ری پوزیسٹ کے اموال خریدنے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے غیر مسلم بینک سے گاڑی خریدنے کے لیے رقم حاصل کی، بینک نے یہ شرط لگائی کہ اتنی مدت تک ادا نہیں کرو گے تو گاڑی ضبط کر لی جائے گی، پھر شرطِ مذکور کی بنا پر بینک نے گاڑی ضبط کر لی اب وہ گاڑی بینک سے خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ جس کو عرف میں ری پوزیسٹ (Repossessed) کہا جاتا ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
اگر غیر مسلم بینک نے مشتری کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہو کہ اتنے اقساط ادانہ کرنے کی صورت میں ہم گاڑی ضبط کریں گے، تو یہ تعزیر بالمال کی طرح ہے اور اس کی گنجائش بعض علماء کے نزدیک موجود ہے، اور اس صورت میں بینک یا کوئی ادارہ اس گاڑی کا مالک بن گیا اس سے خریدنا درست ہوگا، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے حکومت کے استیلاء کو سببِ ملک قرار دیا ہے، جس کی تفصیل دوسری جگہ گزر چکی ہے، نیز تعزیر بالمال کا مسئلہ بھی فتاوی دار العلوم زکریا کی جلد چہارم میں گزر چکا ہے ۔
لیکن اگر بینک کسی قرض کے نا دہندہ پر کچھ ماہ قسط ادانہ کرنے کی وجہ سے جرمانہ لاگو کرے تو یہ ناجائز اور سود ہے، اس لیے کہ جاہلیت میں قرض نا دہندہ پر قرض کی تاخیر کی وجہ سے جرمانہ لگاتے تھے اور اسی کو ربا قرآنی کہتے ہیں یعنی "
زيادة القرض لزيادة الأجل
۔
مذکورہ بالا سوال میں ایک شکل یہ ہے کہ بینک یا کوئی دوسرا ادارہ گاڑی کو واپس لے کر اصل ثمن واپس کر دے، بعض مشائخ کے قول سے اس کے جواز پر بھی روشنی پڑتی ہے حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمه الله رقم طراز ہیں:
مشتری ثمن ادانہ کرے اور نہ ہی اقالہ کرے تو بائع کو فسخ بیع کا اختیار ہے، مشتری کی طرف سے عدم ادا ثمن کو عدم رضا اور فسخ سمجھ آ جائے گا، لہذا فسخ بائع سے جانبین کی طرف سے فسخ متحقق ہو جائے گا ۔ (احسن الفتاوی: ٦/۵۰٦) ۔
البحر الرائق و ہدایہ میں ہے:
لما تعذر استيفاء الثمن من المشتري فات رضا البائع فيستقل بفسخه. (البحر الرائق: ۷/۳٦، كوئته. وكذا في الهداية: ۳/۱٤۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.