اسلامی بینک کے عقدِ مرابحہ پر اشکال اور جواب:
Question
ہمارے ہاں بعض غیر سودی بینک ہیں جو مرابحہ کے طریقہ پر کام کرتے ہیں جس کی صورت کچھ یوں ہے کہ: زید کو سامان کی ضرورت ہے مگر قیمت ندارد تو بینک کو درخواست دیتا ہے کہ میرے ساتھ مرابحہ کا معاملہ کیا جائے بینک تحقیقات کے بعد ایگریمنٹ کا کاغذ دیتا ہے طریقہ یہ ہے کہ زید کسی دکان یا فیکٹری جاتا ہے اور مطلوبہ سامان بینک کا کوئی وکیل یا زید بینک کے لیے ایک لاکھ رینڈ میں خریدتا ہے پھر یہی سامان زید بینک سے ایک لاکھ ۳۰ ہزار میں ثمن مؤجل کے ساتھ خریدتا ہے کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟ بعض علماء کرام اس پر اشکالات کرتے ہیں جن میں سے دو اشکال قابل توجہ ہیں: ۔
(۱) ایک یہ ہے کہ اگر بینک کے وکیل نے بینک کے لیے خریدا تو پھر بظاہر کوئی بڑا اشکال وارد نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر خود زید بینک کا وکیل بالشراء بن جائے اور پھر خود خریدار بن جائے تو اس کا پہلا قبضہ بحیثیت وکیل و امین کے قبض امانت ہے اور پھر اپنے لیے قبضہ قبض ضمان یا قبض معاوضہ ہے اور قبض امانت یعنی قبض سابق قبض معاوضہ جو قبض لاحق ہے اس کا قائم مقام نہیں ہو سکتا ؟
(۲) دوسرا اشکال یہ ہے کہ اگر زید خود وکیل بالشراء بھی ہوا اور خود وکیل بالبیع بن کر پھر مشتری بھی ہو تو ایک آدمی بائع اور مشتری بن جائے گا، جب کہ یہ فقہاء کے کلام کی روشنی میں ممنوع ہے یا یوں کہہ دیں کہ زید اصیل بھی ہے یعنی مشتری اور وکیل بھی ہے یعنی وکیل بالبیع، بالفاظِ دیگر زید مطالبِ ثمن اور مطلوب بالثمن بھی ہے یہ دونوں حیثیتیں کیسے جمع ہوئیں؟
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
الوكيل بالبيع لا يملك شراءه لنفسه لأن الواحد لا يكون مشترياً وبائعاً فيبيعه من غيره ثم يشتريه منه. (فتاوى الشامي: ۵/۵۲۱، سعيد).
Answer
(۱) بصورتِ مسئولہ قبضہ امانت قبضہ ضمان کا قائم مقام نہیں ہو سکتا اس لیے کہ قبضہ امانت ضعیف اور کمزور ہے جب کہ قبضہ ضمان قوی اور مضبوط ہے اور ضعیف اور کمزور چیز قوی اور مضبوط کے قائم مقام نہیں ہو سکتی ہاں قبض امانت میں تصرف کرنے سے خود بخود قبضہ ضمان بن جاتا ہے، اور ہلاک ہو جانے پر مشتری ہی کے ذمہ تاوان آ جائے گا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ تصرف کرنے کی صورت میں قبضہ امانت خود بخود قبضہ ضمان بن گیا، ہاں اگر قبضہ امانت قبض ضمان نہ بنتا تو ہلاک ہونے کی صورت میں بینک جو بائع ہے اس پر تاوان آتا، لیکن تصرف کرنے یا منتقل کرنے کی صورت میں مشتری پر تاوان آئے گا، یعنی قبضہ امانت قبضہ ضمان کا قائم مقام نہ بننے کے مسئلے کا تعلق ضمان سے ہے کہ ہلاک ہونے کی صورت میں تاوان کس پر آئے گا، یہ کوئی حلال حرام کا مسئلہ نہیں ہے ۔ ہاں مشتری بینک کے ساتھ ایگریمنٹ کر لے یا زبانی بتلا دے کہ اگر میرے تصرف سے قبل ہلاک ہو جائے تو بینک ذمہ دار ہو گا ۔
ملاحظہ فرمائیں شرح القواعد الفقہیہ میں ہے:
بخلاف ما لو باع الأمانة ممن هي عنده فإنه لا ينوب قبض الأمانة عن قبض البيع لأن قبض البيع قبض الضمان وقبض الأمانة دونه فلا ينوب عنه بل لا بد من تجديد القبض بأن يخلي بين نفسه وبين الأمانة المبيعة بعد العقد. (شرح القواعد الفقهية للشيخ احمد بن الشيخ محمد الزرقا، ص ۳۰۱).
ہدایہ میں ہے:
وإن كان له مال في يد أجنبي فأنفق عليهما بغير إذن القاضي ضمن لأنه تصرف في مال الغير بغير ولاية لأنه نائب في الحفظ لا غير، بخلاف ما إذا أمره القاضي لأن أمره ملزم لعموم ولايته، وإذا ضمن لا يرجع على القابض لأنه ملكه بالضمان فظهر أنه كان متبرعاً به. (الهداية، باب النفقة، ۲/٤٤۸).
جدید فقہی مباحث میں ہے:
پہلا قبضہ جو کہ وکالت ہے، امانت کی حیثیت سے ہے اور دوسرا قبضہ اپنے حساب میں اور قبضۂ ضمان ہے، اور ایسا دوسرا قبضہ وہیں معتبر ہوتا ہے جہاں کہ پہلا بھی اسی قسم کا ہو، جیسے کہ کسی نے کوئی مال غصب کر رکھا ہو تو قبضہ ضمان ہوتا ہے، لیکن اس کی تصریح موجود ہے کہ امانتی قبضہ کی صورت میں بیع کا معاملہ کر لینے کے بعد اگر آدمی اس مال تک پہونچ جاتا ہے یا اس میں کوئی مالکانہ تصرف کرتا ہے تو اب اس سامان پر اس کا اپنے حساب کا قبضہ ہو جائے گا اور وہ مسئلہ جو کہ موجب اشکال ہے اس کی اصل یہ نکلتی کہ اگر پہلا قبضہ امانتی ہے تو نفس بیع کی وجہ سے وہ قبضہ اپنے ضمانتی قبضہ سے نہیں بدلے گا اور اگر پہلا قبضہ بھی ضمانتی ہے تو نفس بیع کی وجہ سے اپنا قبضہ ہو جائے گا ۔ (جدید فقہی مباحث: ۳/٤۲۷، ٤۲۸، بحوالہ البحر الرائق ٦/۸٦ ۔ ورد المحتار ٤/۱۱۲) ۔
قبضہ امان میں تصرف کرنے سے قبضہ ضمان میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں مبسوط میں ہے:
ثم الخلط أنواع ثلاثة خلط يتعذر التمييز بعده كخلط الشيء بجنسه فهذا موجب للضمان لأنه يتعذر به على المالك الوصول إلى عين ملكه
وخلط يتعسر معه التمييز كخلط الحنطة بالشعير فهو موجب للضمان لأنه يتعذر على المالك الوصول إلى عين ملكه إلا بحرج
وإذا كان عند الرجل وديعة دراهم أو دنانير أو شيء من المكيل أو الموزون فأنفق طائفة منهما في حاجته كان ضامناً لما أنفق
فإن جاء بمثل ما أنفق فخلطه بالباقي صار ضامناً لجميعها لأن ما أنفق صار دينا في ذمته وهو لا ينفرد بقضاء الدين بغير محضر من صاحبه فيكون فعله هذا خلطاً لما بقي بملك نفسه وذلك موجب للضمان عليه. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله، ۱۱/۱۱۰، ۱۱۱، كتاب الوديعة، إدارة القرآن).
تالیفاتِ رشیدیہ میں ہے:
امین کو تصرف کرنا درست نہیں اگر ایسا کرے گا تو ضامن ہو جائے گا ۔ (تالیفاتِ رشیدیہ، ص ٤۳۱) ۔
نیز اگر مودع ودیعت والی سواری پر سوار ہوا اور سواری کی حالت میں ہلاک ہوئی تو مودع پر تاوان آئے گا ۔ علامہ عینی رحمه الله نے فرمایا:
لأن الضمان وجب عليه بنفس الركوب حتى لو هلك في حالة الاستعمال يضمن بلا خلاف. (حاشية هداية: ۳/۲۷۲)
معلوم ہوا کہ ودیعت کے جانور پر سواری یا ودیعت والے کپڑوں کے پہننے سے قبض امانت قبض ضمان بن گیا، اس وجہ سے فقہاء اعارۃ الدراہم للانفاق کو قرض کہتے ہیں ۔ (
الهداية: ۳/۲۷۹)
اس لیے کہ مستعار دراہم خرچ کرنے سے خود بخود قرض مضمون بن گئے ۔
حضرت تھانوی رحمه الله نے فرمایا:
امانت باذن صرف کر دینے سے وہ قرض ہو جاتا ہے گو اس کا قصد نہ ہو ۔ (امداد الفتاوی: ۳/۱٤۵) ۔
نیز دوسری جگہ فرماتے ہیں: اور بینکوں میں جو جمع کیا جاتا ہے گو عنوان اس کا ودیعت ہو لیکن اس قواعد میں یہ امر یقینی اور معروف ہے کہ وہاں بعینہٖ یہ ودائع نہیں رکھی جاتی بلکہ ان سے کاروبار کیا جاتا ہے پس بقاعدہ "المعروف کالمشروط" اس تصرف کو مودع بکسر الدال کی جانب سے ماذون فیہ کیا جائے گا، اور تصرف کا اذن دینا اقراض ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۵۷۱، کتاب الوقف) ۔
وللاستزادة انظر: فتاوى الشامي: ۵/٦٦۸. ٦۷۰، كتاب الإيداع، سعيد. وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۳۷۹، كوئته).
اشکال اور جواب:
اشکال: اس مسئلہ پر ایک اشکال واقع ہوتا ہے کہ امانت میں تصرف کرنے سے گنہگار ہوتا ہے پھر تصرف کرنے کی کیوں اجازت دی؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ تصرف کرنے پر مالک راضی ہے لہذا اس مسئلہ میں گناہ نہیں ہو گا ۔
(۲) دوسرے اشکال کا جواب یہ ہے کہ علامہ شامی رحمه الله نے ایک قول یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ موکل کے حکم سے وکیل خود اپنے لیے خرید لے یعنی بائع اور مشتری بیک وقت بن جائے تو بھی درست ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی شامی میں ہے:
وإن أمره المؤكل أن يبيعه من نفسه وأولاده الصغار أو ممن لا يقبل شهادته فباع منهم جاز بزازية كذا في البحر، ولا يخفي ما بينهما من المخالفة، وذكر مثل ما في السراج في النهاية عن المبسوط، ومثل ما في البزازية في الذخيرة عن الطحاوي، وكأن في المسألة قولين خلافاً لمن ادعي أنه لا مخالفة بينهما. (فتاوى الشامي: ۵/۵۲۲، سعيد. وكذا في البحر الرائق: ۷/۱٦۷، كوئته).
لوگوں کو سود کی لعنت سے بچانے کے لیے علامہ شامی رحمه الله کے اس قول پر فتوی دیا جا سکتا ہے ۔ ہاں بینک کسی اور کو وکیل بالبیع بنا دے تو نور علی نور ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ مشتری کے تصرف کرنے سے پہلے مبیع ہلاک ہو جائے تو بینک اس کا ذمہ دار ہے اور اگر مشتری کے تصرف کرنے کے بعد ہلاک ہو جائے تو مشتری پر تاوان آئے گا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.