مروجہ اسلامی بینکاری پر اشکال اور جواب:

31 min readFatwa Vol 5 #111Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (٤): مرابحه اور بينك سے متعلق احكام كا بيان

Question

بعض حضرات بینک کے درجِ ذیل معاملہ پر اعتراض کرتے ہیں:
ایک شخص کار خریدنا چاہتا ہے لیکن اس کے پاس پوری رقم موجود نہیں ہے تو غیر سودی بینک گاڑی خود خریدتے ہیں، اور گاہک کو ایک طویل مدت مثلاً تین سال سے پانچ سال تک کے لیے کرایہ پر دیتے ہیں، کرایہ متعین کرتے وقت وہ اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہیں کہ تین سال کی مدت میں انہیں اپنی لاگت کچھ نفع کے ساتھ وصول ہو جائے، اس کے بعد وہ گاڑی کرایہ دار مستاجر کو معمولی قیمت پر بیچ دیتے ہیں، یا بلا قیمت ہدیہ دے دیتے ہیں ۔
بعض لوگ اس معاملہ پر کچھ اعتراضات کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ چونکہ اجارے کے بعد گاڑی مستاجر کو بیچی جاتی ہے، یا ہبہ کی جاتی ہے، اس لیے یہ صفقۃ فی صفقۃ ہے، اور حدیث شریف میں ممانعت وارد ہوئی ہے اس لیے ایسا معاملہ ناجائز ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ عرف میں مروج ہونے کی وجہ سے
"صفقة في صفقة"
کے عقد کی گنجائش نکل سکتی ہے، لوگوں کے تعامل اور عرف کی وجہ سے عقد فاسد نہیں ہو گا، کیوں کہ تعامل ملحق بالاجماع ہے ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ کاغذات میں الگ الگ عقد ہوتا ہے اس وجہ سے جائز ہے ۔

"صفقة في صفقة"
کی مختلف تعریفیں:

قال الامام الترمذي رحمه الله: وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة:
(۱) أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما، فلا بأس، إذا كانت العقدة على واحد منهما، قال الشافعي رحمه الله: ومن معني ما نهي النبي ﷺ عن بيعتين في بيعة:
(۲) أن يقول: أبيعك داري هذه بكذا، على أن تبيعني غلامك بكذا، فإذا وجب لي غلامك وجبت لك داري، وهذا تفارق عن بيع بغير ثمن معلوم، ولا يدري كل واحد منهما على ما وقعت عليه صفقته. (ترمذي شريف: ۱/۲۳۳، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة).
وفي تحفة الأحوذي: قال: اعلم أنه قد فسر البيعتان في بيعة بتفسير آخر وهو:
(۳) أن يسلفه ديناراً في قفيز حنطة إلى شهر فلما حل الأجل وطالبه بالحنطة قال: بعني القفيز الذي لك على إلى شهرين بقفيزين فصار ذلك بيعتين في بيعة، لأن البيع الثاني قد دخل على الأول فيرد إليه أو كسهما وهو الأول، كذا في شرح السنن لا بن رسلان؛ فقد فسر حديث أبي هريرة رضي الله عنه المذكور، بلفظ: نهي رسول الله ﷺ عن بيعتين في بيعة، بثلاثة تفاسير فاحفظها. (تحفة الأحوذي: ۳/۳۲٦).
وللاستزادة انظر: (بذل المجهود في حل أبي داود: ۱۵/۱۳۵، باب فيمن باع بيعتين في بيعة. وبداية المجتهد في نهاية المقتصد: ۲/۱۱۵، الفصل الثالث، في الفرق بين ما ي باع من الطعام مكيلاً وجزافاً).

مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب نے بیعتان فی بیعۃ و صفقتان فی صفقۃ دونوں کو الگ الگ بیان کیا ہے اور دونوں کے درمیان عموم و خصوص کا فرق واضح کیا ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (غرر کی صورتیں، ص ٦۵ ۔ ۱۲۹) ۔مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب نے بیعتان فی بیعۃ وصفقتان فی صفقۃ دونوں کو الگ الگ بیان کیا ہے اور دونوں کے درمیان عموم و خصوص کا فرق واضح کیا ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (غرر کی صورتیں، ص ٦۵ ۔ ۱۲۹) ۔
ملاحظہ ہو حکیم الامت حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:

"قال في نور الأنوار: وتعامل الناس ملحق بالإجماع وفيه ثم إجماع من بعدهم أي بعد الصحابة رضي الله عنهم من أهل كل عصر".
اس سے معلوم ہوا کہ تعامل بھی مثل اجماع کے کسی عصر کے ساتھ خاص نہیں، البتہ جو اجماع کارکن ہے وہی اس میں بھی ہونا ضروری ہے، یعنی اس وقت کے علماء اس پر نکیر نہ کرتے ہوں، اسی طرح فقہاء نے بہت سے نئے جزئیات کے جواز پر تعامل سے احتجاج کیا ہے ۔

كما في الهداية: في البيع الفاسد: ومن اشتري نعلاً على أن يحذوه البائع قوله يجوز للتعامل فيه فصار كصبغ الثوب للتعامل جوزنا الاستصناع وفيها في السلم أن استصنع إلى قوله للإجماع الثابت بالتعامل. (
فقہ حنفی کے اصول و ضوابط، ص ۱٦۱، بحوالہ امداد الفتاوی: ٤/۲٦۵) ۔

قال في الكفاية: وجه الاستحسان أن فيه عرفاً ظاهراً وفي النزوع عن العادة حرج بين فصار كصبغ الثوب لأن القياس أن لا يجوز لأن الإجارة بيع المنافع والصبغ عين وجوزناها للتعامل وكالاستصناع فإن بيع المعدوم لا يجوز وإنما جوزناه للتعامل. (الكفاية شرح الهداية على هامش فتح القدير: ٦/۸۵، رشيدية).
وقال في العناية: ووجهه ما بيناه أنه شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين وفي الاستحسان يجوز للتعامل والتعامل قاضٍ على القياس لكونه إجماعاً فعلياً كصبغ الثوب. (العناية في شرح الهداية على هامش فتح القدير: ٦/۸۵، رشيدية).
وقال في فتح القدير: قوله وفي الاستحسان يجوز البيع ويلزم الشرط للتعامل كذلك ومثله في ديارنا شراء القبقاب على هذا الوجه أي على أن يسمر له سيراً

ومثله إجارة الظئر مع لزوم استهلاك اللبن جاز للتعامل

قوله وللتعامل جوزنا الاستصناع مع أنه بيع المعدوم ومن أنواعه شراء الصوف المنسوج على أن يجعله البائع قلنسوة بشرط أن يبطن لها البائع بطانة من عنده

وفي المنتقي

قال لو اشتري على أن يهب له دينار اً من الثمن جاز وهو حسن لأن حاصل هذا حطيطة مشترطة ومآلها إلى الشراء بالثمن الأنقص ولو باع رقبة الطريق على أن له حق المرور أو السفل على أن له قرار العلو جاز. (فتح القدير: ٦/۸۵، رشيدية. وكذا في شرح المجلة: ۲/٦٤. ۷۰ المادة ۱۸۸. ۱۸۹).

(۲) اگر صلاح اثمار کے بعد درخت بیچے تو اس صورت میں پھلوں کو درختوں پر باقی چھوڑنے کے بارے میں امام محمد رحمه الله فرماتے ہیں کہ ان کا درختوں پر چھوڑے رکھنا جائز ہے، اور اس کی دلیل عرف، عادت اور استحسان ہے ۔ ملاحظہ ہو:

وكذا إذا تناهي عظمها عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله لما قلنا واستحسنه محمد رحمه الله للعادة. (الهداية: ۳/۲٦).

اور تعامل کی وجہ سے فتوی امام محمد رحمه الله کے قول پر ہے، ملاحظہ ہو:

القول الراجح هو قول محمد رحمه الله قال العلامة ابن الهمام يجوز عند محمد رحمه الله استحساناً وهو قول الأئمة الثلاثة واختاره الطحاوي رحمه الله لعموم البلوى. وقال العلامة الحصكفي: وبه يفتى، بحر عن الأسرار

وقال العلامة ابن نجيم وفي الأسرار: الفتوى على قول محمد رحمه الله وبه أخذ الطحاوي رحمه الله

قال أستاذنا المفتي غلام قادر النعماني: والعرف في زماننا يقتضي ترجيح قول محمد رحمه الله. (القول الراجح: ۲/۹).

(۳) بیع میں کفالت کی شرط ملائم و مناسب ہونے کی وجہ سے صاحب ہدایہ نے جائز قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو:
قال في الهداية: ومن باع داراً وكفل رجل عنه بالدرك فهو تسليم لأن الكفالة لو كانت مشروطة في البيع فتمامه بقبوله ثم بالدعوى يسعي في نقض ما تم من جهته وإن لم تكن مشروطة فيه فالمراد بها أحكام البيع وترغيب المشتري فيه إذ لا يرغب فيه دون الكفالة. (الهداية: ۳/۱۲٤).
وفي شرح العناية: قال: إن الكفالة إما أن تكون مشروطة في البيع أو لا، فإن كان الأول (أي مشروطة) وهو شرط ملائم للعقد. (العناية في شرح الهداية على هامش فتح القدير: ۷/۲۱۷، باب الكفالة).

(۳) محیط برہانی میں ہے:

ولو قال: أعتق عبدك عني بألف درهم، فأعتق، فإنه يعتق عن الآمر ويلزمه المال عن الآمر استحساناً. (المحيط البرهاني: ٤/۲۸۱، كتاب العتاق، فصل في المتفرقات، رشيدية).
وفي البدائع: ولو قال لا خر: اعتق عبدك عني على ألف درهم فأعتق فالولاء للآمر لأن العتق يقع عنه استحساناً

أن الأمر بالفعل أمر بما لا وجود للفعل بدونه كالأمر بصعود السطح يكون أمراً بنصب السلم والأمر بالصلاة يكون أمراً بالطهارة ونحو ذلك ولا وجود للعتق عن الآمر بدون ثبوت الملك فكان أمر المالك بإعتاق عبده عنه بالبدل المذكور أمراً بتمليكه منه بذلك البدل ثم بإعتاقه عنه تصحيحاً لتصرفه كأنه صرح بذلك فقال: بعه مني واعتقه عني ففعل

لأن الملك في البيع الصحيح لا يقف على القبض، بل يثبت بنفس العقد فصار المأمور بائعاً عبده منه بالبدل المذكور ثم معتقاً عنه بأمره وتوكيله. (بدائع الصنائع، كتاب الولاء، ٤/۱٦۰، سعيد).
وفي درر الحكام: كأنه قال: بع عبدك عني بألف وكن وكيلي بالإعتاق. (درر الحكام شرح غرر الأحكام، أكثر مدة الحمل، ٤/٤۳۳).

خلاصہ یہ ہے کہ اس عقد میں یعنی وکالۃ بالاعتاق میں وکالۃ بالبیع شامل ہے جو صفقۃ فی صفقۃ ہے اس کے باوجود فقہاء نے استحسان کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے ۔
(٤) صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:

وكذا لو سلطا المرتهن على بيعه لأنه توكيل بالبيع وهما يملكانه. (الهداية: ٤/۵۲۹، كتاب الرهن).

مذکورہ بالا عبارت میں عقدِ رہن میں وکالہ بالبیع ہے جس کو فقہاء نے جائز قرار دیا ہے ۔
(۵) مفت سروس کی شرط کے ساتھ بیع جائز ہے، جو کہ اجارہ مشروطہ فی البیع ہے ۔ ملاحظہ ہو حضرت مولانا مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:
عقدِ بیع میں مقتضائے عقد کے خلاف شرط لگائی، لیکن تاجروں کے عرف میں وہ شرط عقد کے اندر داخل شمار ہوتی ہے تو ایسی شرط لگانا بھی جائز ہے، جیسے آج کل بازار میں بہت ساری ایسی چیزیں فروخت ہوتی ہیں جس میں بائع یہ کہتا ہے کہ میں ایک سال تک اس کی مفت سروس کروں گا، اب ظاہر ہے کہ یہ مفت سروس فراہم کرنا مقتضائے عقد کے اندر تو داخل نہیں، لیکن متعارف ہونے کی وجہ سے یہ شرط جائز ہے، لہذا اگر مشتری یہ شرط لگا دے کہ میں اس شرط پر خریدتا ہوں کہ تم اس کی ایک سال تک مفت سروس کرو گے تو اس شرط کی وجہ سے عقد فاسد نہیں ہوگا ۔ (تقریر ترمذی: ۱/۱۰۸) ۔

"صفقة في صفقة"
کے بارے میں حضرت تھانوی رحمه الله کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
سوال: "
نهى عن صفقة في صفقة"
کے ظاہری معنی کے لحاظ سے بعض امور ناجائز معلوم ہوتے ہیں حالانکہ بکثرت خاص و عام میں شائع ہیں، مثلاً گھڑی کی مرمت کہ ٹوٹے ہوے پرزے کو نکال کر صحیح پرزہ لگا دے تو اس پرزہ کی تو بیع ہے اور لگانے کا اجارہ ۔ (۲) چار پائی بنوانا اور بان اپنے پاس سے نہ دینا اس میں بان کی بیع ہے اور بننے کا اجارہ ۔ (۳) سقہ سے پانی لینا کہ جب اس نے کنویں سے پانی نکال کر اپنے ظروف میں لیا تو اس کی ملک ہو گیا سو پانی کی بیع ہوئی اور وہاں سے لانے کا اجارہ نیز بیع ما لیس عندہ بھی ہے، (٤) کوئی زیور یا انگوٹھی جڑنے کو دینا کہ نگینوں کی بیع ہے اور لگانے کا اجارہ و غیر ذلک من المعاملات الرائجۃ ۔
الجواب: تعامل کی وجہ سے کہ بلا نکیر شائع ہے جو ایک نوع کا اجماع ہے یہ سب معاملات جائز ہیں، پس نص عام مخصوص البعض ہے جیسا کہ فقہاء نے صباغی اور خیاطی میں اس کی اجازت دی ہے کہ صبغ اور خیط صانع کا ہوتا ہے اور اس میں اجارہ بھی ہوتا ہے، و ہذا ظاہر جداً فقط، واللہ اعلم ۔ (امداد الفتاوی: ۳/٦۳، ٦٤) ۔
حضرت مولانا مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:
حنفیہ کا مذہب یہ کہ عام حالات میں عقد کے ساتھ کوئی شرط لگانے سے عقد فاسد ہو جاتا ہے، البتہ تین قسم کی شرطیں ہیں جو جائز ہیں، اور عقد کو فاسد نہیں کرتیں، ایک وہ شرط جو مقتضائے عقد کے مطابق ہو، دوسری وہ جو عقد کے ملائم ہو، جیسے رہن رکھنے یا کفالت یا حوالہ کی شرط، اور تیسری وہ شرط جس پر عرف اور تعامل ہو گیا ہو ۔
بیع بالوفاء میں وفا کی شرط صلب عقد میں ہو تو اس کو بھی بعض فقہاء حنفیہ نے جائز قرار دیا ہے صاحب نہایہ نے اسی پر فتوی دیا ہے، اور علامہ شامی رحمه الله نے علامہ زیلعی رحمه الله سے اس کا مطلب یہ نقل کیا ہے کہ بیع صحیح ہو جائے گی، اور مشتری کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا بھی حلال ہوگا، لیکن چونکہ بیع میں یہ شرط ہے کہ جب کبھی بائع قیمت واپس لوٹائے گا، مشتری کو وہ دوبارہ بیچنی ہو گی، اس لیے کہ مشتری کے لیے اس مبیع کو آگے بیچنا جائز نہیں ہوگا، اور زیلعی رحمه الله نے اسی قول کو مفتی بہ قرار دیا ہے، اور علامہ شامی رحمه الله نہر کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمارے دیار میں عمل اسی قول پر ہے جیسے زیلعی رحمه الله نے ترجیح دی ہے، پھر فرماتے ہیں کہ شاید یہ جواز کا قول اس بنیاد پر ہے کہ یہ شرط متعارف ہو گئی ہے، البتہ اکثر فقہاء حنفیہ نے اس صورت کو جائز قرار نہیں دیا کہ وفاء کی شرط صلب عقد میں ہو، بعد ازاں مفتی تقی صاحب نے شامی، محیط برہانی، فتاوی قاضيخان، جامع الفصولين، شرح مجلہ وغیرہ کتب فقہ سے دلائل بیان فرمائے ہیں ۔ ملاحظہ ہو: (غیر سودی بینکاری، ص ۲٤۲ ۔ ۲٤۷) ۔

"صفقة في صفقة"
کے جواز کی دوسری صورت:
اگر دونوں عقد الگ الگ کر دیے جائیں تب بھی معاملہ صحیح ہو جائے گا ۔
(یعنی ایک عقد دوسرے عقد کے لیے بمنزلہ شرط کے نہ ہو تو معاملہ درست ہے) ۔
صاحبِ ہدایہ نے چند مثالیں ذکر فرمائی ہیں:
(۱) اگر کسی نے کہا میں پانچ کتابیں دو سو رینڈ میں فروخت کرتا ہوں اور مشتری نے کہا میں نے تین کتابیں ۱۲۰ رینڈ میں خرید لیں تو یہ درست نہیں ہے، کیوں کہ اس صورت میں ایک مبیع کے لیے بائع کو دو عقد کرنے کی ضرورت ہو گی، لیکن اگر بائع نے کہا کہ میں پانچ کتابیں دو سو رینڈ میں فروخت کرتا ہوں اور ہر کتاب چالیس رینڈ میں بیچتا ہوں اور مشتری نے تین کتابیں خرید لیں تو یہ جائز ہوگا، کیوں کہ تکرارِ لفظ پایا گیا ۔
ہدایہ میں ہے:

وليس له أن يقبل في بعض المبيع ولا أن يقبل المشترى ببعض الثمن لعدم رضاء الآخر بتفرق الصفقة إلا إذا بين كل واحد لأنه صفقات معني. (الهداية: ۳/۱۹).
وفي الكفاية: قوله وليس له أن يقبل في بعض المبيع، وإذا أوجب البائع البيع في شيئين أو ثلاثة وأراد المشتري أن يقبل العقد في أحدهما دون الآخر فهذا على وجهين إن كانت الصفقة واحدة فليس له ذلك وإن كانت متفرقة فله ذلك وهذا لأن الصفقة إذا كانت واحدة فالمشتري بقبول العقد في أحدهما يريد تفريق الصفقة على البائع وفي ذلك ضرر بالبائع لأن العادة فيما بين الناس أنهم يضمون الرديء إلى الجيد في البياعات وينقصون شيئاً عن ثمن الجيد لترويج الرديء بالجيد فلو ثبت خيار قبول العقد في أحدهما فالمشتري يقبل العقد في الجيد ويترك الرديء على البائع فيزول الجيد عن ملك البائع بأقل من ثمنه وفيه ضرر بالبائع وقال القدوري رحمه الله: إلا أن يرضي البائع في المجلس نحو أن يقول بعتك هذا العبد بخمسين فيقول المشتري قبلت في نصفه فيرضي به البائع

ويكون ذلك من المشتري في الحقيقة استئناف إيجاب لا قبولاً فإذا رضي به البائع في المجلس يصح. (الكفاية: ۵/٤٦۲، رشيدية).

علامہ ابن ہمام رحمه الله نے فتح القدیر میں اس پر بحث کرتے ہوے لکھا ہے کہ اگر ثمن کی تقسیم اجزاء کے اعتبار سے ہو تو جائز ہے اس لیے کہ اس کا ہر حصہ معلوم ہوگا اور اگر تقسیم قیمت کے اعتبار سے ہو مثلاً عقد کی نسبت غلامین یا ثوبین کی طرف کی تو جہالت کی وجہ سے جائز نہیں اور اگر بائع نے یوں کہا "
بعتك هذين العبدين هذا بمائة وهذا بمائة"
اور مشتری ان میں سے ایک قبول کرے تو بعض مواقع میں اس کو جائز قرار دیا ہے، اور جامع صغیر میں ہے کہ جواز کے لیے لفظ بیع کا تکرار ضروری ہے، مثلاً "
بعتك هذين العبدين بعتك هذا بمائة وبعتك هذا بمائة"
۔ ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

إلا أن يرضي الآخر بذلك بعد قبوله في البعض ويكون المبيع مما ينقسم الثمن عليه بالأجزاء كعبد واحد أو مكيل أو موزون، فإن كان مما لا ينقسم إلا بالقيمة كثوبين وعبدين لا يجوز وإن قبل الآخر

فلوكان بين ثمن كل منهما فلا يخلو إما أن يكون بلا تكرار لفظ البيع أو بتكراره، ففيما إذا كرره فلاتفاق على أنه صفقتان فإذا قبل في أحدهما يصح مثل أن يقول بعتك هذين العبدين بعتك هذا بألف وبعتك هذا بألف أو اشتريت منك هذين العبدين اشتريت هذا بألف واشتريت هذا بألف كذا في موضع

. (فتح القدير: ٦/۲۵۵، ۲۵۷، دار الفكر).

(۲) اگر کسی نے منی چینجر کو ایک درہم دیا اور اس سے کہا کہ اس درہم میں مجھے نصف درہم کے عوض فلوس اور باقی نصف درہم کے عوض نصف درہم الا حبہ دے دو تو صاحبین کے نزدیک پہلے نصف درہم میں عقد جائز ہے اور دوسرے میں ربا کی وجہ سے ناجائز ہے اور امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک سب میں باطل ہے کیوں کہ عقد ایک ہے اور جب بعض باطل ہوا تو فسادِ قوی کی وجہ سے بقیہ بھی فاسد ہوا، اور اگر لفظ اعطاء کو مکرر کیا اور یہ کہا کہ مجھے نصف درہم کے عوض فلوس دے دو اور نصف درہم کے عوض نصف درہم الا حبہ دے دو تو حصہ فلوس میں بالاتفاق اعطاء کے لفظ کے تکرار کی وجہ سے عقد صحیح ہوا ۔ یاد رہے کہ حبہ ٦۲۰ ملی گرام ہوتا ہے ۔

قال في الهداية: ومن أعطي صيرفياً درهماً وقال أعطني بنصفه فلوساً وبنصفه نصفاً إلا حبة جاز البيع في الفلوس وبطل فيما بقي عندهما وعلي قياس قول أبي حنيفة رحمه الله بطل في الكل ولو كرر لفظ الإعطاء بأن قال: أعطني بنصفه كذا فلساً وأعطني بنصفه الباقي نصفاً إلا حبة فالحكم أن العقد في حصة الفلوس جائز بالإجماع هو الصحيح. (الهداية مع الحاشية: ۳/ ۱۱۰، ۱۱۱).

حدیث شریف کا جواب:
اس حدیث شریف کے تین جوابات ہیں ۔ پہلا جواب یہ کہ یہ ممانعت عرف پر مبنی تھی جب عرف بدل گیا تو حکم بھی بدل گیا ۔ دوسرا جواب یہ کہ یہ عام مخصوص البعض ہے اور تیسرا یہ کہ یہاں دو عقد کیے جاتے ہیں، ان جوابات میں سے پہلے دو جواب محتاجِ تشریح ہیں: ۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ نصوص تین قسم پر ہیں: (۱) پہلی قسم: وہ احادیث ہیں جو عرف پر مبنی ہوں ان کا حکم یہ ہے کہ عرف کے بدلنے سے نص کا حکم بدل جاتا ہے، مثلاً: حنطہ اور شعیر کا کیلی ہونا معروف تھا اور کچھ زمانہ پہلے تک یہ عرف تھا اب عرف بدل گیا اور دونوں وزنی بن گئے، لہذا اب وہ وزنی کہلائیں گے ۔
اس کی مزید وضاحت علامہ شامی رحمه الله اور شیخ مصطفی الزرقاء نے فرمائی ہے عبارات ملاحظہ فرمائیں:

وعن الثاني اعتبار العرف مطلقاً ورجحه الكمال وخرج عليه سعدي أفندي استقراض الدراهم عدداً وبيع الدقيق وزناً في زماننا يعني بمثله وفي الكافي الفتوى على عادة الناس بحر، وأقره المصنف. (قوله مطلقاً) أي وإن كان خلاف النص، لأن النص على ذلك الكيل في الشيء أو الوزن فيه ما كان في ذلك الوقت إلا لأن العادة إذ ذاك كذلك وقد تبدلت فتبدل الحكم

(قوله ورجحه الكمال) حيث قال عقب ما ذكرنا: ولا يخفي أن هذا لا يلزم أبا يوسف رحمه الله لأن قصاراه أنه كنصه على ذلك وهو يقول: يصار إلى العرف الطارئ بعد النص بناء أن تغير العادة يستلزم تغير النص، حتى لوكان ﷺ حياً نص عليه وتمامه فيه،

وملخصه: أن النص معلول بالعرف فيكون المعتبر هو العرف في أي زمن كان ولا يخفي أن هذا فيه تقوية لقول أبي يوسف رحمه الله فافهم. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۱۷٦، مطلب في أن النص أقوى من العرف، سعيد. وفتح القدير: ۷/۱۵، دار الفكر).
وقال مصطفى أحمد الزرقا: خلافاً لا بي يوسف رحمه الله الذي يعتبر المقياس المتعارف فيهما مطلقاً في كل زمن بحسبه، ويتبدل مقياس التساوي بتغير العرف تبعاً له حيث يعلل النص بالعرف الذي كان قائماً وقت وروده، فلا يكون اتباع العرف عند أبي يوسف رحمه الله مخالفاً للنص، بل يراه هو الموافق للنص، وأن الثبات على المقياس القديم الذي ورد في النص هو المخالف للنص، فهو يعتبر هذا النص نصاً عرفياً، بمعني أنه ذكر فيه المقياس الذي عينه النص، لأنه كان هو المتعارف حين وروده النص، ولوكان المتعارف مقياساً آخر لورد النص بذلك الآخر، لأن مقاييس الكميات تتبع الأعراف، ولتنظر رسالة "نشر العرف فيما بني من الأحكام على العرف" لا بن عابدين رحمه الله. وقد أوضحت هذه المسألة في كتابي المدخل الفقهي العام. (حاشية شرح القواعد الفقهية، ص ۲۲۱، تحت القاعدة: "العادة محكمة").

دوسری مثال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو مت چھیڑو اس کو چھوڑ دو اس کے پاس اپنا مشکیزہ اور جوتا ہے یعنی لقطہ نہ بناؤ ۔ لیکن امام ابو حنیفہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ حدیث اس زمانہ کے عرف پر مبنی ہے بعد والے زمانہ میں عرف بدل گیا اور لوگ اونٹوں کو کھلا نہیں چھوڑتے تھے اس لیے کھلے ہوے اونٹ کو آدمی حفاظت کے پیش نظر پکڑ سکتا ہے تاکہ مالک تک پہنچائے، احادیث میں کتاب اللقطہ میں یہ تفصیل کسی طالبِ علم پر مخفی نہیں ہے ۔
اس کی تیسری مثال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چرواہے کی بھیڑ بکریوں کے پاس پہونچا اور اس کو دودھ کی ضرورت تھی اور چرواہا موجود نہیں تھا تو تین مرتبہ آواز لگا دے اگر چرواہے نے جواب نہیں دیا تو حسبِ ضرورت دودھ نکال کر پی لے یا کسی باغ میں پہونچا اور مالک کو نہیں پایا تو تین مرتبہ اعلان کر لے اگر مالک نے جواب نہیں دیا تو پھل توڑ کر کھا لے ہاں جھولی میں بھر کر نہ لے جائے ۔ شارحین حدیث نے اس حدیث کے دیگر جوابات کے علاوہ ایک جواب یہ بھی دیا ہے کہ یہ حدیث اُس زمانہ کے عرف و عادت کی غمازی کرتی ہے، اُس زمانہ میں آنے والا مہمان یہ چیزیں بقدرِ ضرورت لے سکتا تھا ۔ جیسا کہ علامہ عینی رحمه الله نے فرمایا:
والثالث: أن ذلك محمول على ما إذا علم طيب نفوس أرباب الأموال بالعادة أو بغيرها. (عمدة القاري: ۹/۱۷٤، دار الحديث ملتان).
مفتی تقی صاحب نے بھی اسی طرح لکھا ہے، ملاحظہ ہو:
أن هذه المسائل تدور على العرف والعادة وكانت عادة أهل الحجاز والشام المسامحة في مثل هذا، بخلاف البلاد الأخرى. (تكملة فتح الملهم: ۲/٦۲۷).
بعد میں عرف بدل گیا اور اب مہمان ان چیزوں کو بغیر اجازت کے نہیں لے سکتا ۔

قال العلامة العيني رحمه الله: وقال جمهور العلماء وفقهاء الأمصار، ومنهم الأئمة أبو حنيفة رحمه الله ومالك رحمه الله والشافعي رحمه الله وأصحابهم: لا يجوز لأحد أن يأكل من بستان أحد ولا يشرب من لبن غنمه إلا بإذن صاحبه. (عمدة القاري: ۹/۱۷٤، دار الحديث ملتان).

(۲) دوسری قسم: وہ نصوص و احادیث ہیں جن میں کسی چیز کی ممانعت اس چیز کی ذاتی قباحت کی وجہ سے ہو وہ چیز ہر حال میں ممنوع رہے گی جیسے ربا، قمار، غرر اور دھوکا والے عقود اس قبیل سے ہیں ۔
(۳) تیسری قسم: وہ احادیث ہیں جن میں کسی چیز کی ممانعت نزاع اور جھگڑے پیدا ہونے کی وجہ سے ہو پھر اگر جھگڑا پیدا نہ ہوتا ہو تو ممانعت نہیں رہے گی، بلکہ اس کی گنجائش ہو گی ۔ جس کی ایک مثال بخاری شریف جلد اول ص ۲۹۲ پر ہے کہ لوگ پکنے سے پہلے پھلوں کو فروخت کرتے تھے پھر کبھی پھلوں کو مختلف قسم کی بیماریاں لگ جاتی تھیں اور مشتری ثمن کے دینے میں لیت و لعل کرتا تھا اور بائع پوری قیمت مانگتا تھا، جب رسول اللہ ﷺ کے پاس اس قسم کے نزاعات آنے لگے تو فرمایا میرا مشورہ یہ ہے کہ پکنے سے پہلے مت بیچو، معلوم ہوا کہ بیع ثمر بعرف الابقاء کی ممانعت جھگڑے پیدا ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ بطورِ مشورہ فرمایا تھا یہ قطعی ممانعت نہیں تھی ۔ صحیح بخاری میں ایک روایت یوں مذکور ہے:

واشتري نافع بن الحارث داراً للسجن بمكة من صفوان بن أمية على إن عمر رضي الله عنه رضي بالبيع فالبيع بيعه وإن لم يرض عمر رضي الله عنه فلصفوان أربع مائة دينار. (رواه البخاري: ۱/۳۲۷).

یعنی رافع بن الحارث نے مکہ مکرمہ میں ایک مکان جیل بنانے کے لیے صفوان بن امیہ سے خریدا بشرطیکہ اگر حضرت عمر
رضي الله عنه
راضی ہوں تو بیع و شرا ان کے لیے اور اگر راضی نہ ہوں تو میرے لیے ہے ۔ یہ بیع بشرط ہے اور صفقۃ فی صفقۃ ہے شارحین نے اس کے متعدد جوابات دیے ہیں لیکن حضرت شاہ صاحب رحمه الله فیض الباری میں فرماتے ہیں:

وقد علمت أن الفساد إذا كان لا جل مخافة النزاع لا يسري إلى العقد إذا لم يرفع أمره إلى القضاء أما إذا كان لكونه معصية فيلزم حينئذٍ والمذكور في الحديث من النحو الأول. (فيض الباري: ۳/۲۲۳).

اس کی تعلیق میں مولانا بدرِ عالم صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:

وفي جامع الفصولين: من اشتري حزمة من الحطب له أن يشترط حمله إلى البيت وفي الهداية: أن ما تعارف الناس عليه من الشرائط تتحمل في البيوع. قلت: لأنه لا تفضي إلى النزاع. (۳/۲۲۳).

امام ترمذی رحمه الله نے صفقۃ فی صفقۃ کی تین تفسیریں فرمائی ہیں جن میں سے نمبر ۳ کو میں چھوڑتا ہوں کیوں کہ وہ خالص سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے صراحۃً باطل اور حرام ہے ۔
پہلی تفسیر یہ ہے کہ زید کہ دے کہ یہ چیز نقد پر سو درہم میں اور دو ماہ کے ادھار پر دو سو درہم میں ہے، اور عمر نے کہا میں نے قبول کیا اور ایک جانب کو متعین نہیں کیا اب یہ معاملہ قابل نزاع ہے مثلاً مشتری کہے گا میں ۲ ماہ کے بعد دو سو دوں گا، بائع کہتا ہے کہ مجھے فی الحال ۱۰۰ درہم چاہیے ۔
دوسری تفسیر جو امام شافعی رحمه الله سے مروی ہے اور شاہ صاحب رحمه الله نے العرف الشذی میں فرمایا:
نقل صاحب المشكاة عن الخطابي رحمه الله تفسير بيعتين في بيع مثل ما ذكر الترمذي رحمه الله عن الشافعي رحمه الله وهو المختار وهو تفسير أبي حنيفة رحمه الله في كتاب الآثار انتهى، ذكره في باب النهي عن بيعتين. (العرف الشذي على هامش الترمذي: ۱/۲۳٤)
اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ زید کہ دے کہ اے عمر میں آپ کو اپنا فلاں مکان ایک لاکھ رینڈ میں فروخت کرتا ہوں بشرطیکہ آپ مجھے اپنا خاص گھوڑا ۵۰ ہزار میں بیچ دے، عمر نے قبول کیا، اتفاق سے عمر کا گھوڑا مر گیا اب زید کہتا ہے کہ میں اپنا مکان نہیں دوں گا یا ایک لاکھ بیس ہزار میں دوں گا کیونکہ مجھے میرا مرغوب گھوڑا نہیں ملا، ظاہر بات ہے کہ یہ جھگڑا اور نزاع ہے لیکن جن صورتوں میں عرفاً نزاع پیدا نہیں ہوتا یا مذکورہ صورتوں میں نزاع نہ ہو وہاں گنجائش ہو گی ۔
اصول اور فقہ کی کتابوں میں: "
أعتق عبدك عني بألف درهم"
وارد ہے اس میں مخاطب سے ایک ہزار میں عبد کی خرید اور پھر وکالت بالاعتاق کا ذکر ہے لیکن چونکہ اس میں کوئی نزاع نہیں اس لیے جائز ہے ۔
اسی طرح حضرت تھانوی رحمه الله نے سائل کے جواب میں جن بعض معاملات کو جائز فرمایا ان میں عرف میں کوئی نزاع واقع نہیں ہوتا اس لیے جائز فرما

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.