مالکانِ زکوٰۃ کی تصریح کے خلاف زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے کا حکم:
Question
اگر کسی نے زلزلہ میں مبتلی لوگوں کے لیے زکوٰۃ کی رقم دی اور وہ رقم کچھ وجوہات کی بنا پر وہاں خرچ نہ ہو سکی اب اس زکوٰۃ کی رقم کو کہیں اور استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں زکوٰۃ کی رقم دوسری جگہ خرچ کرنا جائز نہیں ہے مالکان کی اجازت ضروری ہے، ہاں اگر مختلف لوگوں کی زکوٰۃ کی رقم ہے اور سب کو اطلاع دینا مشکل ہو اور متعین کردہ مصرف میں خرچ کرنا بھی ممکن نہ ہو تو پھر دوسری جگہ مصرفِ زکوٰۃ میں خرچ کرنا جائز ہوگا ۔
ملاحظہ ہو الفقہ الحنفی و ادلتہ میں ہے:
أما إذا عين الغني الفقير للوكيل لم يجز له أن يدفع الزكاة إلى غيره. (الفقه الحنفي وأدلته: ۱/۳٤۰، بيروت).
شامی میں ہے:
وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من المؤكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره. (شامي: ۲/۲٦۹، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
وکیل امین ہوتا ہے، ہدایتِ مؤکل کے خلاف تصرف کرنے کا اس کو حق نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/٤۹۵، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.