وکیل بالشراء کو کوئی چیز مفت ملنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #366Urdu
Vol. 5كتاب الوكالةوکالت کے احکام کا بیان

Question

اگر کسی نے زید کو وکیل بنایا کہ میرے لیے بازار سے دنبہ یا بکری خرید لو اور اس کو ایک ہزار رینڈ دیے، لیکن بائع نے وکیل کو تعلقات کی وجہ سے بکری یا دنبہ مفت میں دے دیا، تواب وکیل ایک ہزار رینڈ موکل کو واپس کرے گا یا اپنے لیے رکھنے کی گنجائش ہے؟ اور یہ بتلایا گیا کہ اس کی قیمت ہزار رینڈ ہے ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ وکیل کے بائع کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے بائع نے ثمن واپس کیا تو یہ وکیل کے لیے ہدیہ ہو گیا، لہذا موکل کو واپس کرنا لازم اور ضروری نہیں اپنے پاس رکھ سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ولوالجیہ میں ہے:

رجل أمر رجلاً يشتري له جارية بألف درهم فاشتراها ثم أن البائع وهب للوكيل ألفاً فللوكيل أن يرجع على البائع بألف، لأنه لا يمكن أن يجعل هذا حطاً عن الثمن، لأنه يفسد العقد فجعل هبة فيرجع. (الفتاوى الولوالجية: ٤/۳۵۳، فصل فيما يرجع الوكيل على الموكل).

البحر الرائق میں ہے:

وفي الواقعات الحسامية: ولو أمر رجلاً أن يشتري جارية بألف فاشتراها ثم أن البائع وهب الألف من الوكيل فللوكيل أن يرجع على الآمر. (البحر الرائق: ۷/۱۵۵، باب الوكالة بالبيع والشراء، كوئته).

در مختار میں ہے:

ولو وهبه كل الثمن رجع بكله ولو بعضه رجع بالباقي لأنه حط. وفي الشامي: (قوله كل الثمن) أي جملة واحدة، قال في البحر: ولو وهبه خمس مائة ثم الخمسمائة الباقية لم يرجع الوكيل على الآمر إلا بالأخرى لأن الأولى حط والثانية هبة. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۵/۵۱٦، باب الوكالة بالبيع والشراء، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.