مالکانِ زکوٰۃ کی تصریح کے خلاف زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #148Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب (٤): مصارفِ زكوة كا بيان

Question

اگر کسی نے زلزلہ میں مبتلی لوگوں کے لیے زکوٰۃ کی رقم دی اور وہ رقم کچھ وجوہات کی بنا پر وہاں خرچ نہ ہو سکی اب اس زکوٰۃ کی رقم کو کہیں اور استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں زکوٰۃ کی رقم دوسری جگہ خرچ کرنا جائز نہیں ہے مالکان کی اجازت ضروری ہے، ہاں اگر مختلف لوگوں کی زکوٰۃ کی رقم ہے اور سب کو اطلاع دینا مشکل ہو اور متعین کردہ مصرف میں خرچ کرنا بھی ممکن نہ ہو تو پھر دوسری جگہ مصرفِ زکوٰۃ میں خرچ کرنا جائز ہوگا ۔
ملاحظہ ہو الفقہ الحنفی و ادلتہ میں ہے:

أما إذا عين الغني الفقير للوكيل لم يجز له أن يدفع الزكاة إلى غيره. (الفقه الحنفي وأدلته: ۱/۳٤۰، بيروت).

شامی میں ہے:

وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من المؤكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره. (شامي: ۲/۲٦۹، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
وکیل امین ہوتا ہے، ہدایتِ مؤکل کے خلاف تصرف کرنے کا اس کو حق نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/٤۹۵، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.