بینک کے توسط سے مکان خریدنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #112Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (٤): مرابحه اور بينك سے متعلق احكام كا بيان

Question

ایک آدمی بینک کے ذریعہ مکان خریدتا ہے، اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ بینک سے سودی قرضہ لے کر مکان خرید لے، دوسری صورت یہ ہے کہ بینک مکان ۵ لاکھ میں خرید کر ضرورت مند آدمی کو ٦ لاکھ مؤجل میں فروخت کر دے، دونوں صورتوں میں سے کون سی صورت اختیار کرنا چاہیے؟

Answer

دوسری صورت اختیار کر لے، اس لیے کہ بینک سے سودی قرضہ لینا عام حالات میں جائز نہیں ہے، جب کہ دوسری صورت مرابحہ کی ہے اور مرابحہ میں یہ جائز ہے، بشرطیکہ عقد میں یہ بیان ہو جائے کہ ہر قسط میں اتنی رقم مزید لی جائے گی ۔ ملاحظہ ہو ایضاح المسائل میں ہے:
بینک کے توسط سے گاڑی وغیرہ خریدنے کے لیے جواز کی بہترین اور آسان شکل یہ ہے کہ خریدار کے ساتھ بینک اپنے کسی آدمی کو بھیج دے، اور وہی کمپنی سے مثلاً ایک لاکھ میں سودا طے کر لے، تواب ایک لاکھ کی گاڑی بینک کی ہو گئی، اور پھر وہیں پر بینک کا بھیجا ہوا آدمی بینک کے ضابطہ کے مطابق ایک لاکھ دس ہزار میں خریدار کے حوالہ کر دے، اور بعد میں بینک قسطوار خریدار سے ایک لاکھ دس ہزار وصول کرتا رہے گا، تو شرعی طور پر ایسی شکل جائز ہے ۔ (فتاوی عالمگیری: ۲/۱٦۰) ۔
ایک شکل یہ بھی اختیار کی جا سکتی ہے کہ بینک اپنا آدمی نہ بھیجے بلکہ خریدار کو اپنا وکیل بنا کر بھیجے، اور خریدار ایک لاکھ روپے میں خرید کر بینک کے حوالہ کر دے، اس کے بعد پھر بینک اسی وقت ایک لاکھ دس ہزار میں خریدار کے ہاتھ فروخت کر دے، اور یہ شخص بینک کے طے شدہ ضابطہ کے مطابق مقرر کردہ مدت کے اندر اندر ایک لاکھ دس ہزار قسطوار ادا کرتا رہے، تو شرعی طور پر ایسا معاملہ جائز اور درست ہے ۔ (مستفاد از امداد الفتاوی: ۳/۱۲۵) ۔ (ایضاح المسائل، ص ۱۵۸، بینک کے قرضہ سے گاڑی خریدنا، اضافہ شدہ) ۔
فتاوی شامی میں ہے:

علله الحانوتي بالتباعد عن شبهة الربا لا نها في باب الربا ملحقة بالحقيقة، ووجهه أن الربح في مقابلة الأجل، لأن الأجل وإن لم يكن مالاً، ولا يقابله شيء من الثمن، لكن اعتبروه مالاً في المرابحة إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن، فلو أخذ كل الثمن قبل الحلول كان أخذه بلا عوض. (فتاوى الشامي: ٦/۷۵۷، قبيل كتاب الفرائض، سعيد. وكذا ۵/۱٤۲، باب المرابحة، سعيد).
البحر الرائق
میں ہے:

وجوابه أن الأجل في نفسه ليس بمال فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصداً ويزاد في الثمن لا جله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصداً فاعتبر مالاً في المرابحة احترازاً عن شبهة الخيانة. (البحر الرائق: ٦/۱۱۵، باب المرابحة، كوئته).

مزید ملاحظہ ہو: (غیر سودی بینکاری: ۷۸ ۔ و کفایت المفتی: ۸/۵٤ ۔ واسلام اور جدید معاشی مسائل: ۵/۹۰، ۳/۱۱۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل دوم
اسلامی بینک کا طریقہ کار

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.