بیع الاستجرار کا طریقہ اور اس کا حکم:
Question
بعض جگہ بیع کی دو صورتیں رائج ہیں، دونوں کے متعلق حکم شرعی معلوم کرنا چاہتا ہوں ۔
(۱) بعض جگہ مشتری کی رقم دکاندار کے پاس پڑی رہتی ہے اور دکاندار سے سامان خریدتا رہتا ہے، یہاں تک کہ رقم ختم ہو جاتی ہے، اس صورت میں بظاہر یہ خرابی لازم آتی ہے کہ قیمت یعنی ثمن معلوم نہیں ہے ۔
(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ مشتری دکاندار سے چیزیں لیتا رہتا ہے اور استعمال کرتا رہتا ہے تین ماہ کے بعد یا ہر مہینہ کے آخر میں دکاندار اس کی قیمت بتاتا ہے، یا لکھتا ہے اس میں بظاہر یہ خرابی ہوتی ہے، کہ استعمال کے بعد وہ چیز ختم ہو گئی تو یہ بیع المعدوم ہوئی از روئے شرع ان دونوں صورتوں کا کیا حکم ہے؟
Answer
پہلی صورت کی دو شکلیں ہیں، (الف) بائع مشتری کو ہر مرتبہ ثمن بتائے، تو یہ بلا خلجان صحیح اور درست ہے ۔ (باء) بائع مشتری کو ثمن نہ بتائے لیکن دونوں کے ذہن میں بازاری قیمت ہو، تو یہ بھی مفضی الی النزاع نہ ہونے کی وجہ سے درست ہے ۔
(۲) دوسری صورت استحساناً جائز اور درست ہے، کیوں کہ لوگوں میں مروج ہے، اور حقیقت میں بیع معدوم بھی نہیں ہے، کیوں کہ بوقتِ عقد موجود ہے اور مشتری نے بائع کی اجازت سے استعمال کی ہے، اگر بالفرض معدوم ہونے کے بعد مقرر کیا تب بھی لوگوں کے عرف و عادت کی وجہ سے یہ بیع جائز قرار پائے گی ۔
ملاحظہ ہو معجم المصطلحات میں ہے:
واصطلاحاً ما يستجره المشتري من البائع شيئاً فشيئاً ثم يدفع ثمن ما أخذه بعد ذلك. (معجم المصطلحات والألفاظ الفقهية، لمحمد عبد الرحمن عبد المنعم، ۱/٤۰۳).
التعریفات الفقہیہ میں ہے:
بيع الاستجرار: هو ما يستجره الإنسان من البياع إذا حاسبه على أثمانها بعد استهلاكها. (التعريفات الفقهية، ص ۲۱۲).
وفي الدر المختار: ما يستجره الإنسان من البياع إذا حاسبه على أثمانها بعد استهلاكها جاز استحساناً، وفي الشامية: قوله ما يستجره الإنسان
الخ. ذكر في البحر: أن من شرائط المعقود عليه أن يكون موجوداً، فلم ينعقد بيع المعدوم ثم قال: ومما تسامحوا فيه، وأخرجوه عن هذه القاعدة ما في القنية الأشياء التي تؤخذ من البياع على وجه الخرج كما هو العادة من غير بيع كالعدس والملح والزيت ونحوها ثم اشتراها بعدما انعدمت صح. فيجوز بيع المعدوم هنا، وقال بعض الفضلاء: ليس هذا بيع معدوم إنما هو ضمان المتلفات بإذن مالكها عرفاً تسهيلاً للأمر ودفعاً للحرج كما هو العادة وفيه أن الضمان بالإذن ممالا يعرف في كلام الفقهاء حموي، وفيه أيضاً أن ضمان المثليات بالمثل لا بالقيمة والقيميات بالقيمة لا بالثمن.
قلت: كل هذا قياس، وقد علمت أن المسألة استحسان
وخرجها في النهر على كون المأخوذ من العدس ونحوه بيعاً بالتعاطي، وأنه لا يحتاج في مثله إلى بيان الثمن لأنه معلوم
قلت: ما في النهر مبني على أن الثمن معلوم، لكنه على هذا لا يكون من بيع المعدوم بل كلما أخذ شيئاً انعقد بيعاً بثمنه المعلوم قال في الولوالجية: دفع دراهم إلى خباز، فقال: اشتريت منك مائة من خبز، وجعل يأخذ كل يوم خمسة أمناء فالبيع فاسد وما أكل فهو مكروه، لأنه اشتري خبزاً غير مشار إليه، فكان البيع مجهولاً ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمناء ولم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحاً، قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم فإذا انعقد بيعاً بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى، وهذا ظاهر فيما كان ثمنه معلوماً وقت الأخذ مثل الخبز واللحم. (فتاوى الشامي: ٤/۵۱٦، سعيد).
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
بیع الاستجرار یہ ہے کہ کوئی شخص دکاندار سے اپنی ضرورت کی اشیاء وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی کر کے لیتا رہے، اور ہر مرتبہ چیز لیتے وقت دونوں کے درمیان نہ تو ایجاب و قبول ہوتا ہے اور نہ ہی بھاؤ تاؤ ہوتا ہے ۔
یعنی انسان دکاندار سے تھوڑی تھوڑی چیز لیتا رہے، اور ان اشیاء کو استعمال کرنے کے بعد آخر میں ان کی قیمت کا حساب کر کے ادا کر دے، جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان دکاندار کے ساتھ یہ سمجھوتہ کر لے کہ جب کبھی اس کے گھر میں کسی چیز کی ضرورت ہو گی وہ اس کی دکان سے منگوا لے گا، چنانچہ جب اس شخص کو اپنے گھر میں کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس کی دکان سے منگوا لیتا ہے، اور دکاندار اس کی مطلوبہ اشیاء ایجاب و قبول کے بغیر اور کسی بھاؤ تاؤ اور قیمت ذکر کیے بغیر اس کودے دیتا ہے، اور وہ شخص اس چیز کو اپنی ضرورت میں استعمال کر لیتا ہے، اور پھر ایک ماہ کے اندر جتنی اشیاء وہ دکاندار سے لیتا ہے، مہینے کے آخر میں اس کا حساب ہو جاتا ہے، اور وہ شخص یک مشت تمام اشیاء کی قیمت ادا کر دیتا ہے متأخرین حنفیہ نے "بیع الاستجرار" کے جواز کا فتوی دیا ہے، اگر چہ دکاندار سے سامان لیتے وقت قیمت کا کوئی تذکرہ نہ ہو ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل:
۲۳۳
،
۲۳۷
، بیع الاستجرار) ۔
وللاستزادة، انظر: (البحر الرائق: ۵/۲۵۹، كوئته.
اسلام اور جدید معاشی مسائل، از مفتی محمد تقی صاحب،
۳
/
۲۳۳
۔
۲۵۱
، بیع الاستجرار) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.