ٹیلیفون کمپنی کے ساتھ مضاربت کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #399Urdu
Vol. 5كتاب المضاربةمضاربت کے احکام کا بیان

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں: ۔
ایک آدمی کو حکومت کی طرف سے ٹیلیفون کمپنی چلانے کے لیے لائسنس ملا ہے، اس کی فیس تقریباً ۰۰۰، ۲۰ ڈالر ادا کیے، اس آدمی نے لائسنس کے حصول کے لیے بہت کوشش کی اور پیسہ بھی صرف کیا، اور تجارت چلانے کے لیے ایک کمپنی شروع کی، لیکن مشینیں وغیرہ خریدنے کے لیے کافی رقم کی ضرورت ہے، اگر یہ شخص دس آدمیوں سے کہہ دے کہ تم میں سے ہر ایک مجھے ۱۵۰۰۰ ڈالر دے دے اس شرط پر اس تجارت سے جتنا بھی فائدہ ہوگا اس کا متعین فیصد تم کو ادا کروں گا، اور ایک سال کے بعد راس المال مع نفع ادا کر دیا جائے گا، اور یہ شرط بھی لگائی کہ دس آدمیوں میں سے تجارت میں کسی کا بھی دخل نہیں ہوگا، اور یہ شخص اپنی مرضی کے مطابق تجارت کرے گا ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک سال کے لیے اس کمپنی میں پیسہ لگائے، اور ایک سال کے بعد راس المال مع منافع واپس لے؟
اور کیا یہ راس المال مضمون ہوگا یا نہیں؟ کیا ایسا عقد جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ (الف) یہ معاملہ مضاربت کا ہے، اور یہ جائز ہے، مضاربت کا مطلب یہ ہے ایک شخص کی طرف سے مال اور دوسرا عمل کرے گا، نفع شرط کے مطابق فیصد کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا، ہاں کسی کے لیے رقم معین کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح راس المال کا فیصد لینا بھی جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ سود کے حکم میں ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

المضاربة

شرعاً عقد شركة في الربح بمال من جانب رب المال وعمل من جانب المضارب. وفي رد المحتار: قوله من جانب المضارب قيد به لأنه لو اشترط رب المال أن يعمل مع المضارب فسدت. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/ ٦۴۵، كتاب المضاربة، سعيد).
وفيه أيضاً: ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية: كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتباراً بالوكالة

(ويملك المضارب في المطلقة) التي لم تقيد بمكان أو زمان أو نوع (البيع)

(بنقد ونسيئة متعارفة والشراء والتوكيل بهما والسفر براً وبحراً). (الدر المختار: ۵/ ٦۴۸، سعيد).

(ب) ایک سال کے لیے مضاربت جائز ہے ۔ اس کو مضاربتِ موقتہ کہتے ہیں، اس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے ۔
(ج) راس المال مضمون نہیں ہوگا، بلکہ مضارب اس میں امین کی حیثیت سے کام کرے گا، جب تک تعدی نہ پائی جائے، اگر مضارب کی تعدی کے بغیر کوئی نقصان ہو جائے تو سب سے پہلے نفع سے تلافی کی جائے گی، پھر اگر نفع کافی نہ ہو تو راس المال سے تلافی کی جائے گی ۔
علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قوله بطل الشرط كشرط الخسران على المضارب. (فتاوى الشامي: ۵/ ٦۴۸، سعيد).
وفي الدر المختار: وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح لأنه تبع فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن ولو فاسدة من عمله لأنه أمين، وفي رد المحتار: قوله ولو فاسدة أي سواء كانت المضاربة صحيحة أو فاسدة، وسواء كان الهلاك من عمله أولا، ح (قوله من عمله) يعني المسلط عليه عند التجار، وأما التعدي فيظهر أنه يضمن سائحاني. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/ ٦۵۶، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.