ایک مدرسہ کی مد کی رقم دوسری مد میں خرچ کرنے کا حکم:
Question
اگر کسی مدرسہ میں ایک مد میں رقم آئی تو اس کو دوسری مد میں خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ مثلاً کوئی رقم کتابوں کی مد میں آئی ہو تو اس کو تعمیر کی مد میں یا بالعکس خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ دونوں مد صدقہ نافلہ کی ہوں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ مدرسہ کی ایک مد کی رقم دوسری مد میں خرچ کرنا صحیح اور درست نہیں، اس لیے کہ موکل کی وکالت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، اور اس پر عمل پیرا ہونا لازم ہے، لہذا جب آدمی نے کتابوں کے لیے رقم دی تو اس کو دوسری مد میں خرچ کرنا درست نہیں ۔
فتاوی شامی کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره، كما لو أوصي لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل. (فتاوى الشامي: ۲/۲٦٦، سعيد).
مدرسہ میں جب کسی نے ایک رقم ایک مد میں دی تو چونکہ مہتمم مدرسہ معطی کا وکیل ہے اور موکل نے جس مد میں خرچ کرنے کے لیے کہا ہے، اس میں وکیل کو خرچ کرنا ضروری ہے تو جب اس نے کتابوں کی مد میں رقم دی تو اس کو تعمیر میں خرچ کرنا خیانت اور وعدہ خلافی ہے ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جس جگہ خرچ کرنے کے لیے وہ روپیہ دیا ہے اسی جگہ خرچ کرنا لازم ہے اگر دوسری جگہ خرچ کر دیا تو ضمان لازم ہوگا اس لیے کہ متولی امین اور وکیل ہے معطی کی تصریح کے خلاف خرچ کرنے کا اس کو حق نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۵/٤۷٤، فاروقیہ ۔ امداد الفتاوی: ۳/۳۱۵، ۳۱٦) ۔
نیز مرقوم ہے چندہ دینے والوں کو اگر یہ منظور ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں تو ایسا کرنا شرعاً درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۵/٤۷٤، فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.