرض بما اشتري

وهذه الحيلة هي العينة التي ذكرها محمد. (فتاوى قاضيخان بهامش الهندية: ۲/۲۷۹، فصل فيما يكون فراراً من الربا).

امام ابو یوسف رحمه الله کے ہاں جائز ہے بلکہ اس کو قابل اجر فرماتے ہیں، نیز مشائخ بلخ بھی جائز کہتے ہیں ۔
فتاوی قاضيخان میں ہے:

وقال مشايخ بلخ رحمه الله بيع العينة في زماننا خير من البيوع التي تجري في أسواقنا وعن أبي يوسف رحمه الله أنه قال العينة جائزة مأجورة وقال أجره لمكان فراره من الحرام. (فتاوى قاضيخان بهامش الهندية: ۲/۲۷۹).

(٤) چوتھی صورت یہ ہے کہ زید عمر کو مشین فروخت کرے اور عمر اس کو بازار میں بکر کے ہاتھ فروخت کرے اور زید کے پاس واپس ہی نہ آئے، یہ صورت امام محمد رحمه الله کے نزدیک بھی جائز ہے ۔
فتح القدیر میں ہے:

ومالم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة. (فتح القدير: ۷/۲۱۳، دار الفكر).

بیع عینہ کو اس لیے عینہ کہتے ہیں کہ اس میں بائع نے قرض کو چھوڑ کر عین اور سامان کی طرف آنا پسند کیا یا اس
لیے کہ بائع کے پاس واپس عین یعنی وہ چیز آ گئی ۔
بیع عینہ کے مانعین درجِ ذیل حدیث سے استدلال کرتے ہیں:

حدثنا حيوة بن شريح عن إسحاق أبي عبد الرحمن قال سليمان عن أبي عبد الرحمن الخراساني أن عطاء الخراساني حدثه أن نافعاً حدثه عن ابن عمر رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إذا تبايعتم بالعينة وأخذتم أذناب البقر ورضيتم بالزرع وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلاً لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم". (رواه أبو داود: ۳/۲۹۱، باب في النهي عن العينة. والبيهقي في سننه الكبرى، باب ماورد في كراهية التبايع، ۵/۳۱٦، دائرة المعارف).
وفي الدراية في تخريج أحاديث الهداية: قال: وإسناده ضعيف، وله عند أحمد إسناد آخر أجود وأمثل منه ومن حديث عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه نحوه عنده بإسناد ضعيف. (باب البيع الفاسد، ۲/۱۵۱، بيروت).
وفي نصب الراية: قال رواه أحمد، وأبو يعلى الموصلي، والبزار في مسانيدهم، قال البزار: وأبو عبد الرحمن هذا هو عندي إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة، وهو لين الحديث انتهى. قال ابن القطان في كتابه: وهذا وهم من البزار، وإنما اسم هذا الرجل إسحاق بن أسيد أبوعبد الرحمن الخراساني، يروي عن عطاء روي عنه حيوة بن شريح، وهو يروي عنه هذا الخبر، وبهذا ذكره ابن أبي حاتم، وليس هذا بإسحاق بن أبي فروة، ذاك مدني، ويكني أبا سلمان، وهذا خراساني ويكني أبا عبد الرحمن، وأيهما كان فالحديث من أجله لا يصح، ولكن للحديث طريق أحسن من هذا، رواه أحمد في "كتاب الزهد" حدثنا أسود بن عامر ثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر رضي الله عنه قال: أتي علينا زمان، وما يري أحدنا أنه أحق بالدينار والدرهم من أخيه المسلم، ثم أصبح الدينار والدرهم أحب إلى أحدنا من أخيه المسلم، سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إذا ضن الناس بالدينار والدرهم، وتبايعوا بالعينة، وتبعوا أذناب البقر، وتركوا الجهاد في سبيل الله، أنزل الله بهم ذلاً، فلم يرفعه عنهم حتى يراجعوا دينهم". انتهى. قال وهذا حديث صحيح، ورجاله ثقات، انتهى. حديث آخر: رواه أحمد في "مسنده" حدثنا يزيد بن هارون عن أبي جناب عن شهر بن حوشب أنه سمع عبد الله بن عمرو عن رسول الله ﷺ، فذكر نحوه. (نصب الراية لاحاديث الهداية: ٤/۱۷، كتاب البيوع، بيروت).

خلاصہ یہ ہے کہ ابو داود کی سند ضعیف ہے اور مسند احمد کی سند صحیح ہے ۔
اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس سے بیع عینہ کی ممانعت ثابت ہو گی، تاہم یہ حدیث نمبر چار صورت کو شامل نہیں ۔ اور اسی طرح اسلامی بینکوں والا مرابحہ اس حدیث میں شامل نہیں، کیوں کہ فروخت شدہ سامان واپس بینک کے پاس نہیں آتا، نیز بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جہاد سے غافل ہو کر دنیا کے کاروبار میں مشغول رہنے کی ممانعت ہے ۔ اور اس کی تائید میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ بعض طرق میں زرع کا لفظ بھی آیا ہے تو پھر زراعت بھی ممنوع ہو گی جب کہ اس کی ممانعت کا کوئی قائل نہیں ۔
ملاحظہ ہو علامہ سعدی چلپی فتح القدیر کے حاشیہ میں فرماتے ہیں:

لو صح ذلك تكون الزراعة مذمومة أيضاً. (حاشية فتح القدير: ۷/۲۱۲، دار الفكر).
وللاستزادة، انظر: (فتاوى الشامي:
۵
/
۲۷۲
.
۲۷۳
،
۳۲۵
، سعيد. وفتح القدير:
۷
/
۲۱۳
، دار الفكر. إعلاء السنن:
۱٤
/
۱۷۷
، إدارة القرآن. والهداية:
۳
/
۱۱۳
. والرسالة المسماة بـ "بيوع العينة والآجال" اعدتها استاذة مدرسة عائشة رضي الله تعالى عنها، ط: كراتشي باكستان).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.