رب المال پر عمل کی شرط لگانے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #378Urdu
Vol. 5كتاب المضاربةمضاربت کے احکام کا بیان

Question

اگر ایک شخص نے دوسرے کو مال دیا اور عقدِ مضاربت کیا اس طور پر کہ جو نفع ہوگا وہ دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کیا جائے گا، لیکن یہ شرط لگائی کہ رب المال یعنی مالک بھی مضارب کے ساتھ کام کرے گا، تو ایسا عقدِ مضاربت درست ہے یا نہیں؟ اگر درست نہیں ہے تو درست کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ عقدِ مضاربت فاسد اور باطل ہے اس لیے کہ مالک پر عمل کی شرط لگانے سے عقدِ مضاربت باطل ہو جاتا ہے۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

واشتراط عمل رب المال مع المضارب مفسد للعقد لأنه يمنع التخلية فيمنع الصحة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٦۵٤، كتاب المضاربة، سعيد. وشرح المجلة: ٤/۳۳۱، المادة: ۱٤۱۰).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

المضاربة تفسد بأشياء

ومنها إذا شرط في المضاربة عمل رب المال مع المضارب لأن ذلك يمنع التخلية بين المال والمضارب. (فتاوى قاضيخان بهامش الهندية: ۳/۱٦۱، كتاب المضاربة).
وفي الفتاوى الهندية: فإن شرطا أن يعمل رب المال مع المضارب تفسد المضاربة سواء كان المالك عاقداً أو غير عاقد. (الفتاوى الهندية: ٤/۲۸٦، كتاب المضاربة. وبدائع الصنائع: ۸۵، سعيد).

عقدِ مضاربت فاسد ہونے کے بعد اس کی تصحیح کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اس عقد کو عقدِ شرکت میں تبدیل کر دے، اس طور پر کہ اگر رأس المال مثلاً دس ہزار رینڈ ہو تو رب المال اس میں سے کچھ مضارب کو بطورِ قرض دے دے، اور مضارب اس رقم کو رأس المال میں بطورِ شرکت جمع کر دے جو نفع حاصل ہوگا وہ دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوگا، اور جب یہ عقد ختم ہو جائے گا تو رب المال اپنا قرض وصول کر لے گا۔
مجلہ میں ہے:

لا يشترط في الشريكين شركة عنان كون رأس مالهما متساوياً بل يجوز كون رأس مال أحدهما أزيد من رأس مال الآخر وكل واحد منهما لا يكون مجبوراً على إدخال جميع نقده إلى رأس المال بل يجوز أن يعقد الشركة على مجموعه أو على مقدار منه فبهذه الجملة يجوز أن يكون لهما فضلة على رأس مالهما تصلح أن تكون رأس مال شركة كنقدهما مثلاً. (مجلة مع شرحها لمحمد خالد الأتاسي: ٤/۲۹۲، المادة: ۱۳٦۵).

در مختار میں ہے:

وأما عنان

ولذا تصلح عاماً وخاصاً ومطلقاً ومؤقتاً ومع التفاضل في المال دون الربح وعكسه وببعض المال دون بعض. وفي رد المحتار: قوله ومع التفاضل في المال دون الربح أي بأن يكون لأحدهما ألف وللآخر ألفان مثلاً واشترطا التساوي في الربح. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۳۱۱، ۳۱۲، سعيد. وبدائع الصنائع: ٦/٦۲، سعيد).
وفي الفقه الحنفي وأدلته: شركة العنان لا تقتضي التساوي، فيصح التفاضل بينهما بالمال ويصح التساوي في المال ويتفاضلان في الربح لأن الربح تارة يستحق بالمال وتارة بالعمل بدلالة المضاربة. (الفقه الحنفي وأدلته، ص ۱۰٤، بيروت).

جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
دو یا زیادہ افراد اس طرح شریک ہوں کہ ہر ایک کا سرمایہ عمل، حقوق و نفع مساوی نہ ہوں، اس میں ہر شریک دوسرے کا صرف وکیل ہوتا ہے کفیل نہیں ہوتا، مثال کے طور پر اگر زید اور عمر مل کر شرکت کریں اور زید ایک ہزار روپے کا سرمایہ لگائے اور عمر ڈیڑھ ہزار روپے کا سرمایہ لگائے اور منافع بھی اس تناسب سے طے کر لیں تو یہ شرکتِ عنان کہلائے گی۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام:
۲
/
۲۳
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.