عقدِ مضاربت میں نفع متعین کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 5 #381Urdu
Vol. 5كتاب المضاربةمضاربت کے احکام کا بیان

Question

حامد کمیشن ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرتا ہے، محمود نے اس کو بیس لاکھ رینڈ دیے، کہ وہ اس رقم سے شرعی طریقہ پر تجارت کرے، اور یہ شرط لگائی کہ ایک سال میں چار لاکھ رینڈ سے زیادہ نفع ہو گا تو چار لاکھ سے اوپر مزید رقم مضارب اور رب المال کے درمیان %۵۰ کے حساب سے تقسیم ہو گی، مثلاً حامد اگر چھ لاکھ رینڈ نفع کمائے تو اسے ایک لاکھ ملیں گے، لیکن اگر صرف چار لاکھ کمائے گا تو اسے کچھ نہیں ملے گا، شیئرز کی خرید و فروخت میں اگر نقصان ہو جائے تو مالک برداشت کرے گا۔ اب اس کا کیا حکم ہے؟ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

مسئلہ بالا کا ماحصل یہ ہے کہ تجارت میں جو بھی نفع ہوگا اس میں سے راس المال کا بیس فیصد رب المال کو ملے گا، اور بیس فیصد کے اوپر مزید جو بھی نفع ہو، اس میں مضارب اور مالک دونوں شریک ہوں گے، اور فقہاء نے تحریر فرمایا ہے کہ وہ تمام صورتیں جن میں ایک فریق کے لیے نفع کی کچھ مقدار متعین کی جائے، یا نفع کی کوئی خاص مقدار مستثنی کرنے کے بعد تقسیم کی جائے یہ سب ناجائز ہیں، کیوں کہ ممکن ہے کہ متعین مقدار سے زیادہ نفع نہ ہو تو ایک فریق محروم ہوگا۔ نیز کسی ایک کے لیے راس المال کا فیصد متعین کرنا بھی ناجائز ہے۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

ومن شرطها: أن يكون الربح بينهما مشاعاً لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح، لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما، ولا بد منها كما في عقد الشركة. وفي فتح القدير: لأن اشتراط دراهم مسماة لأحدهما يتمشي في صور متعددة مذكورة في معتبرات الفتاوى كالبدائع والذخيرة وغيرهما: منها أن شرطا أن يكون لأحدهما مائة درهم من الربح أو أقل أو أكثر والباقي للآخر، ومنها: أن شرطا لأحدهما نصف الربح أو ثلثه إلا عشرة دراهم، ومنها: أن شرطا لأحدهما نصف الربح أو ثلثه ويزاد عشرة، وفي كل ذلك تفسد المضاربة بناء على أن كل واحد من الشروط المزبورة يقطع الشركة في الربح لأنه ربما لا يربح إلا القدر المسمى أو أقل كما صرحوا به. (الهداية مع فتح القدير: ٤٤۸، ٤٤۹، كتاب المضاربة، دار الفكر).

شرح مجلہ میں ہے:

الثاني أن يكون جزء اً شايعاً قل أو كثر كالنصف أو الثلث لأن الشركة في الربح إنما تتحقق به حتى لو شرطا لأحدهما مائة من الربح مثلاً أو مائة مع الثلث أو الثلث إلا مائة والباقي للآخر لم تجز المضاربة لأنه يؤدي إلى قطع الشركة في الربح لجواز أن لا يربح إلا ذلك القدر. زيلعي، وحاشية للشلبي. الثالث: أن يكون المشروط للمضارب مشروطاً من الربح حتى لو شرطا شيئاً من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت المضاربة كما في الهندية عن المحيط. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: ٤/۳۳۳، تحت المادة: ۱٤۱۱).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

المضاربة تفسد بأشياء منها إذا شرط لأحدهما من الربح ما يقطع الشركة نحو أن يجعل له دراهم مسماة مائة أو أقل أو أكثر فسدت. (فتاوى قاضيخان بهامش الهندية: ۳/۱٦۱، كتاب المضاربة).
وللاستزادة انظر: (بدائع الصنائع: ٦/۸٦، سعيد).

جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
آج کے دور میں شرکت کی ایک صورت یہ بھی چل نکلی ہے کہ ایک چلتی دکان یا فیکٹری وغیرہ کا مالک اپنے رشتہ داروں یا جاننے والوں سے کہتا ہے کہ تم کاروبار میں اتنی رقم شامل کرو تو ہر مہینہ تمہیں اتنا فیصد نفع ملے گا، وہ رقم شامل کرتا ہے اور ہر ماہ اس کو نفع کی مقررہ مقدار مل جاتی ہے اس کو عام طور پر لوگ جائز کاروبار سمجھتے ہیں، حالانکہ اس میں کئی خرابیاں ہیں۔
(۱) کسی بھی کاروبار میں سرمایہ پر نفع متعین کر کے دینا یہ قرض دے کر سود وصول کرنے کے حکم میں داخل ہے جو صریح حرام ہے۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام:
۲
/
۲۵
)۔
البتہ عقدِ مضاربت کی صحیح اور جائز صورت یہ ہے کہ حامد اور محمود کے درمیان نفع فیصد کے اعتبار سے طے کیا جائے، مثلاً جو بھی نفع ہو محمود ۸۰% فیصد اور حامد ۲۰% فیصد لے گا، تو یہ جائز اور درست ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.