وکیل کا خود اپنے لیے خریدنے کا حکم:
Question
اگر زید نے عمر کو وکیل بالبیع بنایا تو عمر وہ چیز خود اپنے لیے مثلی قیمت پر خرید سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
وکیل بالبیع کے خود اپنے لیے خریدنے کے بارے میں دو قول ہیں، ایک یہ ہے کہ ناجائز ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ موکل کی اجازت سے جائز ہے، لہذا بصورتِ مسئولہ اگر موکل نے اجازت دی ہے تو وکیل خود اپنے لیے خرید سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی بزازیہ میں ہے:
الوكيل بالبيع لا يملك شراء ه لنفسه لأن الواحد لا يكون مشترياً وبائعاً فيبيعه من غيره ثم يشتريه منه
وإن أمره الموكل أن يبيعه من نفسه أو أولاده الصغار أو ممن لا يقبل له شهادته فباع منهم جاز. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ۵/٤۷۵، الرابع في البيع).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.