وکیل کا موکل کی رقم اپنے خرچ میں لانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #370Urdu
Vol. 5كتاب الوكالةوکالت کے احکام کا بیان

Question

اگر کسی کا روپیہ بطورِ امانت ہو یا کسی کے پاس مسجد کا چندہ ہو، یا کسی کو وکیل بقضاء الدین بنایا گیا ہو یا وکیل بالشراء، اور وکیل وہ رقم اپنی ضرورت میں صرف کر دے، پھر اس کے عوض دوسری رقم مالک کودے دے یا مسجد کے چندہ میں رکھ دے یا موکل کا دین ادا کر دے تو ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ وکیل کا ایسا تصرف موکل کی اجازت سے جائز ہے بدون اجازت درست نہیں، کیوں کہ وکیل کے پاس موکل کی رقم بطورِ امانت ہے اور امانت میں بلا اجازت تصرف کرنا جائز اور درست نہیں، اسی طرح وقف کے مال میں کسی طرح ایسا تصرف کرنا جائز نہیں، اگر کسی نے ایسا تصرف کیا تو ضامن ہوگا، ہاں استحساناً اگر قاضی کی طرف مرافعہ مشکل ہو اور خرچ شدہ رقم کا بدل موکل کی متعین کردہ جگہ میں خرچ کرے تو فیما بینہ و بین اللہ وبال سے بچنے کی امید ہے ۔ اور اگر کسی نے زید کو دس درہم کسی چیز کے خریدنے کے لیے دیے، یا اہل و عیال پر خرچ کرنے کے لیے دیے، یا قرض کی ادائیگی کے لیے دیے، اور اس نے اپنی رقم میں سے مذکورہ بالا کام انجام دیے، اور موکل کی رقم خود رکھ لی تو یہ جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضی خان میں ہے:

رجل جمع مالاً من الناس لينفقه في بناء المسجد وأنفق من تلك الدراهم في حاجة نفسه ثم رد بدلها في نفقة المسجد لا يسعه أن يفعل ذلك وإذا فعل إن كان يعرف صاحب المال رد الضمان عليه أو يساله ليأذن له بإنفاق الضمان في المسجد، وإن لم يعرف صاحب المال يرفع الأمر إلى القاضي حتى يأمره بإنفاق ذلك في المسجد فإن لم يقدر على أن يرفع الأمر إلى القاضي، قالوا: نرجوا له في الاستحسان أن ينفق مثل ذلك من ماله في المسجد فيجوز ويخرج عن الوبال فيما بينه وبين الله تعالى وفي القضاء يكون ضامناً فيكون ذلك ديناً عليه لصاحب المال، وهو نظير ما ذكر في الأصل الوكيل بقضاء الدين إذا صرف مال الموكل في حاجة نفسه ثم قضي بمال نفسه دين الموكل يكون متبرعاً في قضاء دين الموكل. (فتاوى قاضيخان: ۳/۲۹۹).

فتاوی بزازیہ میں ہے:

الوكيل بالشراء أنفق الدراهم على نفسه ثم اشتري ما أمر بدراهم من عنده فالمشتري للوكيل لا للآمر في المختار وفي الأصل اشتري بدنانير من عنده ثم نقد دنانير الموكل فالشراء للوكيل ويضمن مال الموكل للتعدي، ولو اشتري ما أمره وسلمه إلى الموكل ثم أنفق دراهم الوكالة ونقد للبائع غيرها جاز،

وفي النوازل أعطاه ديناراً لقضاء دينه أو الإنفاق على عياله فأمسكها وصرف دينار نفسه جاز استحساناً وفي العيون أمره بصدقة ألف وأعطاه فأنفقه وتصدق بألف من عنده لا يجوز ويضمن وإن باقية عنده وتصدق بألف من عنده جاز استحساناً. (الفتاوى البزازية: ۵/٤۸۳).
وللاستزادة انظر: (الفتاوى الهندية: ۳/٦٤۴. والفتاوى التاتارخانية: ۵/۸۵٦).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.