بونڈ پر مکان خریدنے کا حکم:
Question
کیا مکان کو بونڈ پر خرید سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
بونڈ کی تعریف انسائیکلوپیڈیا برطانکا میں اس طرح مرقوم ہے:
The term `Bond' has been defined in the encyclopedia Brittanica vol 2; pg 140; as follows:
A loan contract issued by local, state, and national governments, and by private corporations specifying an obligation to return borrowed funds. The borrower promises to pay interest on the debt when due (usually semi-annually) at a stipulated percentage of the Face value of the bond.
وہ قرضہ ہے جو کسی حکومت یا کمپنی کی طرف سے اس شرط پر دیا جائے کہ قرض دار اس قرضہ کو سود کی ایک خاص مقدار کے ساتھ ادا کرے گا ۔
اس تعریف سے معلوم ہوا کہ بونڈ لینا ایک سودی معاملہ ہے جو موبِ قات میں سے شمار ہوتا ہے بلا شدید مجبوری سودی قرض لینے کی اجازت نہیں ہے ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
سود لینا اور دینا دونوں ہی گناہ اور معصیت ہے، اس لیے اصولی طور پر ظاہر ہے کہ سودی قرض لینا درست نہ ہوگا، مگر کبھی کبھی ایسے قرض لینا ضرورت بن جاتی ہے اور تجارت، کاشت اور کاروبار کے لیے ایسے قرض لینا ناگزیر ہو جاتا ہے، ان حالات میں بدرجۂ ضرورت ایسے قرض لینے کی اجازت ہو گی، البتہ یہ اجازت اسی وقت ہو گی جب آدمی اس کے لینے پر اس طرح مجبور ہو جائے کہ نہ لے تو کوئی ذریعہ معاش فراہم نہ ہو اور بنیادی ضرورتوں، کھانا، کپڑا اور مکان کی تکمیل بھی ممکن نہ رہ سکے، نہ کہ محض تعیش، آرام طلبی اور معاشی معیار بلند کرنے کے لیے ایسا کرے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲٤۸) ۔
چنانچہ علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله فرماتے ہیں:
وفي القنية، والبغية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح. (الأشباه والنظائر: ۱/۲٦۷).
علامہ حموی رحمه الله اس عبارت کی شرح کرتے ہوے لکھتے ہیں:
وذلك نحوه أن يقترض عشرة دنانير مثلاً ويجعل لربها شيئاً معلوماً في كل يوم ربحاً. (حاشية الحموي على الأشباه: ۱/۲٦۷، القاعدة الخامسة الضرر يزال).
وفي الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنه، لعن رسول الله ﷺ آكل الربا ومؤكله وكاتبه وشاهده، وقال: "هم سواء" ولا يحل إلا عند الضرورة الملجئة، استناداً للقاعدة الفقهية [الضرورات تبيح المحظورات] التي استمدت حجيتها من الآية الكريمة: ﴿إنما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير
فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا إثم عليه﴾ [البقرة: ۱۷۳] فمن ألجأته الضرورة إلى الأكل من هذه المحرمات فيباح له ذلك بشرط أن يأكل منها غير قاصد التلذذ، ولا يتعدى في مقدار ما يأكل حد الضرورة، بل يقصد دفع الضرورة وحفظ الحياة، فالضرورات تقدر بقدرها،
وهذا الحكم أيضاً ينسحب على الربا، فهو محظور لا يحل إلا في حال الضرورة الملجئة. (الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/۲۵۰، أنواع الربا، الضرورات تبيح المحظورات).
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سودی قرض کی گنجائش فقط ضرورت اور مجبوری کی حالت میں ہے جس وقت حرام بھی حلال ہو جاتا ہے، عام حالات میں اس کی گنجائش نہیں ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.