بینک کے عقدِ مرابحہ پر دوسرا اشکال اور حیلہ کا حکم:
Question
بینک کے ذریعہ بیعِ مرابحہ کا اصل مقصد و خلاصہ تو یہ ہے کہ بینک نے زید کو ایک لاکھ رینڈ دیے اور ایک لاکھ پچاس ہزار وصول کرے گا جو صریح سود ہے اس کے جواز کے لیے مرابحہ کا سہارا لینا کہاں تک درست ہے؟
Answer
مشتری زید کا مقصد قرض لینا نہیں بلکہ اس کو کوئی مشین چاہیے لیکن اس کے پاس رقم نہیں تو مشین کے حصول کے دو طریقے ہیں: ۔ ایک یہ کہ وہ قرض لے کر زائد رقم ادا کر دے اور قرضہ کی رقم سے مشین خرید لے یہ تو صریح سود ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ بینک کے ذریعہ سے مشین مرابحہ کے طور پر خرید لے ۔ یہ دوسرا طریقہ سود نہیں بلکہ سود سے بچنے کی تدبیر ہے اور معاملات میں خود آپ ﷺ نے اس قسم کی تدبیر سکھائی ہے، وہ واقعہ سب کو معلوم ہے کہ ایک صحابی نے دو ادنی صاع کھجور کے عوض ایک صاع عمدہ کھجور خرید لی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو سود قرار دے کر مسترد فرمایا اور یہ تدبیر بتلائی کہ دو صاع کھجور درہم کے عوض فروخت کریں اور جو درہم مشتری کے ذمہ لازم ہوا اس کے بدلے ایک صاع عمدہ کھجور خرید لے، دونوں عقود کا خلاصہ ایک ہے لیکن اس تدبیر سے معاملہ جائز ہوا ۔
حیلوں کی اقسام اور ان کا حکم:
ہر حیلہ ناجائز نہیں بلکہ جس حیلے کا مقصد کسی حکم شرعی کو باطل کرنا یا کسی کا حق مارنا ہو تو وہ حیلہ شرعاً ناجائز ہے، اگر کوئی زکوۃ کے حکم کو باطل کرنے کے لیے حولانِ حول سے کچھ پہلے اپنا مال بیوی کو ہبہ کرے اور پھر بیوی حولانِ حول سے پہلے پوری رقم شوہر کو ہبہ کرے تو اس تدبیر کا مقصد حکم شرعی کو باطل کرنا اور فقراء کے حق پر چھری پھیرنا ہے لہذا یہ ناجائز ہے ۔
یا جس طرح بنی اسرائیل کو یوم السبت میں مچھلی کے شکار سے منع کیا گیا تھا، اس حکم کا مقصد یوم السبت کو شکار کے حصول کا ذریعہ بنانے کی ممانعت تھی، لیکن انہوں نے یوم السبت میں مچھلیوں کو مختلف تالابوں میں جمع کر کے واپسی کا راستہ بند کر دیا اور اتوار کو پکڑنے لگے، یہ شکار کرنے کے جواز کا حیلہ تھا ۔ لیکن یہ شرعی حکم کو باطل کرنے کے مترادف تھا، کیوں کہ یوم السبت شکار کا ذریعہ بن گیا تھا ۔ (بلکہ بعض حضرات کے نزدیک ان کو بند باندھنے سے بھی منع کیا گیا تھا)
یا جیسے کسی کو کسی پر ہاتھ اٹھا کر مارنے سے منع کیا جائے اور وہ اس کو لاتیں مارنا شروع کرے تو اس صورت میں مقصد تو ظاہر ہے فوت ہو گیا ۔
یا یہود پر چربی حرام کر دی گئی تھی جیسا کہ صحیح بخاری میں مذکور ہے ۔ تو انہوں نے پگلا کر بیچنا شروع کر دیا چونکہ پگلانے سے شے کی حقیقت نہیں بدلتی بلکہ وہ چربی ہی ہے اس لیے یہ حیلہ ممنوع اور ناجائز ہوا ۔
ہاں اس حیلہ میں کوئی حرج نہیں جس میں کسی کو حرام سے بچانا مقصود ہو، جیسے مبسوط سرخسی میں ہے:
"فالحاصل أن ما يتخلص به الرجل من الحرام أو يتوصل به إلى الحلال من الحيل فهو حسن. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۳۰/۲۰۹).
اسی طرح صاع والا حیلہ بھی حدیث میں سکھایا گیا، جیسا کہ شیخین کی روایت میں مذکور ہے ۔
نیز وہ حیلہ بھی ممنوع نہیں ہے جس میں کسی بے گناہ کو بچانا مقصود ہو جیسے بقول مفسرین حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی کے مارنے کے لیے بجائے کوڑوں کے جھاڑو کو استعمال کیا گیا تاکہ قسم پوری ہو جائے یا کسی کی جان بچانے کی ضرورت ہو یہ بھی ممنوع نہیں ہے، جیسے اس شخص کا قصہ جو نہایت کمزور تھا اور اس سے زنا کا صدور ہوا تھا چونکہ کوڑوں کا تحمل نہیں کر سکتا تھا اس لیے اس کی پٹائی قمچیوں کے ایک گٹھے سے کی گئی تاکہ اس کی جان بچ جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.